outline

جمال خشوگی کوشہزادہ محمد بن سلمان کے حکم پر قتل کیا گیا ،ترک پولیس کا باقیات ڈھونڈنے کے لیئے جنگل میں آپریشن

برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کے سابق انٹیلی جنس چیف نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی جرنلسٹ جمال خشوگی کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے احکامات پر قتل کیا گیا ہے جبکہ ترک پولیس کی جانب سے مقتول صحافی کی باقیات ڈھونڈنے کے لیئے جنگل میں آپریشن کیا جا رہا ہے

ایم آئی فائیو کے سابق چیف جان سیور نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ترک اور برطانوی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق یہ قتل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے کہنے پر کیا گیا اور اس قسم کی کہانیوں میں کوئی صداقت نہیں کہ سعودی فوج کے چند باغی افسروں نے یہ حرکت اپنے طور پر کی

ادھر ترک پولیس نے تحقیقات کے دوران تلاش کا دائرہ بڑھا دیا ہے اور اب اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ شاید جمال خشوگی کی لاش کو قریبی جنگل یا کھیتوں میں ٹھکانے لگایا گیا ہو۔

رواں ہفتے سعودی قونصل خانے اور قونصل جنرل کی رہائش گاہ سے حاصل کیے گئے نمونوں کا موازنہ جمال خاشقجی کے ڈی این اے سے کیا جائے گا۔

دوسری جانب جمعرات کو سینیئر ترک حکام نے اے بی سی نیوز کو امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے صحافی کے مبینہ قتل کے ایک آڈیو ریکارڈنگ سنی ہے۔

ترکی کا اس سے پہلے کہنا تھا کہ اس کے پاس جمال خاشقجی کے قتل کے آڈیو اور ویڈیو ثبوت موجود ہیں تاہم تاحال یہ سامنے نہیں لائے گئے۔

حکومت کے قریب سمجھے جانے والے ترک میڈیا نے اس مبینہ آڈیو کے بارے میں دلخراش تفصیلات شائع کی ہیں۔ ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق اس ریکارڈنگ میں کونسل جنرل محمد ال اُطیبی کے چلانے کی آواز سنی جا سکتی ہے۔

ترک حکومت نواز اخبار ینی شفق کے مطابق سعودی قونصل استنبول بھیجے جانے والے مبینہ سعودی ایجنٹس کو کہتے ہیں کہ ‘یہ باہر جا کر کرو۔ تم مجھے مشکل میں ڈال دو گے۔’

ترک ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے انھوں نے مشتبہ سعودی ایجنٹس کی اس 15 رکنی ٹیم کی شناخت کر لی ہے جو جمال خاشقجی کی گمشدگی کے روز استنبول آئے اور واپس گئے تھے۔

دوسری جانب سعودی عرب کا کہنا ہے کہ جمال خاشقجی کی موت کے بارے میں میں رپورٹس ‘بالکل جھوٹ اور بے بنیاد’ ہیں اور وہ حقائق کا کھوج لگانے کے لیے ‘تعاون کے لیے تیار ہے۔’

خیال رہے کہ انسانی حقوق کی اہم تنظیموں نے بھی ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جمال خاشقجی کے ممکنہ قتل کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ سے مطالبہ کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*