outline

ہر دیگ میں حصہ!-رئوف کلاسرا

یہ لیں جی دو ارب روپے کا نیا سکینڈل۔ سکینڈل نیا لیکن طریقہ واردات پُرانا۔
وہی بات ہمارا حصہ کہاں ہے؟

ان سیاستدانوں اور ان کے ساتھی کاروباریوں کو ہر ڈیل میں اپنا حصہ چاہیے۔ ابھی کل ہی قومی اسمبلی میں شہباز شریف صاحب کو طویل تقریر کرتے دیکھ کر بار بار احساس ہو رہا تھا: خدا نے عزت دی تھی لیکن انہوں نے چند پیسوں کو زیادہ عزیز جانا۔ اب کھڑے وضاحتیں دے رہے ہیں، قسمیں کھا رہے ہیں‘ لیکن ہر چہرے پر لکھا تھا: ان کی باتوں پر کوئی اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ تقریر کے دوران بار بار رک کر آگے پیچھے دیکھتے کہ وہ جو باتیں کہہ رہے ہیں‘ ان کا کچھ اثر ہو رہا ہے یا نہیں؟ پریس گیلری کی طرف بھی اشارہ کیا۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ایسا کون سا وہ جادو دکھائیں یا پھر پارلیمنٹ دکھائے کہ انہیں دوبارہ نیب کی جیل نہ جانا پڑے‘ وہ یہاں سے سیدھا گھر جائیں۔ کوئی ایسا قانون پاس نہیں ہو سکتا کہ انہیں تقریر کے بعد رہا کر دیا جائے؟ فوراً ترمیم لائی جائے اور نیب کو ختم کر دیا جائے؟ سب چالاکیاں، سب جلال، تکبر‘ ہٹو بچو ختم ہو چکا تھا‘ اور شہباز شریف صاحب بار بار آسمان اور سپیکر کی طرف دیکھ کر فریادی انداز میں اپنا کمزور مقدمہ لڑ رہے تھے اور سارا نزلہ نیب کے ایک افسر آفتاب پر گرا رہے تھے۔ یہ انجام ہوا تھا بادشاہت کا کہ ایک نیب افسر آفتاب نے ساری کسر پوری کر دی تھی۔ یہ تھی ہماری اوقات اور ہمارا کروفر‘ ہمارا جاہ و جلال۔
کیا نااہل جہانگیر ترین صاحب جیسے ارب پتی کو ضرورت تھی کہ گھر کے مالی اور کک حاجی خان اور اللہ یار کے نام پر سات کروڑ روپے کا فراڈ کرکے عوام کو لوٹا جاتا؟ لیکن انہوں نے اس لیے لوٹا کہ انہیں اعتماد تھا کہ پکڑے بھی گئے تو اس جرم کی چودہ برس سزا سے بچ جائیں گے۔ ترین صاحب نا صرف جیل سے بچ گئے بلکہ راتوں رات قوم کے محبوب لیڈر بھی بن گئے۔
اور سنیں! ابھی پرانے کھاتے بند نہیں ہوئے کہ ایک نیا کٹا کھل گیا ہے۔ امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے ایک سٹوری بریک کی ہے۔ جب نواز شریف وزیر اعظم تھے تو ایک پارٹی کے ساتھ کے الیکٹرک کے نام پر دو ارب روپے رشوت کی بات چیت چل رہی تھی۔ ثبوت بھی اس رپورٹر نے پیش کیے‘ جن میں وہ ای میلز شامل ہیں‘ جو اس معاملے پر ایک دوسرے کو کی گئی تھیں۔ ایک ای میل میں اشارتاً کہا گیا؛ کیا یہ دو ملین ڈالر چیریٹی کے نام پر دیے جائیں؟ اشارہ شریف ٹرسٹ کی طرف تھا۔ تو کیا اب چیریٹی کے پیچھے یہ منی لانڈرنگ اور کمیشن کی رقومات ہیں؟ کیا ٹرسٹ کے اکائونٹس دو دو ملین ڈالرز جیسی رشوت کی رقومات پارک کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں؟ تو کیا چیریٹی سب فراڈ ہے؟ یہ سب بڑے لوگ جو چیریٹی کرتے ہیں‘ اس کے پیچھے مقصد انسانیت سے محبت کم اور اپنا حرام مال حلال کرانا زیادہ ہوتا ہے؟

مجھے سپریم کورٹ کی ایک ججمنٹ یاد آئی ہے‘ جس میں ایک بڑے آدمی بارے میں کہا گیا: وہ بہت چیریٹی کرتے ہیں‘ لہٰذا ان پر ہاتھ ہولا رکھا جائے۔ جسٹس صاحب نے اپنی ججمنٹ میں لکھا: ایسے لوگوں کو اس لیے چھوڑ دیا جائے اور وہ اربوں روپوں کی لوٹ مار کر لیں کہ وہ چند لاکھ روپے چیریٹی پر لگاتے ہیں‘ کیا اس طرح ان کا جرم کم ہو جاتا ہے؟ اس ججمنٹ میں لکھا تھا: اس چیریٹی کا مقصد یہی لگتا ہے کہ لوگوں کو تاثر دیا جائے کہ وہ کتنے اچھے لوگ ہیں‘ اور وہ جو بڑے بڑے فراڈ کرتے ہیں وہ چھپ جائیں۔

اب یہی سوال حکمرانوں پر بھی اٹھتا ہے۔ انہیں کیا کرنا چاہیے؟ وہ اگر قومی اثاثوں کو نجی سیکٹر کے حوالے کر رہے ہیں تو کیا اس میں بھی دو ارب روپے کا کمیشن لینا ہے‘ اور پیسے چیڑیٹی ٹرسٹ میں شامل کرانے ہیں تاکہ کوئی شک نہ کرے؟

سوال یہ ہے کہ شریف خاندان‘ جو تیس سال سے زائد عرصہ حکمران رہا‘ کو کتنی دولت چاہیے؟ کتنا کمیشن چاہیے تاکہ ان کا پیٹ بھر جائے؟ دنیا کے پانچ براعظموں میں جائیدادیں بنانے کے بعد بھی انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ہر ڈیل سے انہیں دو کروڑ ڈالرز کا حصہ چاہیے؟ چلیں مان لیتے ہیں‘ کارپوریٹ سیکٹر کا کام ہی یہ ہے کہ روزانہ کیسے کمزور اور ان پڑھ لوگوں کو لوٹا جائے‘ باہر سے ڈگریاں لے کر آنے والوں کو چند لاکھ روپے دے کر ملازم رکھا جائے تاکہ وہ نئے نئے طریقے بتائیں کہ عوام کو کیسے لوٹنا ہے؟ پکڑے جائیں تو لندن پلٹ بیرسٹرز کو چند کروڑ روپے دے کر عدالتوں میں ثابت کرایا جائے کہ یہ لوٹ مار قانونی تھی۔ قانون اپنی مرضی کے بنوانے کے لیے ہر سیاسی پارٹی کے لیڈر کو چندہ اور بھتہ دیا جائے یا پھر اسے جہازوں کی سیریں اور عمرے کرائے جائیں تاکہ کل کلاں کو ان سے اپنی مرضی کے وہ قوانین بنوائے جا سکیں جو ان کے کاروبار کو فائدہ دیں؟ اگر درمیان میں میڈیا شور مچائے تو اس پر چڑھائی کر دو یا سوشل میڈیا پر کرائے کے نوجوان بھرتی کر لو‘ جو دن رات گالیاں دیں۔ پھر اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے سکینڈلز اور خبریں رکوا دو۔ وہی رپورٹر جو سکینڈل لایا تھا‘ منہ چھپاتا پھرے اور الٹا ان پارٹیوں کے حامی ان اخبار نویسوں کا جینا حرام کر دیں۔ جو عوام کو لوٹنے کا فن جانتے ہیں وہی عوام کو ریاست کو لوٹنے کے عمل میں بھی شامل کر لیتے ہیں۔ کبھی بینکوں سے یوتھ لون سکیم شروع کر دیں گے، کبھی نیلی پیلی ٹیکسی سکیم‘ تو کبھی چھوٹے روزگار کے نام پر قرضے۔ سب بینک ماضی میں ڈوب گئے۔ عوام کو کہا گیا تم بھی اپنے حصے کا مال ہضم کر لو۔ یوں عوام کو بھی کرپشن پر لگا دیا گیا۔ لوگوں نے مفت کا مال سمجھ کر بینکوں کا قرضہ واپس نہیں کیا۔ بینکوں کو قسطیں نہ دینے کے لیے ٹیکسیوں کو آگ لگا دی یا پھر پولیس والوں کی جیب میں کچھ روپے ڈال کر چوری کی ایف آئی آر درج کرا لی‘ اور یوں عوام اور لیڈرز دونوں خوش۔ زرداری صاحب نقدی کے شوقین تھے‘ لہٰذا سوچا ایک ایک ہزار روپے ان غریبوں کی جیبوں تک کیش پہنچنا چاہیے کیونکہ نقدی میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔ کسی ناول میں پڑھا تھا: ایک کردار دوسرے کو طریقے سکھا رہا ہوتا ہے کہ اگر کسی کو رشوت پیش کرنی ہو اور وہ نہ مان رہا ہو تو اسے بریف کیس کھول کر پیسے دکھائیں۔ وہ ڈگمگا جائے گا۔ مجھے وہ لائنیں پڑھ کر احساس ہوا تھا کہ ہر فلم میں جب بھی ولن کسی ایماندار افسر کے گھر جاتا تھا تو وہ بریف کیس کیوں ساتھ لے جاتا اور اسے کھول کر ترتیب سے رکھی ہوئی نوٹوں کی گدیاں کیوں دکھاتا تھا؟ یہ انسانی نفسیات ہے‘ آپ ایک ارب روپے کا چیک دیں گے تو اسے بڑا نہیں لگے گا‘ ایک لاکھ روپے کیش دکھا دیں‘ اس کی آنکھیں چندھیا جائیں گی۔

اب نیب کو جرأت نہیں ہو گی کہ وہ نواز شریف صاحب کو گرفتار کر لے کہ جناب آپ پر دو ارب روپے کمیشن کا الزام لگا ہے اور وہ الزام پاکستان کے کسی صحافی نے نہیں بلکہ امریکی اخبار نے لگایا ہے۔ اب شاید نیب والوں کی گھگی بندھ جائے گی‘ اور وہ وہی رویہ اختیار کریں گے‘ جو دو سال قبل پبلک اکاونٹس کمیٹی کے اجلاس میں قمر زمان چوہدری نے پانامہ کے سکینڈل پر اختیار کیا تھا کہ جناب ہمارا پانامہ سے کیا لینا دینا۔ لیکن نیب کے سب بہادر جنگجو ہتھکڑیاں لے کر یونیورسٹی کے پروفیسرز اور استادوں کو پریڈ کرانے پہنچ گئے جو چھڑی کے سہارے بھی مشکل سے چل رہے تھے۔ پچھلے دنوں ایک صاحب اسمبلی کی بڑی پوسٹ سے ریٹائر ہوئے۔ ایک بندے نے کہا: چوہدری نثار کے دور میں پی اے سی بہت اچھی تھی لیکن انہوں نے اپنی ہی پارٹی کے اسی ایم این اے کو سب کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا‘ جس نے کھل کر پیرے سیٹل کیے اور ذہن میں رکھیں‘ موصوف اس امریکی فارمولے پر یقین رکھتے ہیں کہ دنیا میں فری کام کوئی نہیں ہوتا۔ ہر کسی کو ہر ڈیل اور آڈٹ پیروں میں اپنا حصہ لیتے دیکھ کر گائوں کا کالو یاد آگیا۔
گائوں میں جہاں دیگ پکنا شروع ہوتی‘ کالو جا کر بیٹھ جاتا۔ جونہی دیگ کا منہ کھلتا تو پوچھتا: اس میں کالو کا حصہ ہے؟ اگر کوئی چاول دے دیتا تو وہ چلا جاتا۔ انکار پر مٹھی میں ریت بھر کر چاولوں کی دیگ میں پھینک دیتا اور گالی دے کر کہتا: جس دیگ میں کالو کا حصہ نہیں ہوگا اس میں سے اور بھی کوئی نہیں کھائے گا۔

ہمارے سب حکمران گائوں کے کالو کی فلاسفی سے متاثر ہیں۔ ہر دیگ میں انہیں حصہ چاہیے اور جس دیگ میں ان کا حصہ نہیں… پھر وہاں اور بھی کوئی نہیں کھائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*