outline
awais-ghauri

چائے والا اِک نیا کھلونا ۔۔محمد اویس غوری

ہمارا سب سے بڑا دشمن ہمسائیہ ملک انڈیا جس کی فلم انڈسٹری کے ہم بہت بڑے مداح ہیں اورشاید یہی وجہ ہے کہ ہم لال قلعہ پر پاکستانی پرچم بھی لہرانا چاہتے ہیں۔چند برس ہوتے ہیں، وہاں کی ایک آرٹ فلم میں فارغ امیروں نے تفریح طبع کیلئے ایک مشغلہ ڈھونڈ نکالا۔ چند امراء ہر ہفتے غرباء میں سے ایک ماسٹر پیس ڈھونڈتے ٗاسے ویک اینڈ کی رات ڈنر پر بلاتے ٗاپنی گاڑیاں ٗ فارم ہاؤسز اور دولت دکھا کر مرعوب کرتے اور اس کے ٹیلنٹ کا مذاق اڑا کر دل کی بھڑاس نکالتے اور اسے گھر بھیج دیتے ۔ یعنی ہر ہفتے کوئی غریب سنگر ٗ کامیڈین ٗ شاعر ٗ ادیب ٗ صحافی بالکل سنجیدگی سے اپنا ٹیلنٹ دکھا رہا ہوتا ہے اور یہ سب امراء دل کھول کر اس کا مذاق اڑاتے ۔ پاکستان میں بھی یہی چلن عام ہے ہمارے چینلز کو اپنا پیٹ بھرنے کیلئے کوئی نہ کوئی ٹیلنٹ چاہیے اور ہماری پاکستانی عوام کو بھی تفریح طبع کیلئے کوئی کریکٹر۔
ٓآج کل دل پشوری کے لیئے ہم نے جو نیا کریکٹر ڈھونڈا ہے وہ ایک چائے والا ہے جس کی شہرت سرحد پار تک پہنچ گئی ہے اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی آنکھیں نیلی ہیں ٗ وہ بہت خوبصورت ہے لیکن بناتا وہ چائے ہے۔ صبح 8بجے جب ارشد خان چائے کے کھوکھے پر پہنچا تو اسے معلوم نہیں تھا کہ اپنے جیسے لاکھوں پختون محنت کشوں میں سے اسے چن لیا گیا ہے۔ روز ہماری آنکھوں کے سامنے سے کتنے ہی ایسے چہرے گزرتے ہیں۔گاڑی دھلاتے ہوئے ، جوتی پالش کراتے ہوئے ٗ کسی مصروف بازار میں توا پیس بناتے ہوئے، کڑیٗ دھوپ میں کسی موڑ پر چھلیاں بھونتے ہوئے ٗ کسی تندور میں روٹیاں لگاتے ہوئے یا پھرگلی میںآوازیں لگاتے ہوئے کتنے ہی ارشد خان ملتے ہیں جوحسن کے تمام معیارات پر ہی پورا ہی نہیں اترتے بلکہ مقابلہ حسن میں جانے کے بھی قابل ہوتے ہیں۔ ۔ ان میں سے اکثر کی آنکھیں بھی نیلی ہوتی ہیں ٗ اکثر کی’’جا لائن‘‘ فلمی ستاروں جیسی ہوتی ہے ٗ اکثر کا فیس کٹ ماڈلز والا ہوتا ہے لیکن خوش قسمتی سے ان کی تصویر کسی نے جدید ڈی ایس ایل آر کیمرے سے نہیں لی گئی ہوتی ۔ خوش قسمتی سے اس لئے کیونکہ ان لوگوں کو کوئی خواب نہیں دکھایا جائے گا ٗ کوئی خوبصورت لڑکی سوشل میڈیا پر یہ نہیں لکھے گی’’ ہائے کاش میری اس سے شادی ہو جائے ‘‘۔ He,s so handsome ۔کیونکہ جب کوئی جوتے پالش کرنے والا ٗ قیمہ توا بنانے والا ٗ چھلی بھوننے والا یا گلیوں میں پھیری لگانے والا خوبرو نوجوان کہیں سے گزرتا ہے تو اس کو کوئی امیر لڑکی یہ نہیں کہتی ’’ہائے تم کتنے خوبصورت ہو ٗ پلیز مجھ سے شادی کر لو ‘‘۔ کوئی شاہ دماغ ٹی وی رپورٹر اس سے یہ سوال نہیں کرے گی آپ کو کب پتہ چلا کہ آپ مشہور ہو گئے ۔؟ جواب ہو گا ’’ آج صبح آٹھ بجے ‘‘۔ سوال ہو گا ’’ کیا آپ کسی فلم یا ڈرامہ میں کام کریں گے ‘‘۔ اور500دیہاڑی والے خوبصورت ارشد کا مالک کی طرف کن اکھیوں سے دیکھتے ہوئے ڈرتے ہوئے جواب ہو گا ’’۔ جی نہیں میں یہاں محنت مزدوری سے چائے ہی بناتا رہوں گا ٗ کسی فلم ٗڈرامہ میں کام نہیں کروں گا ‘‘۔chai-wala
سوال یہ ہے کہ اب کیا ہو گا ؟ ۔ کیا وفاقی سطح پر کوئی بل پاس ہو گا جس میں ہر پاکستانی کیلئے تعلیم مفت اور لازمی کر دی جائے گی تاکہ ارشد خان سے واقعی کوئی امیر ٗ خوبصورت ٗ پڑھی لکھی لڑکی شادی کرسکے؟ ٗ کیا صحت کی سہولیات کا معیار اچھا کردیا جائے اور غریب کیلئے علاج مفت کر دیا جائے گا تاکہ کوئی نیلی آنکھوں والا بیماری سے سسکتے ہوئے اس دنیاسے رخصت نہ ہو جائے ؟ کیا پاکستان کو واقعی منافقت سے پاک ایک ویلفیئر سٹیٹ بنا دیا جائے گا جہاں پر ارشد جیسے نیلی آنکھوں والے کھوکھوں پر چائے بنانے کی بجائے حکومت کے پیسوں سے کوئی چائے خانہ کھول سکیں؟ یا کیا واقعی یہاں ارشد خان کو کسی فلم ٗ ڈرامہ میں کوئی اہم رول دیا جائے گا جس کو ناخواندگی کی وجہ سے ٹھیک طرح بولنا بھی نہیں آتا ؟ کیا واقعی کوئی لڑکی اس ارشد خان سے اس کی خوبصورتی اور نیلی آنکھوں کی وجہ سے شادی کرے گی ؟ یا پھر ایسا ہو گا کہ چند ماہ بعد جب ارشد اور اس کی نیلی آنکھیں سب کو بھول جائیں گی اور وہ اس گلیمر کے دور کو یاد کر کے چائے بنانے میں حیل وحجت سے کام لے گا تو اس کا یہی مالک ڈانٹتے ہوئے کہے گا’’ ٹی وی پہ آ کہ تیرا دماغ خراب ہو گیا ٗ تو کوئی شاہ رُخ خان نہیں ہے چل ادھر آ کر چائے بنا ‘‘۔ افسوس کہ ابھی ان سب سوالوں کے جوابات نفی میں آنے والے ہیں۔ ارشد خان وہ مرچ مسالا ہے جو زیادہ سے زیادہ 2,3دن چینلز کو چاہیے ٗ وہ ٹرینڈ ہے جو زیادہ سے زیادہ ایک ٗ دو ماہ سوشل میڈیا کو چاہیے ۔ کیونکہ یہ وہی ارشد خان ہے جو آج امراء کی تفریح طبع کا ٹیلنٹ ہے وہ اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر محظوظ ہوں گے ٗ اس کے چائے والے کھوکھے پر جاکر اس کے ساتھ سیلفیاں بنائیں گے ٗ اس کو چینلز میں بلوا کر ٗ کوٹ پینٹ پہنا کر اس کا انٹرویو کریں گے ۔سوال پوچھیں گے، اگرآپ کو موقع ملے تو کیا آپ ٹی وی پر کام کرو گے ؟ْ جناب آپ نے بھی تو اسے ٹی وی چینل ہی بلایا ہے ٗ ٹی وی والے ہی تو اس کا انٹرویو کر رہے ہیں ٗ تو آپ ہی کیوں اس ارشد خان کو نوکری نہیں دے دیتے ٗ ٹی وی سکرین پر کیوں نہیں لے آتے ؟ آپ بھی تو ٹی وی چینل چلا رہے ہیں کوئی چائے کا کھوکھا تو نہیں چلا رہے‘‘۔ جگر مراد آبادی کا ایک شعریاد آ رہا ہے۔
حسن جس رنگ میں ہوتا ہے ٗ جہاں ہوتا ہے
اہل دل کیلئے سرمایہ جاں ہوتا ہے
بات فلم سے شروع ہوئی ٗموضوع ہماری پاکستانی فلمیں ٗ کہانیاں اور ڈائیلاگز تھے تو ختم بھی فلم پر ہی کرتے ہیں۔ اسی فلم میں ایک امیر کا سامنا ایسے ٹیلنٹ سے ہوجاتا ہے جو ایک رات میں اس ٹیلنٹ کا مذاق اڑانے والے کی زندگی کی دھجیاں بکھیر دیتا ہے۔ ہمیں بھی پاکستان میں لوگوں کے ٹیلنٹ اور خوبصورتی سے ٹائم پاس نہیں کرنا چاہیے ایسا نہ ہو کہ کبھی کوئی ٹیلنٹ ہمارے چہروں سے بھی نقاب الٹ دے۔
اویس غوری کا تعلق فلم اورٹی وی پروڈکشن کے شعبہ سے ہے ،کالم نگاری انہیں وراثت میں ملی ہے۔’’آؤٹ لائن ‘‘ کے لیئے لکھنے والوں کے پینل میں شامل ہیں۔
awaisghauri@gmail.com

6 تبصرے

  1. بہت خوب:
    ارشد خان وہ مرچ مسالا ہے جو زیادہ سے زیادہ 2,3دن چینلز کو چاہیے ٗ وہ ٹرینڈ ہے جو زیادہ سے زیادہ ایک ٗ دو ماہ سوشل میڈیا کو چاہیے ۔ کیونکہ یہ وہی ارشد خان ہے جو آج امراء کی تفریح طبع کا ٹیلنٹ ہے وہ اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر محظوظ ہوں گے ٗ اس کے چائے والے کھوکھے پر جاکر اس کے ساتھ سیلفیاں بنائیں گے ٗ اس کو چینلز میں بلوا کر ٗ کوٹ پینٹ پہنا کر اس کا انٹرویو کریں گے ۔سوال پوچھیں گے، اگرآپ کو موقع ملے تو کیا آپ ٹی وی پر کام کرو گے ؟ْ جناب آپ نے بھی تو اسے ٹی وی چینل ہی بلایا ہے ٗ ٹی وی والے ہی تو اس کا انٹرویو کر رہے ہیں ٗ تو آپ ہی کیوں اس ارشد خان کو نوکری نہیں دے دیتے ٗ ٹی وی سکرین پر کیوں نہیں لے آتے ؟ آپ بھی تو ٹی وی چینل چلا رہے ہیں کوئی چائے کا کھوکھا تو نہیں چلا رہے

  2. kia Arshad ki neel Ankhen hi sb kuch hen, Yahan kitney educated loge hen jo taleem yafta honey k bawjood issi trah k kam krtay hen, kia Arshad Khan ghair taleem yafta hotay ho k b heero he r wo jo rat ko mazdoori krtay hen r din main college ya university jaty he, ya din main mehnat mazdoori kisi cloth shop pe saleman, kis office main offce boyw ka m ya iss se gia guzra kam krtay he but taleem hasil kerta hen, kuch to logo k gharon main b kam krtay hen r apney taleem akhrajat k sath door draz apney ghar walon ko kharcha be send krtay he, kia wo haqeeqi heer nahi hen, main iss trah k darjano logo ko janta hun , media ki iss ghair zima dari ki waja se boht se bachay school se bhag k iss trah ki koshish krengay r apna future tabah kr dengay,. ye talent ni he achi qabliyat k sath he talent paidar behter mustaqbil ki zamanat ho skta he.
    ye media ki ghair zima dari k siwa kuch ni, Allah Arshad Khan k Rizq e Halal ma barkat atta kre r hm sb ko b hidayat atta kre Ameen

  3. ھمارا میڈیا تخلیقی صلاحیتوں سے عاری ھوتا جا رھا ھے۔
    مشھور ھونے کے شوق نے شارٹ کٹ دکھا دیے ھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*