تازہ ترین
outline
Featured Video Play Icon

جنرل (ر) شاہد عزیز غیر ریاستی عناصر کی قیادت کرتے ہوئے مارے گئے

افواج پاکستان کے اعلیٰ ترین افسر جو ریٹائرمنٹ کے بعد پرویز مشرف کے دور میں چیئر مین نیب بھی رہے ان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ غیر ریاستی عناصر کی قیادت کرتے ہوئے ایک ایسی جنگ میں مارے گئے ہیں جس میں افواج پاکستان نے سینکڑوں جوانوں اور افسروں کی قربانیاں دی ہیں

لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز جو افواج پاکستان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کا حصہ رہے ،ڈی جی ملٹری آپریشنز کی حیثیت سے کام کیا اور ان کا شمار پرویز مشرف کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا مگر بعدازاں اختلافات بڑھے تو وہ حکومت سے الگ ہو گئے اور پھر اپنی خود نوشت “یہ خاموشی کہاں تک“ میں لرزہ خیز انکشافات کیئے

ان کے خاندانی ذرائع بتاتے ہیں کہ وہ اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنے کے لیئے کسی ایسے محاذ کی تلاش میں تھے جہاں وہ امریکہ کے خلاف لڑ سکیں ان کے گھر کی سخت نگرانی کی جارہی تھی مگر ایک دن وہ موقع پا کر کوئٹہ کے راستے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور پھر ایک سال تک ان کی کوئی خبر نہ آئی کہ وہ کہاں ہیں

جنرل پرویز مشرف سے چند روز قبل ایک نجی ٹی وی کی اینکر نے جنرل شاہد عزیز سے متعلق بات کی تو جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ جنرل شاہد ایک غیر متوازن شخص ہے وہ ڈاڑھی بڑھا کر شام چلا گیا اور وہاں مارا گیا ہے اس کی باتوں کو سنجیدگی سے نہ لیں

غیر مصدقہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ جنرل شاہد عزیز شام نہیں بلکہ افغانستان میں طالبان کی صفوں میں شامل ہو گئےتھے اور پاک افغان بارڈر پر ہی مارے گئے ہیں

افواج پاکستان کے کسی تھری اسٹار جرنیل کا غیر ریاستی عناصر میں شامل ہونا اور ان کی قیادت کرتے ہوئے مارے جانا اپنی نوعیت کی انوکھی مثال ہے

تبصرے “ 1 ”

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*