تازہ ترین
outline

’’ہم ‘‘پہ احساں جو نہ کرتے تو یہ احساں ہوتا-ڈاکٹر صفدر محمود

سچ پوچھو تو بہت سے مباحثے، سیاسی تجزیے اور اندازے اُس وقت تک محض نصابی اور کتابی مباحث لگتے ہیں جب تک حکومتوں کو اندر سے نہ دیکھا جائے۔ مفروضوں اور حقیقتوں کے درمیان ایک ان دیکھا فاصلہ حائل ہوتا ہے۔ حکومتوں کو اندر سے دیکھنے کا مطلب ایسا مشاہدہ ہے جس کی رُو سے حکومتوں کو کام کرتے، فیصلہ سازی کرتے، چیف ایگزیکٹو یا وزیراعظم کے انداز حکمرانی، اس کے اردگرد کلوز سرکل یعنی قریبی رفقاء اور سیاسی کلچر کو دیکھا اور سمجھا جاتا ہے۔ اب پھر ایک بحث چھڑ گئی ہے، جو میرے نزدیک محض نصابی ہے کیونکہ اُسے عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے کسی سیاسی پارٹی کی حمایت حاصل ہے۔ بلکہ مجھے کہنے دیجئے کہ اس تجویز یا خیال یا خواب کو عوامی پذیرائی بھی نصیب نہیں۔ البتہ اس پر قلمی گھوڑے دوڑائے جا سکتے ہیں۔ہم نے اپنی خواہش کے خاکے میں رنگ بھرنے کے لئے قائداعظم کو بھی اپنی حمایت میں زبردستی شامل کر لیا ہے۔ اسی لئے میں قائداعظم کو مظلوم قائداعظم سمجھتا ہوں کیونکہ ہم نے تقریباً 71-72برس کی قومی تاریخ میں قائداعظم کی کسی نصیحت، کسی مشورے اور کسی خواہش پر عمل نہیں کیا لیکن جب مخصوص ایجنڈے کی پزیرائی مقصود ہوتی ہے تو قائداعظم کو گھسیٹ لاتے ہیں۔ میں نے قائداعظم کو اپنے تئیں پڑھنے اور سمجھنے کی حتی الوسع کوشش کی کیونکہ وہ میری پسندیدہ سیاسی شخصیت اور ہیرو ہیں۔ اُن کی خواہش یا خواب تھا کہ پاکستان ایک اسلامی، جمہوری، فلاحی اور روشن خیال ریاست بنے۔ اُنہوں نے سختی سے صوبائیت، علاقائیت اور لسانی و نسلی تعصبات کا ’’زہر‘‘ نکالنے کا مشورہ دیا۔ ایثار اور خلوص ان کی شخصیت کے اہم ستون تھے۔ وہ بار بار تقاریر میں قانون کی بالادستی، انسانی برابری، معاشی و سماجی عدل کی تلقین کرتے رہے۔ وہ قرآن مجید کو قانون کا مآخذ اور اسوئہ حسنہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہترین اور مکمل نمونہ قرار دیتے رہے۔ کیا ہم نے قائداعظم کی کسی ایک بھی نصیحت یا راہنما اصول پر عمل کیا؟

پھر ہر چند برس کے بعد صدارتی نظام کا جواز قائداعظم کی شخصیت میں تلاش کرنا حب الوطنی ہے یا خودغرضی، قومی خدمت ہے یا قومی انتشار کا موجب؟ یہ قائداعظم سے محبت ہے یا قائداعظم کا استحصال؟ بجز ڈائری کے ایک ورق کے جسے ہمارے ساتھی عتیق ظفر انچارج قائداعظم پیپرز یا آرکائیوز نے بڑی محنت سے جنرل ضیاءالحق کے دور میں سمندر کی تہہ سے نکالا تھا اور اسے اس وقت کے سیکرٹری کلچر کو تحفے کے طور پر دیا تھا۔ قائداعظم کی تقاریر، تحریروں اور گفتگو میں دور دور تک صدارتی نظام کا کہیں نام و نشان تک نہیں ملتا۔ میں اس ’’وقوعے‘‘ کا عینی شاہد ہوں۔ اہل قلم کی جس کانفرنس میں جنرل ضیاءالحق نے قائداعظم کی ڈائری کا ورق سامعین کی طرف پھینکا بلکہ نچھاور کیا، اس میں یہ خاکسار بھی موجود تھا۔ موجود ہی نہیں بلکہ اس انکشاف پر حیرت زدہ تھا اور سوچتا رہا کہ بہت خوب جنرل صاحب، آپ کو قائداعظم کی وہ نصیحت تو یاد نہیں رہی جس کے مطابق کوئٹہ اسٹاف کالج میں فوجی افسران سے خطاب کرتے ہوئے گورنر جنرل نے افسران کو آئین کا مطالعہ کرنے اور آئین کی وفاداری کی تلقین کی تھی لیکن قائداعظم کی نصیحت کو پامال کرنے کے بعد اور آئین شکنی کا ارتکاب کرنے کے بعد صدارتی نظام کا جواز ڈھونڈنے کے لئے آپ کو قائداعظم یاد آگئے ہیں۔ مجھے اس وقت وہ مصرع بہت یاد آیا؎

ہم پہ احساں جو نہ کرتے تو یہ احساں ہوتا

مصرع یاد آنے کی وجہ یہ تھی کہ قیام پاکستان کے بعد پہلی بار قائداعظم کی ڈائری کے اس ورق کا پردہ چاک ہوا تھا، ورنہ پاکستان میں لیاقت علی خان سے لے کر چوہدری محمد علی وزیراعظم تک قائداعظم کے سبھی قریبی رفقاء جو پاکستان میں دستور سازی کے عمل سے وابستہ رہے، کو اس ہیرے کا علم ہی نہیں تھا۔ خواجہ ناظم الدین سے لے کر محمد علی بوگرہ تک، آئینی فارمولے تشکیل پائے لیکن قائداعظم کے کسی ساتھی نے قائداعظم کی اس خواہش کا ذکر تک نہ کیا۔ قائداعظم ستمبر 1948تک گورنر جنرل رہے، 11اگست 1947سے لے کر دم آخریں تک تقاریر بھی کیں اور قوم کے نام پیغامات بھی بھجوائے لیکن اپنی صدارتی نظام کی آرزو کو ہوا تک نہ لگنے دی۔ میں نے قائداعظم کو دلجمعی سے پڑھا ہے۔ وہ یہ قسم ہی نہ تھے کہ کسی اصول کو قوم کے لئے مفید سمجھتے اور اس کا اظہار نہ کرتے۔ وہ ایک بے لوث، حق گو اور محب وطن راہنما اور بابائے قوم تھے۔ انہیں کسی نظام سے کیا لینا دینا کہ قوم کی سچی راہنمائی نہ کرتے اور دل کی بات زبان پر نہ لاتے۔ آپ اس سے ہزار اختلاف کریں لیکن انہوں نے ببانگ دہل ڈھاکہ اور چٹاگانگ میں اردو کو قومی زبان قرار دیا اور واضح کیا کہ آپ صوبے کی سطح پر بے شک بنگالی کو ذریعہ تعلیم بنائیں اور سرکاری زبان قرار دیں لیکن وفاقی سطح پر اردو ہی قومی زبان ہو گی۔ اُنہوں نے قوم کو لسانیت کے خطرے سے بھی آگاہ کیا۔ اس اعلان کے خلاف احتجاج بھی ہوا اور اُنہیں اس کا بخوبی علم تھا۔ اس لئے اگر وہ صدارتی نظام کو پاکستان کے مفاد میں سمجھتے تو انہیں اس کے اظہار سے کوئی روک نہیں سکتا تھا اور نہ ہی اس میں کوئی شے مانع تھی۔

یارو قائداعظم سیاسی بصیرت کا سمندر تھے۔ تاریخ انہیں عالمی سطح کے بہترین راہنماؤں اور تاریخ سازوں میں شمار کرتی ہے۔ ان کی سیاسی بصیرت نے ہندوؤں اور انگریزوں کو بیک وقت شکست دے کر پاکستان حاصل کیا تھا۔ اُنہیں اس تلخ حقیقت کا اچھی طرح ادراک تھا کہ دونوں صوبوں یا (Wings)کے درمیان ہزار میل کا فاصلہ حائل ہے۔ ایسے ملک میں صدارتی نظام کا نفاذ ملک توڑنے کے مترادف ہو گا۔ پارلیمانی نظام میں مختلف علاقائی جماعتیں مل جل کر شراکت اقتدار کا فارمولا بناتی ہیں، جس سے سارے صوبوں کو اقتدار میں احساس شراکت ملتا ہے جبکہ صدارتی نظام میں ایک صوبہ آمرانہ اختیارات کے ساتھ برسر اقتدار رہے گا۔ ان مضمرات پر پھر کبھی لکھوں گا کیونکہ موضوع تفصیل طلب ہے۔ قائداعظم ان مضمرات کو ہم سے ہزار گنا بہتر سمجھتے تھے۔

بات ہو رہی تھی حکومتوں کی اندرونی کہانی کی جو باہر سے نظر نہیں آتی۔ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ جب پارلیمانی لیڈر اور وزیراعظم کو یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر رہا، مسائل حل نہیں ہو رہے، اپوزیشن سر پر چڑھ کر بول رہی ہے تو وہ پارلیمنٹ اور نظام کو الزام دینا شروع کرتا ہے۔ اسے احساس دلایا جاتا ہے کہ اگر سارے اختیارات اس کی ذات میں جلوہ گر ہوں تو وہ اپنی بے پایاں قابلیت سے ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ اس فرسٹریشن سے کبھی امیر المومنین بننے اور کبھی ایوبی ماڈل کا صدر بننے کی خواہش جنم لیتی ہے۔ قوم کے وہ ہیرے جنہیں ٹیکنوکریٹ اور قابل ذہن سمجھا جاتا ہے پارلیمانی نظام ان کی قدر نہیں کرتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ صدارتی نظام میں وہ صدر کے تاج میں جڑے ہیرے ہوں گے چنانچہ وہ بھی صدارتی نظام کے لئے تن من دھن کی بازی لگا دیتے ہیں اور حکمران کو باور کرا دیتے ہیں کہ صدارتی اختیارات کے ساتھ وہ عظیم انقلاب لا سکتا ہے۔ بہت سی باتیں رہ گئیں ان شاء اللہ پھر کبھی!!

بشکریہ روزنامہ جنگ

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*