تازہ ترین
outline

ایوب خان کے ’’سنہری دور‘‘کی حقیقت-بلال غوری

ہم پاکستانی بہت فیاض اور دان دتار لوگ ہیں ،باالخصوص ڈکٹیٹرز کے معاملے میں تو ہم کچھ زیادہ ہی دیالو ،خطاپوش اور خطا بخش پائے گئے ہیں۔ہم زندہ ڈکٹیٹرز کیساتھ تو انتہا درجے کی رحمدلی سے پیش آتے ہی ہیں لیکن جب کوئی ڈکٹیٹر وفات پاجاتا ہے تو ہم اسے قومی پرچم میں لپیٹ کر سپرد خاک کرتے وقت اس کے نامہ اعمال کو بھی ساتھ ہی دفن کر دیتے ہیں۔دنیا سے رحلت کرجانے والوں کو اچھے الفاظ میں یاد کرنا تو ہمارا شیوہ ہے ہی لیکن ڈکٹیٹرز کو باالخصوص رحمت اللہ علیہ کے غلاف میں لپیٹ دیا جاتا ہے تاکہ کوئی شرپسند اہانت و تضحیک کی کوشش نہ کرسکے ۔صرف یہی نہیں بلکہ ان ڈکٹیٹرز کے محاسن اور اوصاف بڑھا چڑھا کر بیان کیئے جاتے ہیں،مبالغہ آرائی کی حد تک تعریف و توصیف ہوتی ہے اور ضرورت پڑنے پر سویلین حکمرانوں کے کارنامے بھی ان کی جھولی میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔بعض منچلے تو ٹرکوں کی پشت پربڑی پینٹنگ بنوا کر یہ جملہ بھی لکھوا لیتے ہیں ’’تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد‘‘۔اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ میں اپنے ہم وطنوں کی ان عادات و اطوار کی بیخ کنی کا ارادہ رکھتا ہوں تو اس غلط فہمی کو اپنے اردگرد نہ پھٹکنے دیں۔ وسعت قلبی اور اعلیٰ ظرفی پر مبنی ان سنہری پاکستانی روایات پربھلا کسی کوکیا اعتراض ہوسکتا ہے؟ہاں البتہ اڑچن یہ ہے کہ جب ہم روائتی رحمدلی کے پیش نظر دادو تحسین کے ڈونگرے برساتے ہوئے مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں تو مغالطہ زیبائی کے امکانات پیدا ہو نے لگتے ہیں اور بعض کم ظرف ان باتوں پر سچ مُچ یقین کرنے لگتے ہیں ۔مثال کے طور پر فیلڈ مارشل ایوب خان جو ’’ہائے ہائے‘‘کے نعرے لگنے کے بعد اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ،ان کی وفات کے بعد لوگوں نے روائتی خوش اخلاقی کے تحت سنہرے دور کی بات کی تو یارلوگ اسے مستند حوالہ سمجھ بیٹھے اور60ء کی دہائی کو ترقی و خوشحالی کا ’’بنچ مارک‘‘قرار دینے پرتُل گئے۔یہ جگالی اس قدر بڑھی کہ بھلے چنگے لوگ بھی ’’سنہری دور‘‘کے مغالطے کا شکار ہوتے چلے گئے اور جب بھی ملکی معیشت کی سانس اُکھڑنے لگتی ہے تو ایک بار پھر باسی کڑھی میں اُبال آتا ہے اور پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام سے تبدیل کرنے کی باتیں ہونے لگتی ہیں ۔یہ دلیل اپنی جگہ کہ نظام کوئی بھی ہو جب تک اسے چلنے نہیں دیا جائے گا ،مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہونگے لیکن جس مفروضے کی بنیاد پر صدارتی نظام کی خواہش کی جارہی ہے کیا وہ درست بھی ہے یا نہیں؟میں معیشت کے گورکھ دھندے سے قطعاً ناآشنا ہوں اور اس حوالے سے کسی تکنیکی بحث کا متحمل نہیں ہوسکتا لیکن صحافت کے طالبعلم کی حیثیت سے تاریخی حقائق کی روشنی میں اپنی معروضات سامنے رکھتے ہوئے چند سوالات اٹھانے کی جسارت کرناچاہوں گا ۔

قدرت اللہ شہاب کا شمار ایوب خان کے معترفین میں ہوتا ہے ،کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ ایوب خان کے ’’سنہرے دور‘‘سے متعلق ’’گھر کے بھیدی‘‘ کی رائے معلوم کرلی جائے ۔موصوف بیان کرتے ہیں ’’بین الاقوامی سطح پر پاکستانی روپے کی قیمت گر کر نصف کے قریب رہ گئی تھی لیکن اندرون ملک ہمارے اقتصادی ماہر صدر ایوب کی مونچھ کو تاؤ دیکر ان کے منہ سے یہی اعلان کرواتے رہے کہ ہم کسی دباؤ کے تحت اپنے روپے کی قیمت ہرگز نہیں گھٹائیں گے ۔سرکاری شرح سے تو ایک پونڈ کی قیمت گیارہ ،بارہ روہے بنتی تھی ،لیکن کھلی منڈی میں اس کا بھاؤ 18سے24روپے تک اٹھتا تھا‘‘ایک اورجگہ اس مصنوعی ترقی کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ایوب خان کے دورِحکومت کو بہت سے لوگ مادی ترقی کا سنہری دور کہتے ہیں ۔بیشک اس میں کوئی کلام نہیں ،لیکن جن ناقابل اعتبار اور غیر یقینی سہاروں پر اس کی بنیاد رکھی گئی تھی ،اسے قائم رکھنے کے لیئے ہمیں اب تک ہر زمانے میں طرح طرح کے پاپڑ بیلنے پڑے ہیں ۔‘‘یہ کیسی ترقی و خوشحالی تھی کہ منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹر محبوب الحق کو کہنا پڑا کہ ملکی دولت اور وسائل 20-22خاندانوں کی تجوریوں تک محدود ہو گئے ہیں اور یہی بات قدرت اللہ شہاب نے بھی لکھی ہے ؟اگر ملک میں واقعی دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی تھیں تو مشرقی پاکستان محرومیوں کا رونا روتے روتے علیحد گی پرکیوں مجبور ہوگیا ؟

سچ یہ ہے کہ ایوب خان کے دور میں ترقی و خوشحالی کی باتیں افسانوی داستان ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔یہ وہ دور تھا جب غیر ملکی امداد اور قرضوں کی بارش ہو رہی تھی ۔گندم کے تھیلے بھی امریکہ سے امداد کی شکل میں آیا کرتے تھے جن پر ’’شکریہ امریکہ ‘‘لکھا ہوتا ۔آج ہم جس کشکول کا رونا روتے ہیں،یہ اسی ’’سنہرے دور‘‘ کی عنایت ہے۔جی حضوری کے باعث غیر ملکی امداد کا یہ عالم تھا کہ بیرونی قرضوں کے مقابلے میں بیرونی امداد کا حجم دوگنا سے بھی زیادہ تھا۔1964ء میں لایا گیا دوسرا پانچ سالہ منصوبہ اُٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں آرہی 40فیصد سرمایہ کاری کا انحصار بیرونی امداد پر تھا ۔1966ء کے اعداد و شمار سامنے رکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ 66فیصد درآمدات کا دارومدار غیر ملکی امداد پر تھا۔اس’’سنہری دور‘‘ میں صنعتی ترقی کا ڈھول بہت زور وشور سے پیٹا جاتا ہے لیکن سوال یہ ہے کی مبینہ صنعتی ترقی کے دور میں بھی ہم کپاس کیوں برآمدکر رہے تھے ،ٹیکسٹائل مصنوعات کیوں نہیں بن رہی تھیں ؟ایک اور سوال یہ ہے کہ اگر صنعتی ترقی ہو رہی تھی ،ملکی معیشت کا حجم بڑھ رہا تھا تو پھر محاصلات کیوں نہیں بڑھ رہے تھے ؟آج اس گئے گزرے دور میں بھی ٹیکس ٹوجی ڈی پی کی شرح 11.6فیصد ہے مگر اس ’’سنہری دور‘‘میں یہ تناسب 10فیصد تھا ۔اس ’’سنہری دور‘‘ میں جو تھوڑی بہت صنعتی ترقی ہوئی ،اس بہتی گنگا میں بھی اشنان کس نے کیا ،بلکہ یہ گنگا بہائی ہی کس کے لیئے گئی ؟یہ ایک الگ کہانی ہے ۔

ایوب خان کے ’’سنہری دور‘‘میں معاشی شرح نمو (جی ڈی پی گراؤتھ ریٹ )5.82فیصد تھی جسے مثال بنا کر پیش کیا جاتا ہے لیکن یہ نہیں بتایا جاتا ہے کہ چند برس قبل معاشی شرح نمو 5.71فیصد تھی جسے سخت جدوجہد کے بعد نیچے لانے کا ذمہ دار کون ہے ؟جون 2010ء میں معاشی شرح نمو ملکی تاریخ کی پست ترین سطح پر چلی گئی اور 1.60ریکارڈ کی گئی۔جب پیپلز پارٹی کی حکومت گئی تو صورتحال میں کسی حد تک بہتری آچکی تھی اور جون 2013ء میں معاشی شرح نمو 3.50فیصد تھی ۔ 2017ء میں ملکی معیشت فروغ پارہی تھی اور جون میں سامنے آنے والے اعداد وشمار سے معلوم ہواکہ جی ڈی پی گراؤتھ ریٹ 5.70فیصد ہوچکا ہے ۔سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں جون 2018ء کو معاشی شرح نمو 5.4فیصد رہ گئی اور ورلڈ بنک کی ایک رپورٹ کے مطابق جون 2019ء میں معاشی شرح نمو 3.4فیصد ہوسکتی ہے ۔اسی رپورٹ میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ حالات جوں کے توں رہے تو جون 2020ء میں معاشی شرح نمو 2.7فیصد تک گر سکتی ہے۔آپ فیلڈ مارشل ایوب خان کے ’’سنہری دور‘‘کو بیشک رحمت اللہ علیہ کے غلاف میں لپٹا رہنے دیں مگر اس بات سے تو پردہ اُٹھائیں کہ حالیہ ’’تاریک دور‘‘کے ذمہ دار کون ہیں ؟

بشکریہ روزنامہ جنگ

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*