outline

پاکستانیوں کے بیرون ملک اکائونٹس میں 11 ارب ڈالر کا دعویٰ حقیقت یا سراب؟

تحریک انصاف کے رہنما برسراقتدار آنے سے قبل دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ پاکستانیوں کے آف شور اکائونٹس میں خطیر رقم موجود ہے جسے واپس لاکر ملک کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے بلکہ مراد سعید جو اب پوسٹل سروسز کے وفاقی وزیر ہیں وہ تو یہ دعویٰ بھی کر چکے ہیں کہ جب عمران خان بطور وزیراعظم حلف اٹھائیں گے تو اگلے ہی دن سوئس اکائونٹس میں پڑے 200 ارب ڈالر واپس آجائیں گے

اب وفاقی وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) میں کاروباری افراد سے خطاب کرتے ہوئے اس دعوے کو ایک بار پھر دہرایا ہے اور کہا ہے کہ ان اکائونٹس میں پڑی رقم چوری کی ہے اور اگر ہم یہ رقم واپس ملک میں لانے میں کامیاب ہوجائیں تو ہمیں کسی سے قرض مانگنے کی ضرورت نہ پڑے

وفاقی وزیر مملکت نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ان آف شور اکائونٹس کی ایف بی آر کے ذریعے کڑی نگرانی اور چھان بین بھی کی جا رہی ہے

وفاقی وزیر مملکت کے دعوئوں کے برعکس ایف بی آر چیئرمین جہانزیب خان نے پارلیمانی کمیٹی کے گزشتہ ہفتے ہونے والے اجلاس میں بتایاتھا کہ نہ تو ادارے ان آف شور اکاؤنٹس سے ٹیکس وصولی کا کوئی ہدف مقرر کیا نہ ہی پانامہ لیکس کے بعد ٹیکس میں اضافہ دیکھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آف شور اکاؤنٹس کی موصول شدہ معلومات پر ٹیکس کے اہداف مقرر کرنا ممکن نہیں کیوں کہ ممکن نے اکاؤنٹس ہولڈرز نے یہ رقم قانونی طریقے سے منتقل کی ہو یا ان کے پاس اس کا جواز موجود ہو۔

لیکن سوال یہ ہے کیا ان بیرون ملک اکائونٹس اور ان میں پڑی رقوم سسے تعلق تخمینے مصدقہ ذرائع پر مشتمل ہے یا پھر سنی سنائی باتوں میں آکر ہم سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ؟تحریک انصاف کے وزیر خزانہ اسد عمر واضح کر چکے ہیں کہ یہ دعویٰ مسلم لیگ (ن) کے دور میں اسحاق ڈار نے کیا تھا اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*