تازہ ترین
outline

ڈھونگی بابا کی عمران خان کو آخری وارننگ۔اویس حفیظ

بابا جی کو جلال میں میں نے پہلی دفعہ دیکھا تھا، حالانکہ اس سے قبل میری ان سے کوئی درجنوں ملاقاتیں ہو چکی تھیں۔ پہلے بابا جی ہمیشہ مسکراتے ہوئے ملے مگر اس بار نہ صرف بابا جی بڑے غصے میں تھے بلکہ حاکمِ وقت (عمران خان) کو سخت کوسنے بھی دے رہے تھے حالانکہ بابا جی نہ صرف عمران خان کے بارے میں قدرے نرم گوشہ رکھتے تھے بلکہ ان کی باتوں سے رجائیت بھی چھلکتی تھی۔

یہ بابا جی سے میری غالباً دوسری یا تیسری ملاقات تھی، مئی 2013ء کا پہلا عشرہ تھا اور ہر طرف الیکشن کی گہما گہمی تھی۔ میں اس وقت بابا جی کے پاس ہی بیٹھا تھا جب یہ خبر ملی کہ خان صاحب غالب مارکیٹ کے جلسے میں  لفٹر کے ذریعے سٹیج پر چڑھتے ہوئے گر کر شدید زخمی ہو گئے ہیں اور انہیں سر اور کمر میں چوٹیں آئی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات یہ بھی تھیں کہ اب شاید عمران خان کبھی دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑے نہ ہو سکیں۔ ایسی خبریں سن کر مجھے اور وہاں موجود دو تین لوگوں کو تشویش ہوئی مگر بابا جی نے چند منٹ گہری خاموشی میں گزارے اور پھر کہا ”جن کے ذمے اہم کام لگا دیے جائیں، ان سے موت کا پہرہ اٹھا لیا جاتا ہے“۔ پھر کہا ”جو اہم کام سپرد کرتا ہے، وہ کام کرنے کی ہمت طاقت بھی دیتا ہے“ پھر بابا جی نے ہمیں کہا کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، خان کو کچھ نہیں ہو گا۔

”اہم کام“ کی تکرار پر میں کچھ چوکنا ہوا تھا، بابا جی کے خاموش ہوتے ہی سوال داغا، بابا جی کا جواب تھا کہ عمران خان اپنے مقصد میں کامیاب ہو گا۔ پاکستان کی تعمیر نو کا کام عمران خان کے سپرد کیا گیا ہے۔ مجھے اس پر خوب تسلی مل گئی۔ جو خواب بزرگوں پرکھوں نے دیکھا ہو، اس کی تعبیر پانے والے کی خوشی کا اندازہ کون کر سکتا ہے؟ لیکن ابھی تعبیر کہاں، ابھی تو تعبیر کی نوید ملی تھی۔

اس کے بعد بھی بابا جی سے ملاقاتیں رہیں مگر کم کم، البتہ پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے وہ کافی مطمئن تھے حالانکہ ہمیں ہر جگہ اندھیرا ہی اندھیرا نظر آ رہا تھا۔ ٹرمپ نے آتے ساتھ پاکستان پر پابندیاں لگانے کا عندیہ دیا تو بابا جی نے نہایت غصے میں کہا تھا کہ اگر یہ ٹلا نہ تو امریکا کا پہلا صدر بنے گا جو اپنی مدت پوری کیے بغیر رخصت ہو گا، پاکستان تو یہیں رہے گا، ٹرمپ کی کسے پروا ہے۔

2018ء کے الیکشن سے قبل جب عمران خان نے الیکٹ ایبل کے نام پر میدانِ سیاست کا سارا گند اپنے چھابے میں اکٹھا کیا تو میں نے ایک بار پھر بابا جی سے عمران خان کا پوچھا۔ کہا کہ اسے اپنی نیت کا اجر ضرور ملے گا، اور ہمت و طاقت بھی۔ شاید ابھی اس کی تربیت میں کوئی کجی رہ گئی ہے جو ”اپنوں کے گھاؤ“ کے ذریعے ہی دور ہو گی۔ اس کے بعد بابا جی نے مزید کچھ تشریح بھی کی جس سے میں نے یہی مفہوم اخذ کیا کہ عمران خان کو سیاسی لوٹے جب چھوڑ جائیں گے تب عمران خان کا پچھتاوا ہی وہ قوت بنے گا جو آگے کام آئے گی۔ عمران خان وزیراعظم بن گئے لیکن حالات ابتر ہوتے چلے گئے۔ جب بھارت نے جابا (بالاکوٹ) حملے کا دعویٰ کیا تو بابا جی نے کہا کہ یہ شر خیر سموئے ہوئے ہے۔ اس کا نتیجہ دیکھنے کے بعد میں کسی قدر بابا جی کی باتوں کو ماننے لگا تھا۔اسی طرح اقوامِ متحدہ میں وزیراعظم کی تقریر کو سب نے سراہا تو بابا جی نے کہا کہ خان کی حکومت کو طاقت کا انجکشن لگایا گیا ہے۔ اب تک بابا جی عمران خان کی حکومت کے حوالے سے مطمئن تھے مگر گزشتہ دنوں ملاقات ہوئی تو کافی غضبناک دکھائی پڑے۔ میں نے کریدنا چاہا تو پی آئی سی واقعے کے حوالے سے کچھ خبریں سنانا شروع کر دیں کہ پی آئی سی واقعے کی مذمت کرنے پر ڈسٹرکٹ اور ہائیکورٹ بار راولپنڈی نے بیرسٹر اعتزاز احسن کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے، بابر ستار، اعتزاز احسن، سعد رسول اور بیرسٹر علی ظفر کے علاوہ کسی نے کھل کر سانحے کی مذمت نہیں کی۔ رضا ربانی، لطیف کھوسہ، علی احمد کرد اور حامد خان سمیت سب نامور وکلا حق کا نہیں، اپنی کمیونٹی کا ساتھ دے رہے اور بدترین واقعے کی تاویلیں پیش کر رہے ہیں۔ وکیلوں کے خلاف فیس بک پر اسٹیٹس لگانے، ٹویٹ کرنے والوں کو وکلا تنظیموں کی جانب سے ہتکِ عزت کے نوٹس بھیجے جا رہے ہیں۔ پھر بابا جی نے عمران خان کو مخاطب کر کے بڑے غصے سے کہا کہ وہ جو ہر جگہ کہتا پھرتا ہے کہ معاشرے انصاف کے دہرے معیار کے باعث تباہ ہوتے ہیں، یہ اُس کا ٹیسٹ کیس ہے، یہ کیس فیصلہ کرے گا کہ یہ مزید چلے گا یا نہیں، وہ دنیا کو تو بہت طعنے دیتا ہے کہ وہ بھارت کی بڑی مارکیٹ اور اپنے مفاد کو مظلوم کشمیریوں پر فوقیت دیتی ہے، اس کیس میں اس کا بھی پتا چل جائے گا کہ یہ کس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ اگر یہ طاقتوروں کے آگے جھک گیا تو میں خود اس کا پتا کاٹوں گا۔ اب محض نیت نہیں، عمل بھی چاہئے۔ یہ بھی مجھ جیسے باقی کارپردازوں کی طرح محض ایک پرزہ ہے جس کے ہونے نہ ہونے سے نظامِ قدرت کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا، یہ نہیں ہو گا تو کوئی اور ہو گا، یہ اپنا کام کرنے سے عاجز آئے گا تو اس سے عَلم لے کر کسی اور کو دے دیا جائے گا۔ جو اس کا بھی ادھورا کام پورا کرے گا اور اپنا کام بھی کرے گا۔ یہ تو اس کی خوش قسمتی تھی کہ اسے کام سونپا گیا، وگرنہ کسی کو بھی یہ کام دیا جا سکتا ہے۔ بس چند ہی ہفتوں میں فیصلہ ہو جائے گا، یہ اس کی آخری وارننگ ہے۔ اور جاؤ کالے کرتوت والوں کو بھی بتا دو کہ ظلم کی رات تھوڑی طویل ضرور ہوتی ہے لیکن اس رات کے بعد آفتاب پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتا ہے اور بدلیوں کی کسی ٹولی کو بیچ میں حائل نہیں ہونے دیتا۔

کچھ توقف کے بعد بابا جی نے دوبارہ عمران خان کے بارے میں کہا کہ اسے کہو پڑھے، پڑھے کہ وہ کیا چیز تھی جس نے 5سال سے بھی کم عرصے تک حکومت کرنے والے فرید خان المعروف شیر شاہ سوری کو آج تک زندہ رکھا ہوا ہے اور وہ کیا چیز تھی کہ 200سال بعد بھی ”پانی پت“ میں احمد شاہ ابدالی کا کردار مسخ کیے جانے پر پورا افغانستان بھارت کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔

پانی پت؟ بابا جی حال ہی میں ریلیز ہونے والے بالی ووڈ کی فلم پانی پت کا حوالہ دے رہے تھے۔ پانی پت کے ذریعے بابا جی کی قابلیت مجھ پر عیاں ہو گئی۔بابا جی کے جلال کے سبب میں خاموش رہا مگر میں دل ہی دل میں خود پر ہنسنے لگا کہ ایک بابا اتنا عرصہ میرے سامنے ڈھونگ رچاتا رہا اور مجھے علم تک نہ ہو سکا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*