تازہ ترین
outline
Featured Video Play Icon

کیاواقعی جنرل گریسی نے قائداعظم کے حکم پر کشمیر فوج بھیجنے سے انکار کردیا تھا؟

پاکستان کے دوسرے سپہ سالار، جنرل سرڈیوڈڈُگلس گریسی جنہوں نے 11فروری1948سے 16جنوری1951ء تک افواجِ پاکستان کی قیادت کی ،کہا جاتا ہے کہ انہوں نے قائداعظم کے حکم پر کشمیر میں فوج بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔

قبائلی لشکر کی کشمیر آمد کے بعد مہاراجہ نے بھارت سے الحاق کا اعلان کردیا جسے بنیاد بنا کر بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں اُتار دیں ۔گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستانی فوج کے کمانڈر انچیف جنرل گریسی کو کشمیر کی جانب پیشقدمی کا حکم دیا مگر جنرل گریسی نے یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا ۔یہ ہے وہ پراپیگنڈا جسے سرکاری سچ کے طور پر پیش کیا گیا لیکن آپ کو یہ جان کر شدید حیرت ہوگی کہ اس پراپیگنڈے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں

اس سلسلے کی پہلی قسط میں بتایا جا چکا ہے کہ قبائلی لشکر 22اکتوبر 1947ء کو کشمیر کی طرف روانہ ہوا ۔اس وقت جنرل میسروی پاک فوج کے سربراہ تھے جن کے رخصت پر چلے جانے کے بعد جنرل گریسی نے قائم مقام کمانڈر انچیف کی ذمہ داریاں سنبھالے رکھیں۔جنوری 1948ء میں نئے آرمی چیف کے انتخاب کے لیئے قائداعظم کو تین ناموں پر مشتمل پینل تجویز کیا گیا جس میں Lt General Russel Pasha،Lt General Sir Frances Tuckerاور جنرل سر ڈیوڈ ڈُگلس گریسی کے نام شامل تھے ۔قائد اعظم نے افواج پاکستان کے کمانڈر انچیف کے طور پر جنرل گریسی کا انتخاب کیا۔کامن سینس کی بات یہ ہے کہ اگر جنرل گریسی نے واقعی حکم عدولی کی ہوتی تو کیا قائداعظم انہیں افواج پاکستان کی قیادت سونپنے کا فیصلہ کرتے ؟

میجر جنرل سید وجاہت حسین جو افواج پاکستان کے دوسرے کمانڈر انچیف جنرل گریسی کے ADCکے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے ،ان کا خیال ہے کہ حکم عدولی کا فسانہ قائداعظم کی وفات اور جنری گریسی کی بطور کمانڈر انچیف سبکدوشی کے بعد گھڑا گیااوراس پراپیگنڈے کے پیچھے میجر جنرل اکبر خان سمیت بعض فوجی افسروں کا ہاتھ ہے

میجر جنرل وجاہت حسین کے خیال میں حکم عدولی کی بات پہلی بار Alan Campbell Johnsonکی کتابMission with Mountbattenمیں سامنے آئی تو انہوں نے جنرل گریسی سے پوچھا :’’سر کیا یہ سچ ہے کہ آپ نے قائد اعظم کا حکم ماننے سے انکار کردیاتھا؟‘‘جنرل گریسی نے مُسکراتے ہوئے کہا ’’یہ بات سراسر غلط اور بے بنیاد ہے‘‘۔میجر جنرل وجاہت حسین اپنی کتاب Memories of a Soldierمیں اس حقیقت سے پردہ اُٹھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جنرل گریسی اور قائداعظم کے تعلقات بہت خوشگوار تھے جس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ جب جنرل گریسی کور کمانڈر کراچی تھے تو قائداعظم نے انہیں اپنی سرکاری رہائشگاہ فلیگ اسٹاف ہاؤس میں رہنے کی اجازت دی ۔

قائداعظم نے جنرل گریسی کو کشمیر کی طرف پیشقدمی کا حکم ضرور دیا تھا لیکن جب دونوں ملکوں کے مشترکہ سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل ایکلکAuchinleckاور جنرل گریسی نے قائداعظم کو اس اقدام کے ممکنہ نتائج سے آگاہ کیا تو قائد اعظم نے بطور گورنر جنرل جاری کیئے گئے اپنے سابقہ حکم کو واپس لے لیا ۔

گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح کی جانب سے کشمیر کی جانب پیشقدمی کے حکم کو واپس لیئے جانے کا تذکرہ نہ صرف میجر جنرل وجاہت حسین نے اپنی کتاب Memories of a soldier میں کیا ہے بلکہ پاکستان کے سابق وزیراعظم چوہدری محمد علی نے بھی اپنی کتاب The emergence of Pakistanمیں اس بات کی تصدیق کی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جنرل گریسی نے تاجِ برطانیہ سے وفاداری نباہنے کے بجائے پاکستان کے مفادات کو مقدم جانا اور کشمیر کے ایشو پر ہونے والی پہلی پاک بھارت جنگ میں سپہ سالاری کا حق خوب اداکیا ۔مخدوش حالات کے پیش نظر جب جنرل گریسی کو اپنی ذاتی سکیورٹی کی طرف توجہ دلائی گئی تو انہوں نے کہا کہ مجھے کون مارے گا ؟مجھے ذاتی محافظ درکار نہیں ،میں چاہتا ہوں کہ ہماری فوج کا ہر سپاہی کشمیر کے محاذ پر تعینات ہو


جنرل گریسی نے اپنی جنگی مہارت اور تجربے سے بھارت کوکیسے مات دی ؟اس کا اندازہ بھارتی ہم منصب کو چکمہ دینے سے متعلق ایک دلچسپ واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے۔دسمبر1948ء میں پاک فوج کا ’’آپریشن وینس‘‘پورے جوبن پر تھا ،بھارتی فوج کو بہت نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا اور جنرل گریسی کو یہ بات معلوم تھی کہ بھارت جنگ بندی کے لیئے بہت بیتاب ہے۔جنرل گریسی نے اپنے اے ڈی سی کو بلایا اور بتایا کہ آج بھارتی فوج کے کمانڈر انچیف کا ٹیلیفون متوقع ہے مگر اسے ٹرخانا ہے تاکہ ہم جنگ بندی سے پہلے کاری ضرب لگانے میں کامیاب ہو جائیں۔

تین بجے کے قریب ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ بھارتی کمانڈرانچیف کے اے ڈی سی کیپٹن بھارت سنگھ نے کہا ،جنرل رائے باؤچر(Roy Boucherf)پاکستانی ہم منصب سے فوری طور پر بات کرنا چاہتے ہیں۔جنرل گریسی کے اے ڈی سی کیپٹن وجاہت حسین نے ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے کہا کہ چیف صاحب اس وقت موجود نہیں اور معلوم بھی نہیں کہ وہ کہاں ہوں گے ،میں رابطہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں ،آپ کچھ دیر بعد کال کریں

اس دوران جنرل گریسی نے وزیراعظم لیاقت علی خان سے ٹیلیفون پر بات کی اور انہیں تازہ ترین پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ جنرل رائے باؤچر رابطہ کرنے کی کوشش کررہا ہے مگر میں بات کرنے سے گریز کر رہا ہوں۔کچھ دیر بعد بھارت سے دوسری کال آگئی ۔جنرل گریسی کے اے ڈی سی نے بتایا کہ صاحب ،یہاں نہیں ہیں اور ان کے بارے میں کچھ معلوم بھی نہیں ہو رہا کہ کہاں ہیں ،ہو سکتا ہے وہ گالف کلب میں ہوں۔بھارتی سپہ سالار کا اے ڈی سی منت سماجت پر اتر آیااور کہنے لگا ،معاملہ بہت حساس نوعیت کا ہے ،براہ کرم کسی کو گالف کلب پیغام دیکر بھیج دیں۔

رابطہ منقطع ہونے پراے ڈی سی نے جنرل گریسی کو اطلاع دی تو انہوں نے کہا ،شاباش کچھ دیر مزید الجھائے رکھو ۔اُدھر بھارتی کمانڈر انچیف کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا اور اِدھر جنرل گریسی کبھی 7ڈویژن کے جے او سی جنرل Loftus Tottenhamسے صورتحال معلوم کرتے تو کبھی ڈائریکٹر آرٹلری بریگیڈیئر Morlyکو ٹیلیفون کرکے توپوں کی گھن گرج بڑھانے کا حکم دیتے۔

ایک گھنٹے کے دورانئے میں تیسری بار بھارت سے ٹیلیفون آگیا۔کیپٹن وجاہت حسین نے بتایا کہ گالف کلب میں افواج پاکستان کے سربراہ کو پیغام بھجوایا گیا ہے مگر ان کے یہاں آنے کے لیئے کچھ وقت درکارہوگا۔یہ جواب ملتے ہی کسی نے کیپٹن بھارت سنگھ سے ٹیلیفون اچک لیا اور غصیلی آواز میں کہا،میں جنرل رائے باؤچر بات کر رہا ہوں،جنرل گریسی سے بات کرواؤ۔کیپٹن وجاہت نے پھر وہی جملہ دہرایا کہ چیف صاحب کو پیغام بھیج دیا گیا ہے مگر وہ ابھی تک نہیں لوٹے۔جنرل باؤچر نے دھاڑتے ہوئے کہا ،دیکھو جوان!میں بھی اس گھر میں رہا ہوں،گالف کلب آرمی ہاؤس سے متصل ہے اوراتنا وقت نہیں لگنا چاہئے ،پلیز ان سے رابطہ کریں اور فوری بات کروائیں ۔کیپٹن وجاہت حسین نے ہر ممکن کوشش کی یقین دہانی کروانے کے بعد فون بند کر دیا اور جنرل گریسی کو صورتحال سے آگاہ کیا۔جنرل گریسی مُسکرائے اور ایک بار پھر فرنٹ لائن پر تعینات کمانڈروں سے بمباری کی تفصیلات معلوم کرنے لگے جب تسلی ہوگئی تو ایک بار پھر وزیراعظم لیاقت علی خان سے بات کی اور انہیں صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ بھارتی فوج کے سربراہ جنگ بندی کے لیئے مرے جارہے ہیں ،ہم اپنے مقاصد حاصل کر چکے ہیں اگر آپ کی اجازت ہو تو سیز فائر کی تفصیلات طے کر لی جائیں ؟وزیراعظم نے اجازت دیدی تو تب کہیں جا کر جنرل گریسی نے بھارتی ہم منصب سے بات کی۔

جنرل گریسی جمہوریت پسند سپہ سالار تھے اور فوج کی سیاسی معاملات میں مداخلت انہیں سخت ناپسند تھی۔ترقی کے منتظر پاک فوج کے مقامی افسر ایوان اقتدار کی راہداریوں کا طواف کرتے پائے جاتے تو جنرل گریسی نہ صرف خفگی کا اظہار کرتے بلکہ سخت ڈانٹ ڈپٹ بھی کرتے ۔اس حوالے سے جنرل ایوب خان اور میجر جنرل اکبر خان کی سرزنش کے دو واقعات دلچسپی کاسامان لیئے ہوئے ہیں۔

ایک بار جنرل گریسی مشرقی پاکستان گیریژن کا دورہ کرنے جا رہے تھے اور چونکہ پاک فضائیہ کے کارگو طیارے پر سفر کر رہے تھے تو ری فیؤلنگ کے لیئے لاہور رُکنا پڑا۔اس دوران اوریئنٹ ایئرویز کی ڈھاکہ سے آنے والی فلائٹ نے لینڈ کیا تو مسافر اُترنے لگے ۔اچانک جنرل گریسی نے ہڑ بڑا کر کہا ،یہ ایوب یہاں کیا کر رہا ہے؟اور پھر اپنے ای ڈی سی کوکہا کہ اسے بلا کر لاؤ۔جنرل گریسی نے غصے سے پوچھا ،تم یہاں کیا کررہے ہو؟میجر جنرل ایوب خان نے کہا ،سر میں وزیراعظم سے ملنے کراچی جا رہا ہوں۔جنرل گریسی نے کہا ،تمہارا وزیراعظم سے کیا کام ؟میں تمہارے ڈویژن کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اور تمہیں کراچی کا طواف کرنے سے فرصت نہیں۔اس کے بعد جنرل گریسی کے حکم پر ایوب خان کاسامان آرمی چیف کے کارگو جہاز میں منتقل کر دیا گیا اور وہ اسے اپنے ساتھ ڈھاکہ لے گئے


دوسرا واقعہ جے او سی کوئٹہ میجر جنرل اکبر خان سے متعلق ہے جنہیں 1948کی پاک بھارت جنگ کے بعد کراچی سے کوئٹہ بھیج دیا گیا تھا۔جنرل گریسی وزیراعظم لیاقت علی خان سے ملنے کے لیئے کراچی کے ماڑی پور ملٹری بیس پر اترے تو اسٹیشن کمانڈر نے ان کا استقبال کیا اور وہ وہاں سے کار کے ذریعے وزیراعظم ہاؤس روانہ ہوئے

راستے میں ایک جھنڈے والی فوجی گاڑی گزرتے دیکھ کر جنرل گریسی نے کہا ،اکبر؟یہ یہاں کیا کر رہا ہے ،روکو اسے۔گاڑیاں رُک گئیں تو انہوں نے میجر جنر ل اکبر خان سے کہا ،تمہیں تو کوئٹہ میں ہونا چاہئے تم یہاں کیا کر رہے ہو؟پہلے تو جنرل اکبر نے یہ بہانہ تراشا کہ وہ یہاں چیف کا استقبال کرنے آئے ہیں۔جنرل گریسی نے کہا ،میں نے تمہیں نہیں بلایا اور ویسے بھی مجھے وصول کرنا ہوتا تو تم بروقت آتے ۔اس پر جنرل اکبر خان نے کہا کہ میری بیٹی میٹرک کے پیپر دے رہی ہے اس لیئے میں کوئٹہ نہیں جا سکا۔یہ جواب سن کر ساتھ کھڑے اے ڈی سی کی ہنسی چھوٹ گئی۔جنرل گریسی نے کہا ،اصل بات یہ ہے کہ تمہیں وزیراعظم کے ارد گرد منڈلاتے رہنے کا شوق ہے۔جنرل اکبر خان کو صبح ہر حال میں کوئٹہ پہنچنے کا حکم دینے کے بعد جنرل گریسی واپس گاڑی میں بیٹھے تو کہنے لگے ،میں نہیں چاہتا کی میرے جے او سیز وزیراعظم کی گاڑی کا دروزہ کھولتے پھریں

جنرل گریسی سادگی پسند سپہ سالار تھے جنہیں پروٹوکول کی ہرگز خواہش نہ تھی۔قیام پاکستان کے وقت امریکہ سے جو تین Cadillacگاڑیاں ملیں ،ان میں سے ایک کمانڈر انچیف کو دیدی گئی ۔جنرل گریسی اسی گاڑی میں سویلین ڈرائیور اور اے ڈی سی کے ساتھ سفر کرتے اور ان کے ساتھ اور کوئی گاڑی نہ ہوتی۔جب گالف کورس جانا ہوتا یا کوئی اور نجی مصروفیت ہوتی تو سرکاری گاڑی استعمال نہ کی جاتی ۔جنرل گریسی کی Cadillacکار اس قدر پرانی اور پھٹیچر تھی کہ ایک بار لاہور سے راولپنڈی آتے ہوئے گاڑی بند ہو گئی اور چلنے سے انکار کر دیا تو جنرل گریسی اور ان کے اے ڈی سی کو خود نیچے اُتر کر دھکا لگانا پڑا۔
یوں تو جنرل گریسی کی کامیابیوں اور کارناموں کی فہرست بہت طویل ہو سکتی ہے مگر بطور سپہ سالار ان کا سب سے بڑا کارنامہ واہ کینٹ میں پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا قیام ہے۔وراثت میں ملنے والے اسلحہ پر بھارت نے قبضہ جمالیا تو جنرل گریسی نے راولپنڈی کا نقشہ نکالا اور خود گاڑی چلاتے ہوئے ٹیکسلا جا پہنچے جہاں انہوں نے اسلحہ ساز فیکٹری کی جگہ کا انتخاب کیا اور ایک فوجی افسر کو ضروری مشینری خریدنے کے لیئے برطانیہ بھیج دیا ۔آج پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا شمار دنیا کے چند بڑے اسلحہ ساز اداروں میں ہوتا ہے۔

جنرل گریسی کو ایکسٹینشن کیوں دینا پڑی اور ان کے جانشین کا انتخاب کیسے ہوا ؟یہ سب معلوم ہو سکے گا چند روز بعداگلی قسط میں

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*