outline

قصور کس کا؟-خورشید ندیم

نیا مقدمہ یہ ہے کہ نو ماہ کی ناکامیوں کا انتساب سابقہ حکومت کے نام ہے۔ سابق حکمران معیشت کے پاؤں میں قرض کی وہ بیڑیاں ڈال گئے ہیں کہ چند قدم چلنا دشوار ہے۔ ہم نے تو مہمیز دینے کی کوشش کی مگر رخشِ حکومت ہے کہ مانتا نہیں۔ یہ اعترافِ عجز ہے، اعترافِ شکست ہے یا نا اہلی کا اعلانِ عام۔ عنوان آپ جو چاہیں دے لیں، نتیجہ ایک ہی ہے: ڈھلوان کا سفر شروع ہو چکا۔

یہ مقدمہ اخلاقی بنیادیں رکھتا ہے نہ سیاسی۔ اگر حکومت کے ابتدائی دعووں کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو مضحکہ خیز ہے۔ حیرت ہے کہ نو ماہ بعد کوئی حکومت کیسے یہ مؤقف اختیار کر سکتی ہے۔ حیرت در حیرت یہ ہے کہ بہت سے لوگ اسے مان بھی لیتے ہیں۔ یہ سیاست نہیں، رومان ہے۔ رومان کا مطلب ہی یہ ہے کہ عقل و شعور کو الوداع کہہ دیا جائے۔

سیاست کا معاملہ یہ ہے کہ رومان پروری اس کے مزاج کا حصہ نہیں۔ ہماری سیاسی تاریخ میں، ابوالکلام سے بڑا رومانوی آدمی نہیں گزرا۔ سیاست نے اس رومان کے تار و پود اس طرح بکھیرے کہ مولانا مودودی کے الفاظ میں، یہ رومان بیسویں صدی کی سب سے بڑی ٹریجڈی بن گیا۔ کوئی اس ٹریجڈی کا مرثیہ سننا چاہے تو جامعہ مسجد دلی میں مولانا آزاد کی آخری تقریر سن لے۔ وقت نے اسے مولانا کی اپنی آواز میں محفوظ کر دیا ہے۔

موجودہ رومان کی بھی ایک جھلک دیکھیے۔ بارشوں کی فراوانی ہوئی تو ایک خاتون وزیرِ باتدبیر نے اس کا کریڈٹ عمران خان کو دیا ”جب ایسے نیک حکمران ہوں تو آسمان سے رحمتیں برسنے لگتی ہیں‘‘۔ حکمران ضرورت سے زیادہ نیک نکلے۔ بارش ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ پنجاب میں گندم اور آم کی فصل اس کی زد میں ہے اور یہ پوری قوم کے لیے تشویش کی بات ہے۔ آج پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ لوگوں سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ بارشیں رکوانے کے لیے دعا کریں۔ رومان پروروں کو یہ سمجھانا مشکل ہے کہ آسمان والے کے فیصلے اس کی اپنی حکمت کے تابع ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ عمرؓ ابن خطاب جیسا حکمران ہو اور قحط شہروں اور بستیوں میں ڈیرے جما لے۔

بر سبیلِ تذکرہ اس مقدمے کو مان لیا جائے تو بھی چند اقدامات ایسے ہیں، جن کا انتساب سابقہ ادوار کے نام نہیں ہو سکتا۔ اس کی ذمہ داری تو جناب عمران خان کو لینا ہو گی۔ جیسے پنجاب اور کے پی کے لیے وزرائے اعلیٰ کا انتخاب۔ پنجاب کا انتظام کھیل تماشا نہیں، یہ پاکستان کا ساٹھ فی صد ہے۔ اسے چلانے کے لیے غیر معمولی انتظامی صلاحیت کے ساتھ، عصبیت بھی چاہیے۔ عمران خان کے انتخاب نے زبانِ حال سے بتا دیا ہے کہ ان دونوں باتوں سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اس بات کا اعتراف عمران خان کے علاوہ پاکستان کے ہر شہری کو ہے، قطع نظر اس بات کے کہ وہ تحریکِ انصاف سے تعلق رکھتا ہے یا کسی دوسری جماعت سے۔ کیا پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کا فیصلہ نواز شریف نے کیا تھا؟

کے پی میں نا اہلی کی ایک متوازی داستان رقم ہو رہی ہے۔ تنہا بی آر ٹی کی مثال یہ جاننے کے لئے کفایت کرتی ہے کہ تحریکِ انصاف نے اس ملک کو کس درجے کی قیادت سے فیض یاب کیا ہے۔ یہ نا اہلی کا ایسا عظیم الشان نمونہ ہے کہ تا دیر اس کی حکایتیں بیان کی جاتی رہیں گی۔ یہ بطور ماڈل میوزیم میں رکھنے کی شے ہے۔ 2018ء کے انتخابات میں سارے ملک کے سامنے کے پی کی جو تصویر کشی کی گئی وہ ”پوسٹ ٹرتھ‘‘ کی منفرد مثال ہے۔ بالخصوص پولیس اور تعلیم کے باب میں ایسی ایسی داستانیں سنائی گئیں اور اس مہارت سے سنائی گئیں کہ بہت سے لوگ قائل ہو گئے۔ لوگوں نے حیرت سے سوچا کہ ”پاکستان میں کیا ایسا کچھ ممکن ہے‘‘۔ اب ہر دعوے کی حقیقت واضح ہو رہی ہے۔ تعلیم کے بارے میں لوگوں نے جان لیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا بی آر ٹی منصوبہ نواز شریف کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے؟

سوالات اور بھی بہت ہیں۔ کیا یہ سابقہ حکومت کا مشورہ تھا کہ سو دن کے منصوبوں کا اعلان فرمایا جائے اور پھر سو دن گزرنے کے بعد کھمبا نوچا جائے؟ وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا جائے اور پھر حیلوں بہانوں سے گریز کیا جائے؟ گاڑیاں اونے پونے نیلام کر دی جائیں اور جب مہمان آئیں تو کرایہ پر حاصل کی جائیں؟ وزیروں اور مشیروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ بھی کیا سابقہ حکومت کی وجہ سے ہے؟ کوئی چاہے تو سوالات کی اس فہرست کو طویل کر سکتا ہے کہ آئے دن بے سمت سفر کی داستانیں رقم ہو رہی ہیں۔

حکومت کی نا کامی ایک ایسی ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ نواز شریف کے بد ترین ناقد بھی اس کا اعتراف کر چکے۔ ناقدین ہی نہیں، برسوں عمران خان کا بت تراشنے والے بھی خود کو مجبور پاتے ہیں کہ ان کی حکومتی کارکردگی سے اعلانِ برات کریں۔ لوگ یہ کہنے کا حوصلہ تو نہیں رکھتے کہ پچھلی حکومت اس سے بہتر تھی، لیکن اب ان کی وکالت کے لیے بھی تیار نہیں کہ انہیں بھی اپنی ساکھ کا خیال رکھنا ہے۔

محبت کے ہاتھوں مجبور اب بھی عمران خان صاحب کو کریڈٹ دینا چاہتے ہیں کہ شریف خاندان کو گھر پہنچا دیا۔ ان کے خیال میں یہ بھی کوئی معمولی کارنامہ نہیں۔ دل کی تسلی کے لیے یہ خیال اچھا ہے‘ ورنہ جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ کارنامہ کس نے سرانجام دیا۔ عمران خان تو زیبِ داستان کے لیے تھے۔ اس داستان کا آخری باب، لگتا ہے کہ لکھا جا رہا ہے۔ نئی داستان ہو گی تو کردار بھی نئے ہوں گے۔

ایمنسٹی سکیم بھی حکومت کے لیے ایک نئی آزمائش بن چکی۔ یہ دراصل خوابوں کے بکھرنے کا عمل ہے۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ پوسٹ ٹرتھ کی عمر پوری ہو چکی۔ ایک ایک دعویٰ وقت کی کسوٹی پر کھوٹا ثابت ہو رہا ہے۔ کارِ جہاں بانی کبھی اتنا آسان نہ تھا۔ جدید دور کی ریاست پیچیدہ ہو چکی۔ شیر شاہ سوری کی مثالیں اب کام نہیں کرتیں۔ مجھے حیرت ہے کہ حکومت میں شامل لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ جدید دور کے لوگ ہیں جیسے اسد عمر۔ آٹھ نو ماہ میں اندازہ ہوا کہ یہ جدید دنیا کے لوگ ہیں نہ قدیم کے۔ یہ بس اپنی ہی دنیا کے لوگ ہیں۔

مکرر عرض ہے کہ سارا ملبہ اب نظام پر ڈالا جائے گا یا پھر ماضی کی لوٹ مار پر۔ پہلے رویے کے لیے ایک محاورہ ہے ‘ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا‘۔ ماضی میں پناہ لینے والوں کے لیے بہت محاورے ہیں لیکن یہاں دھرانا لا حاصل ہے کہ لوگ ان سے واقف ہیں۔ سوال اب ایک ہی ہے: رومان کب تک نا اہلی کے لیے حجاب بنے رہے گا؟ کیا یہ مقدمہ عوامی سطح پر مقبول ہو گا کہ موجود ہ حکمران بے قصور ہیں، اصل قصور ان کا ہے جو پہلے تھے؟

کیا پارلیمان اس صورتِ حال میں بروئے کار آئے گی؟ پی ٹی ایم کا وفد سینیٹ کی کمیٹی سے ملا۔ انہیں سنا گیا اور پی ٹی ایم نے بھی کمیٹی پر اعتماد کا اظہار کیا۔ یہ ایک مثبت پیش رفت اور اس بات کا اظہار ہے کہ جو طبقات ریاست سے شکایت رکھتے ہیں، وہ بھی ریاست کے ایک ادارے پارلیمان پر اعتماد رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پارلیمان اب بھی ملکی یک جہتی کے لیے موثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا قومی مسائل کی تفہیم اور حل کے لیے پارلیمان کو دیگر معاملات میں حاکم تسلیم کیا جائے گا؟

یہ کام حکومت کا ہے کہ وہ پارلیمان کو موثر بنائے۔ اس وقت فیصلے کہیں اور ہو رہے ہیں۔ یہ حکومت کے مفاد میں ہے کہ وہ پارلیمان کو حاکم بنائے اور اجتماعی بصیرت کو بروئے کار آنے دے۔ لوگ حکومت سے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ جن فیصلوں کا براہ راست تعلق اس حکومت سے ہے، ان کی ذمہ داری تو بہرحال قبول کرنا پڑے گی۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*