تازہ ترین
outline
jibran abbasi

تین الیکشن تین کہانیاں- جبران عباسی

میرا خیال تھا علی ترین واضح اکثریت کے ساتھ نشست نکال لے گا ، بڑے باپ کا بیٹا ہے، بڑی پارٹی کے نامی گرامی چیرمئین کی توقعات کا محور ، اسکی جہاں دیدہ نظروں میں ہے ۔مگر یہ جان کر بڑی حیرت ہوی ن لیگ کے ایک غیر معروف سیاسی رہنما نے ایک لاکھ ووٹ لے کر پچیس ہزار ووٹوں کی برتری سے شکست دے دی۔ ایسا پہلی بار نہی ہوا میرے الیکشن کے یہ اندازے تین مرتبہ غلط ہو چکے ہیں۔ پہلی مرتبہ جب مخدوم جاوید ہاشمی ضمنی انتخابات میں اپنی چھوڑی ہوی نشست پر تحریک انصاف سے شکست کھا گے۔ دوسری مرتبہ جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیلری کلنٹن کو حیرتناک شکست سے دوچار کیا ، میں ڈر گیا یہ پاگل انسان مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دے گا۔ اور تیسری مرتبہ لودھراں کا حالیہ معرکہ۔

اکثر ایسا ہو جاتا ہے انسان کی توقع کے برخلاف فیصلے آ جاتے ہیں کیونکہ حقیقت سے آگاہی صرف رب کے پاس ہے وہ تو اپنے بندے میں صرف خود اعتمادی ڈال دیتا ہے اور بندہ خود کو افلاطون جیسا عقل مند تصور کرنے لگتا ہے۔لودھراں کے الیکشن ہوں یا مخدوم جاوید ہاشمی کی شکست اور ڈونلڈ ٹرمپ کی خوفناک نتائج لیے جیت ایک راز تو آشکار ہو گیا سیاست شطرنج کی بساط جیسی ہے کوی خبر نہی کب وزیر گھیرے میں آ گیا اور بادشاہ ختم۔ لیکن ایک عنصر اور ہے جو جیت ہار کا فیصلہ کرتا ہے وہ ہے عوام کی مرضی جو نہ کسی منشور کے تابع ہے نہ لالچ کے۔ بس ووٹر کے ذہن میں کوی ایسی بات اڑ گئی وہ ہر پراپیگنڈہ کو توڑتے ہوئے اپنی مرضی کا انتخاب کر بھیٹتا یے۔

تنیوں الیکشن کیسسز کا مطالعہ کیا ایک بات واضح ہو جاتی ہے ووٹر نے جان بوجھ کر ہلیری کلنٹن، مخدوم جاوید ہاشمی اور علی ترین کو ہرایا۔ امریکہ جیسے مہذب معاشرے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی بدتمیزیاں پر بڑا غور و غل مچا مگر انھیں وہ لومڑ نما ہیلری سے زیادہ دیانتدار لگا۔مخدوم جاوید کی باغیانہ جہدوجہد سے زیادہ ووٹر کو پی ٹی آی کے امیدوار کی ’’عمرانی وفاداریاں‘‘ بھا گئیں۔ علی ترین میں ایک سیاستدان جیسی ہر خوبی تھی، عمدہ پہناوے سے لے کر سیاسی لب و لہجہ تک، مگر ن لیگ کے پیرانہ عمر درویش کی سادگی نے پورے ایک لاکھ ووٹوں کی قیمت وصول کی۔عمران خان صاحب اولذکر شکست پر کتنا خوش ہوئے ہوں گے، فخر سے من میں خیال کیا ہو گیا کہا تھا تمھاری طرح تمھارے مشورے بھی فالج زدہ ہیں ، ٹکے رہو ، وقت آنے پر کوی وزارت وغیرہ دے دیں گے۔ اور اب سنا ہے آخری شکست سے سیخ پا ہیں ، دھڑا دھڑ ملک گیر جلسوں کی تیاریاں شروع کر دی ہیں ۔ اب کی بار اگر اکثریت حاصل نہ کی ساری عمر کا کف رہے گا۔

علی ترین کی شکست واضح پیغام ہے تمام سیاستدانوں کیلئے، دانشوروں کیلئے، افکار لکھنے والوں کیلیے، پاجی تمھارے ہمالیای اندازے ہماری مرضی کے ریت کے قلعوں کے آگے بہت چھوٹے ہیں۔

ایک واضح پیغام ہے تم کیا سمجھتے ہو ، ارب پتی سرمایہ دار ہو، ملوں کے مالک ہو ، خان کے دلارے ہو ، جو کوی بھی ہو کم ازکم لودھراں میں موروثی سیاست قبول نہی۔ ایسے نہی چلے گا ، ہم نے تم کو ہزاروں کی اکثریت سے منتخب کروایا، اور تم نے ہمارا حال تک پوچھنا گوارا نہی کیا اور جب نااہل ہوئے تو اپنی سیاست بچانے کیلئے اپنے جوان سالا بیٹے کو لے آئے۔

امریکہ میں سی این این سے لے کر سی ای اے تک کی خواہش تھی ہلیری کلنٹن جیتیں، سب نے مل کر کوشش بھی کی۔ ہر پول ہر اندازے کی ونر ہلیری کو پڑنے والے ووٹ ڈونلڈ ٹرمپ کے ووٹوں سے کم نکلے کیونکہ امریکہ کے ووٹر نے سوچ لیا اگرچہ افغانستان کی ناکامی، مڈل۔ایسٹ میں کم ہوتا اثر و رسوخ ، چائنہ رشیا کی بڑھتی ہوی بدمعاشیوں کا بہتر علاج ڈونلڈ ٹرمپ سے زیادہ بہتر ہیلری کے پاس ہے، ہیلری کی چار دھائیاں سیاست میں گزریں مگر امریکہ فسٹ کا نعرہ سب سے بڑھ کر اہم ہے۔ عالمی سیاست کا سوال تو ضرور ہے مگر ہماری کوائلٹی اف لائف پر کوی سمجھوتا نہی کیا جا سکتا اور عیاش فطرت ڈونلڈ ٹرمپ کو اس امر کا بخوبی احساس ہے۔

شطرنج میں وہی کامیاب ہوتا ہے جو مخالف کھلاڑی کی توقع کے برعکس چالیں چلے ، زیادہ ووٹ بھی اسی سیاستدان کو ملتیں ہیں جو مخالف امیدوار سے زیادہ عوام کی سوچ اور بالخصوص مرضی کی نبض کو سمجھے۔یہ مرضی عموماً سیاستدان سے زاتی زد کا نتیجہ ہوتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ آج تک مقبول رہنما نہی بن سکے مگر عوام کو ہیلری سے زد تھی وہ اپنے خاندان کو سیاسی بنانا چاہتیں ہیں سیم ٹو سیم لودھراں میں ہوا ۔ عوام کی قوت انتخاب میں بڑی لچک ہے ، نامعلوم کب کس کی بھری ہوی جھولی خالی کر کے خالی جھولی کو بھر دیں۔ ہندوستان میں بی جی پی کی اکثریتی حکومت ہے، بیشتر صوبوں کی بھاگ دوڑ بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ مگر ایسا بھی ہوا مرکز یعنی دہلی میں ایک نومولود سیاستدان اروند کیجروال نے 70 میں سے 67 سیٹوں پر اپنی عام آدمی پارٹی کو اکثریت دلوا کر مودی جی کے سینے پر مونگ مسل رہا ہے۔

عوام کی مرضی آزاد ہوتی ہے ، تعصب کا عنصر ناپید، عقیدت مندی سے عاری ایک آوارہ مزاج لڑکے کی طرح جو بازاروں میں آوارہ گردیاں کرتا پھرتا ہے ، سپیرے کے پاس رکا ، تماشہ دیکھا اور اندازے لگاتا ہوا کون کس کے ساتھ آیا ہے آگے چل دیا۔ لودھراں کے جلسے میں بھی کھچا کھچ رش تھی ، ووٹ کا ٹرن بھی اچھا خاصا تھا ، مگر وہی ہوا آوارہ مزاج ووٹر کی مرضی نے ترین خان کے فارم ہاوس میں مایوسی پھیلا دی۔مگر گبھرانے کی ضرورت ہر گز نہی، آوارہ مزاج لڑکے کی طرح عوام کی مرضی میں بھی مستقل مزاج نہی ہوتی، صبح کچھ شام کچھ، موسموں کے بدلاو کی طرح بدلتی رہتی ہے ۔

بڑے انتخابات میں علی ترین لازماً جیت جائیں گے حوصلہ نہ ہاریں ، اپنے ’’آئیڈل‘‘ انکل سے کچھ سیکھیں۔ میرا ہیلری کو بھی مشورہ ہے ہمت نہ ہاریں، تیل دیکھیں اور تیل کی دھار اور باغی تو کبھی شکست تسلیم ہی نہیں کرتے یا تو شہید ہوتے ہیں یا غازی۔

بس دعا کریں عوام کی سوچ اسی طرح آوارہ گردیاں کرتی پھرے ،کبھی یہاں کبھی وہاں ، ہو سکے تو صدقات و عطیات کا سہارا لیں کیونکہ جس دن عوام کی سوچ سے آوارہ گردی نے ختم ہو جانا ہے آپ کی سیاست کی چلتی دکان نے ہمیشہ کیلئے بیٹھ جانا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*