تازہ ترین
outline
fahd riaz

بلا امتیاز احتساب کی ضرورت۔فہد ریاض

ہمارے ہاں ایک مثل مشہور ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ کہنے کو تو یہ ضرب المثل ہے مگر یہ آج کے دور کی مکمل عکاسی کرتی نظر آتی ہے۔ صاحبان اقتدار اپنی لاٹھی کا آزادانہ استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ اور بلاشبہ یہی وجہ ہے کہ آج مملکت خداد پاکستان شدید مسائل کا شکار ہے۔ادارے تباہی اور بدحالی کا شکار ہیں جبکہ اعلی افسران دن دگنی رات چگنی ترقی کر رہے ہیں۔ادارے انتظامی پستی کا شکار اور بیوروکریٹس کا اسٹیٹس بلند سے بلند ترین ہوتا جا رہا ہے۔ایک ہی محکمہ کے چار چار سیکرٹریز اور ان بیورو کریٹس کو دی جانے والی کئی کئی لاکھ تنخواہیں اور کروڑوں کی مراعات ملکی خزانے پر بوجھ بن چکی ہیں۔ بیوروکریٹس کا رعونت سے بھرا لہجہ اور رویہ اپنے زیر سایہ چھوٹے اور کمزور ملازمین کیلئے درد سر بنا ہوا ہے اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ سب افسران بالا ایسا منفی طرز عمل نہیں رکھتے مگر بہت سی کالی بھیڑوں نے سارے سسٹم کو ہائی جیک کر رکھا ہے اور جو جتنا بڑا کرپٹ ہے وہ اتنا معزز اور حاکموں کا چہیتا ہے۔

افسران بالا کو دی جانے والی پرکشش مراعات اور خطیر تنخواہوں کے باوجود ان سرکاری اداروں کینجکاری کی سکیمیں اور نوٹیفکیشن آئے روز جاری کر دیے جاتے ہیں جو حکام کی عیاشیوں اور شاہ خرچیوں اور انتظامی ڈھانچے کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے باوجود سب اچھا کا راگ الاپتے وزیر و مشیر اور حکومتی افراد پاکستانی اداروں کی ترقی، خوشحالی اور گڈ گورننس کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں اور ان میں سب سے بڑے دعوے دار وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف اور انکی کابینہ کے افراد ہیں جو کبھی تو ترکی کے نظام سے متاثر ہو کر تو کبھی چین کے نظام سے متاثر ہو کر چند دن بڑے جوش سے اداروں کی بہتری اور انتظامی ڈھانچہ کو سنوارنے کیلئے بھاگ دوڑ کرتے ہیں۔ مگر خادم اعلی کا یہ جوش وقتی جذباتیت سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔ اور پھر میاں صاحب کا ہر منصوبہ کرپشن اور بد نظمی کا شکار ہو جاتا ہے۔

حیرت کی بات ہے کہ ملکی تمام ادارے ناکام اور خسارے میں جا رہے ہیں اور ہمارے حاکموں کے اپنے ذاتی کاروبار منافع بخش ہیں۔ گڈ گورننس کے دعوے دار حکمران کبھی محکمہ تعلیم تو کبھی محکمہ صحت کی نجکاری کا اعلان کرکے لاکھوں بر سر روزگار افراد کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگارہے ہیں۔ ایسے میں کبھی ملک کا مستقبل بنانے والے اساتذہ تو کبھی عوام کے مسیحا ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کو اور دن رات عوام کی خدمت پر مامور نرسز تو کبھی پی آئی اے کے ملازمین محفوظ مستقبل کیلئے سڑکوں پر احتجاج ریکارڈ کرواتے نظر آتے ہیں۔ ملک عزیز میں ان سرکاری اداروں کے ملازمین اور انکے اہل خانہ شدید ذہنی و جسمانی اضطراب کا شکار ہیں۔اگر اداروں کی نجکاری ہی کرنی ہے تو پنجاب حکومت نے ایک محکمہ کے چار چار سیکرٹریز کیوں بنائے ہیں اگر یہ اتنے افسران مل کر بھی ایک محکمہ کو منافع بخش بناتے ہوئے احسن طریقے سے چلا نہیں سکتے تو عوام اور ملکی خزانہ پر ان افسران بالا کا بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے۔

قومی ادارے ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اگر ادارے تباہ ہوں گے تو معیشت تباہ ہو گی اور اداروں کینجکاری کا مطلب معیشت کو گروی رکھ دینا ہے ایسے حالات میں غربت اور بے روزگاری کی شرح بڑھے گی اور بھوک و افلاس کے ڈیرے ہوں گے۔ میاں صاحب اداروں کو بیچنا چھوڑدیں روکنا ہے تو اداروں میں کرپشن روکیے۔ سستی روٹی، لیپ ٹاپ، یلو کیب جیسی بے کار اسکیمز میں ہونے والی کرپشن کو روکیے یا پھر موجودہ ملتان اور لاہور میٹرو بس منصوبہ میں پائے جانے والے حالیہ کرپشن سکینڈلز کو روکیے۔اور پاکستان میں میگا پراجیکٹ سی پیک کی شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھاکر ملکی دولت کو لٹنے سے روکیے۔اورنج ٹرین لائن منصوبہ میں اربوں روپوں کی خرد برد یوتھ لون سکیم میں ہونے والی بے ضابطگیوں کو روکیے۔ نقل ہی کرنی ہے تو پہلے چین اور دیگر یورپی ممالک کی طرح کرپشن گردی کے خلاف قوانین بنائیں پھر دیکھیے گا اس ملک کی تقدیر کیسے بدلتی ہے اور ملک ترقی کے زینے کتنی تیزی سے طے کرتا ہے۔ ذرا سوچیے پاکستان معرض وجود آنے کے بعد بننے والا چین آج کیسے دنیا کی دوسری بڑی پاور اورمضبوط معیشت کا مالک بن گیاہے۔ وہاں کرپشن گردی کی سزا سزائے موت ہے تو ان کا ہر منصوبہ منافع بخش بنتا ہے۔

پاکستان ادارے ترقی کیسے کریں جہاں کے3 بارکے منتخب وزیر اعظم صاحب کرپشن پر نا اہل ہوکر اب سڑکوں پر دن رات اداروں کے خلاف دہائی دیتا پھرتا ہیں کہ مجھے کیوں نکالا؟ اور جنہوں نے شاید محض اپنی ذات کو ہی حکومت سمجھ رکھا ہے اسی لیے اپنی ہی جماعت کے اپنی ہی مرضی سے منتخب کردہ وزیر اعظم اور اپنی ہی مکمل کابینہ اور حکومت کے ہوتے ہوئے بھی شور ہے کہ میرے جانے سے ترقی کا سفر رک گیا ہے۔ میرے منصوبے پورے نہیں ہونے دیے گئے میں ہوتا تو ملک اور ترقی کرتا نئے ترقیاتی منصوبے مکمل کرتا۔ میرے جانے سے اور نا اہل کیے جانے سے معیشت خراب ہو گئی میری حکومت کے خلاف سازش کی گئی۔ بھائی کوئی اسے سمجھائے میاں صاحب ابھی بھی آپ کی ہی حکومت ہے تو دوڑائیں نہ ملک کو ترقی کے راستے پر؟ جناب کا جانشین آپ سے بات بات پر مشورہ نہیں بلکہ حکم لینے ملک سے باہر لندن تک قوم کے پیسوں سے آپکی چوکھٹ پر حاضری اور سلامی دینے پہنچ جاتا ہے اور آپ اپنے ہی انتخاب کا مذاق اڑاتے پھرتے ہیں۔ بتائیں انکے اور انکی حکومت کے خلاف سازش کس نے کی ہے لگتا تو ایسے ہے کے میاں صاحب خود ہی اپنی حکومت کے خلاف سازش میں مصروف ہیں۔ عوام کو اپنے ہی ملک کے اداروں کے خلاف اکسانا اور ملکی اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کیلئے جھوٹ پر جھوٹ سابق وزیر اعظم کی خود ہی کے خلاف سازش ہے۔

پارلیمنٹ میں مسند اقتدار پر بیٹھنے والوں نے ثابت کر دیا ہے کہ پارلیمنٹ میں غریب عوام کی بہتری اور روشن مستقبل کی فراہمی کیلئے قانون سازی کی بجائے ملک کے اس سپریم ادارے کو بھی فقط اپنے ذاتی مفادات کے حصول کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ میاں نواز شریف کی نا اہلی کے بعد پارٹی صدارت ہاتھ سے جاتے دیکھ کر اس پارلیمنٹ کو فرد واحد کی خوشنود ی کے لیئے استعمال کرتے ہوئے آئین میں ترمیم کیے جانے کا سانحہ سر انجام دے کر قوم پر واضح کر دیا کہ یہاں آئین کی حکمرانی نہیں بلکہ چند افراد کی حکمرانی رائج ہے۔ اور یہاں واقعتا دہرا معیار ہے جب بڑی گردنوں والے پھنستے ہیں تو وہ اس ملک کے آئین کو مسلتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور اپنے لیے بالآخر ضرورت پیش آنے پر آئینی ترامیم کا سہارا لیتے ہیں کاش یہ سہولیات ملک کی اس اشرافیہ کو ہی نہیں بلکہ اسی ملک کے غریب مجبور اور بے بس افراد کو بھی حاصل ہوتیں۔

قوم چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتی ہے کہ عدلیہ کے وقار سے کھیلنے والوں کو نہال ہاشمی کی طرح سزائیں دے کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں تا کہ آئندہ اداروں کا تقدس پامال ہونے سے بچ جائے۔ اور ملک سے باہر بیماری کے بہانہ بنا کر بھاگ جانے والیسابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار صاحب کو وطن واپس لا کر منی لانڈرنگ اور کرپشن کے ذریعے سے اکھٹی کی جانے والی دولت اور اثاثہ جات کا حساب کتاب کیا جانا چاہیے۔ حدیبیہ پیپر ملز کیس کو ری اوپن کرتے ہوئے انصاف فراہم کیا جائے۔

چیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے خیبر پختونخواہ کا سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی تحقیقات ہونی چاہئیں لیکن اس کے ساتھ نا اہل نواز شریف سے نا اہلی کے بعد سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال اور شاہ خرچیوں اور پوری پوری فیملی کے ساتھ بیرونی دوروں کی جانچ پڑتال بھی بھی ضرور کی جائے۔ ن لیگ کو وہ وقت بھی یاد کرنا چاہیے جب میاں صاحب وزیر اعظم تھے اور انکا کھانا پروٹوکول کے ساتھ سرکاری ہیلی کاپٹر میں مری لیجائے جانے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔اور بالخصوص انکی صاحبزادی محترمہ مریم صفدر سے انکے عالیشان پروٹوکول اور کسی سرکاری ملکی منصب پر فائز نہ ہونے کے باوجود ملکی وسائل پر اور سرکاری خزانے پر بوجھ بننے پر صاف اور شفاف تحقیقات ہونی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*