تازہ ترین
outline

خطبہ جمعہ کے دوران کسانوں نے امام کی طرف پیٹھ کیوں پھیری؟

ایران کے شہر اصفہان کی ایک مسجد میں مقامی کسانوں کی جانب سے انوکھا احتجاج کیا گیا۔ گزشتہ روز کاشت کاروں نے مسجد میں نماز جمعہ کے موقع پر اس وقت مسجد کے پیش امام اور خطیب کی طرف پیٹھ پھیر لی جب اس نے جمعہ کا خطبہ شروع کیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی کسانوں کی طرف سے ایسا حکومت کی جانب سے ان کے زرعی آلات ضبط کرنے اور آبپاشی کے لیے پانی بند کرنے کے خلاف بطور احتجاج کیا گیا۔

اس موقع پر خطیب کی طرف پیٹھ پھیرنے والے کسان مظاہرین نے حکومت کے خلاف شدید نعری بازی کی۔

انہوں نے نعرہ لگایا کہ’ہم نے اپنے چہرے وطن کی طرف اور پیٹھ دشمن کی طرف کردی ہے’۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ زرعی شعبے میں کسانوں کو درپیش مشکلات دور کرنے میں ان کی مدد کرے۔ ان کے زرعی آلات ان سے چھیننے کا سلسلہ بند کیا جائے اور آب پاشی کے لیے پانی کے ذخائربحال کیے جائیں۔

اصفہان کے کسانوں نے ایرانی صدر حسن روحانی کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کی اور انہیں ’کذاب‘ قرار دیا۔

اصفہان کے کسان گذشتہ پانچ سال سے یزد شہر میں بہنے والے دریائے زائندہ رود کا پانی تہران کی طرف منتقل کرنے پر احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس سے قبل کسان مظاہرین بطور احتجاج پانی کی پائپ لائنیں بھی توڑ چکے ہیں جس کے باعث پولیس اور مظاہرین میں خون ریز تصادم بھی ہو چکے ہیں جس میں متعدد کسان زخمی اور کئی گرفتار کرلیے گئے۔

ایران میں آٹھ مارچ 2018ء کو ورزنہ کے علاقے میں بھی کسانوں نے پانی کے وسائل سلب کیے جانے کے خلاف شدید احتجاج شروع کیا اور ایرانی صدر حسن روحانی کو کذاب قراردیا تھا۔

گذشتہ جمعہ کو اصفہان میں مظاہرین پرتشدد احتجاج کے دوران بجلی کےدو کھمبے بھی توڑ دیے تھے۔ ایران کےسرکاری ٹی وی کے مطابق دریائے زائندہ رود کا 90 ملین مکعب میٹر پانی یزد اور تہران سمیت دوسرے علاقوں کو منتقل کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں اصفہان میں کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*