outline

سندھ کے انتخابی نتائج اور مستقبل کی سیاست۔سلمان عابد

سندھ کے انتخابی نتائج خلاف توقع نہیں تھے ۔ کیونکہ یہ واحد صوبہ تھا جہاں پہلے سے یہ بات برملا کہی جارہی تھی کہ سندھ کی سیاست میں پیپلز پارٹی کا انتخابی پلڑا بھاری ہے ۔ اگرچہ پاکستان کے سیاسی منظر نامہ میں پیپلز پارٹی کی صوبائی سطح پر حکمرانی پر بہت زیادہ تنقید کی جاتی ہے ۔ اس تنقید کو جواز بناکر ہر انتخاب میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اس دفعہ سندھ کی عوام پیپلز پارٹی کو ووٹ نہیں دے گی، مگر اس کے باوجود سندھ میں پیپلز پارٹی ہی انتخابی معرکہ جیت جاتی ہے ۔ وجہ یہ نہیں کہ سندھ میں حکمرانی کا نظام بہت موثر اور شفاف ہے ۔سندھ کی سماجی ترقی کے سرکاری اعداد وشمار بھی سندھ کی تباہ حالت کی کہانی سننے کو ملتی ہے ۔ مگر مسئلہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے مقابلے میں متبادل سیاست کی کمزوری کا ہے ۔ یہ ہی وہ نکتہ ہے جس کا فائدہ پیپلز پارٹی کو انتخابی سیاست میں ملتا ہے ۔

سندھ کے حالیہ انتخاب میں پیپلز پارٹی کے مقابلے میں اینٹی پیپلز پارٹی اتحاد ’’ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس ‘‘ یعنی جی ڈی اے کا بننا تھا۔ اس اتحاد میں پیپلز پارٹی مخالف پیش پیش تھے ۔ خیال تھا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی مخالف اتحاد کوئی آٹھ سے دس نشستیں حاصل کرکے پیپلز پارٹی کی مرکزی اور صوبائی سیاست کو ضرور دھچکا دے گا۔ مگر سندھ پیپلز پارٹی مخالف اتحاد اپنے بڑے دعووں کے باوجود کچھ نہ کرسکا ۔ اول اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ اتحاد انتخابات سے چند ہفتے قبل ہی سامنے آیا ۔دوئم اس اتحاد کی بڑی بنیاد سندھ کے مظلوم عوام کی ترقی سے زیادہ پیپلزپارٹی دشمنی کا ایجنڈا تھا۔مسئلہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی مخالف لوگ ہمیشہ محض انتخابات سے قبل اپنی صف بندی کرتے ہیں جو سندھ کے عوام کو متاثر کرنے کی بجائے ان کو دوبارہ پیپلز پارٹی کی طرف لے جاتی ہے ۔

پچھلے 2013کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے سندھ کی صوبائی سطح پر 68نشستیں جیتی تھیں ۔لیکن اس بار ان کی تعداد 76تک پہنچ گئی جو ان کی سیاسی برتری کو ظاہر کرتا ہے ۔ اس دفعہ اہم بات یہ ہوئی کہ ماضی میں ناقابل شکست رہنے والی معروف سیاسی شخصیت پیر صدر الدین شاہ راشدی او ر مرتضی جتوئی تک کو ان کے آبائی حلقوں میں پیپلز پارٹی کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔یہ ہی نہیں بلکہ تاریخ میں پہلی بار ضلع سانگھڑ جو پیر پگاڑا کی مسلم لیگ فنگشنل کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، وہاں سے بھی پیپلز پارٹی نے ایک نشست جیت لی ہے ۔اسی طرح اس پیپلز پارٹی مخالف اتحاد کے بڑے نام جن میں ارباب غلام رحیم ، زوالفقار مرزا، پیر صدر الدین شاہ راشدی، غلام مرتضی جتوئی ، لیاقت جتوئی،قوم پرست راہنما جن میں ڈاکٹر قادر مگسی ، ایاز لطیف پلیجو، سید جلال محمودشاہ ، سید ذین شاہ وغیرہ سب کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔جی ڈی اے کے علاوہ ’’ تبدیلی پسند پارٹی ‘‘ جس کی قیادت محمد علی قاضی کررہے تھے ان کو بھی انتخاب میں شکست ہوئی ۔اس طرح پیپلز پارٹی تیسری مرتبہ تسلسل کے ساتھ سندھ کی حکمرانی میں داخل ہورہی ہے او راس کی حیثیت اس وقت سندھ میں ایک ناقابل شکست پارٹی کی بن گئی ہے ۔

سندھ میں پیپلز پارٹی مخالف قوتوں کی ناکامی کی وجہ ایک ایسا اتحاد تھا جس کے پاس تنظیم سے زیادہ شخصیات موجود تھیں اور ان کے اکھٹے ہونے کی وجہ پیپلز پارٹی دشمنی کے سوا کچھ نہیں تھی ۔اگر یہ لوگ ایک برس قبل اس طرح کے اتحاد کے ساتھ سامنے آتے اور سندھ کی عوام کے ساتھ مل کر کام کرتے اور خود کو منظم کرتے تو صورتحال مختلف ہوتی ۔ سندھ کی عوام کو یہ بھی گلہ ہے کہ جب سندھ کی حکمرانی پر سندھ کی عوام کے ساتھ زیادتی ہورہی تھی تو یہ سندھ کے بڑے بااثر خاندان ہماری آواز بننے کی بجائے محض بیان بازی کی سیاست کرتے رہے ہیں ۔ایک مسئلہ یہ بھی ہوا کہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور بالخصوص تحریک انصاف نے سندھ کی سیاست میں پیپلز پارٹی کے مقابلے میں کوئی بڑا متبادل کردار اداکرنے کی بجائے اپنی سیاست کی توجہ کا مرکز پنجاب ہی کو بنایا ۔یہ ہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کو بھی حالیہ قومی انتخاب میں جی ڈی اے پر ہی انحصار کرنا پڑا ، جو نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکا ۔

ایسی بات نہیں کہ سندھ کی سیاست میں پیپلزپارٹی کے خلاف متبادل سیاست کے کوئی امکانات نہیں ہیں ۔ وہاں یقینی طور پر متبادل سیاست کے امکانات موجود ہیں ۔ لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ سندھ میں موجود لوگ پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے مستقل بنیادو ں پر ایک متبادل سیاست کریں ۔ یہ سیاست محض پیپلز پارٹی دشمنی کی بنیاد پر نہ ہو بلکہ یہ قوت واقعی سندھ میں ایک مستقبل متبادل سیاست کا خاکہ پیش کرے ۔ یہ کام محض سندھ کے بڑے بڑے وڈیرے نہیں کرسکتے بلکہ اس میں سندھ کی مڈل کلاس نوجوان جو پڑھے لکھے ہیں ان کو اب آگے بڑھنا ہوگا اور کسی ایک بڑی جماعت کے ساتھ مل کر ان کو اپنی سیاست کرنا ہوگی ۔ اگر سندھ کے بڑے خاندان اور مڈل کلاس قیادت کے درمیا ن کو باہمی اشتراک بن سکے تو یہ ایک بہتر آپشن ہوسکتا ہے ۔

سندھ میں پیپلز پارٹی کے مقابلے میں متبادل قیادت کو ایک فائدہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکمرانی او ربالخصوص عام آدمی کی سیاست میں اسے کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس بار بھی بلاول بھٹو نے وزیر اعلی کو چھ ماہ کا وقت دیا ہے کہ ہمیں گورننس کے مسائل پر زیاد فوقیت دینی ہوگی۔ کیونکہ پیپلزپارٹی کو بھی اب اندازہ ہے کہ اس پر دباو کی سیاست بڑھ رہی ہے اور بالخصوص تحریک انصاف اب سندھ کو توجہ دے کر وہاں بھی اپنی سیاست کو مضبوط کرنے کی کوشش کرے گی ۔ اس لیے پیپلز پارٹی کو بھی اب تک کی روائتی سیاست سے باہر نکل کر کچھ نیا پن کرنا ہوگا ۔لیاری میں بلاول کی شکست کی ایک جھلک پیپلز پارٹی کو سمجھنے کے لیے کافی ہے ، اگر وہ سمجھ سکے ۔

جہاں تک کراچی کی سیاست ہے وہاں ایم کیو ایم ایک طاقت کے طور پر سمجھتی جاتی تھی ۔لیکن کچھ برسوں میں ایم کیو ایم کی داخلی سیاست کے مسائل اور تقسیم نے اس کو سیاسی تنہائی میں ڈال دیا ہے ۔ اس کا نتیجہ کراچی کے مینڈیٹ سے اس کی سیاسی برتری کا خاتمہ ہے ۔ تحریک انصاف نے وہاں اپنی سیاسی طاقت قائم کرلی ہے ۔ بہت سے لوگوں کے لیے انتخاب میں تحریک انصاف کی جیت ہضم نہیں ہورہی ۔حالانکہ صاف بات ہے کہ اول ایم کیو ایم کے ووٹ بینک کی تقسیم، کراچی کے نوجوان لڑکوں او ر لڑکیوں کی عمران خان کی طرف جھکاو، کراچی کے کاروباری طبقہ کی حمایت کیونکہ وہ کراچی میں بھتہ سیاست کے مخالف تھے اور بالخصوص ایک تبدیلی کے نعرے نے وہاں کے لوگوں کو تحریک انصاف کی حمایت پر مجبور کیا ہے ، اب دیکھنا یہ ہوگا کہ اول کراچی میں ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کا اتحاد کیسے چلتاہے ۔ پا ک سرزمین پارٹی کی مستقبل کی سیاست کیا ہوگی اور خود تحریک انصاف کی حکومت کراچی میں اپنا سیاسی اثرنفوز سمیت کراچی کے عوام کی توقعات پر کیسے پورا اترتی ہے ۔ البتہ اب ایک بات واضح ہے کہ کراچی میں تحریک انصاف کا مینڈیٹ اب آسانی سے ختم نہیں ہوگا او راس کے لیے وہاں کی سیاسی قوتوں کو اب کچھ نیا کرکے دکھانا ہوگا۔ کراچی میں متحدہ مجلس عمل کے مقابلے میں تحریک لبیک کا ووٹ بینک بڑھا ہے اور اس کے کافی متاثر کیا ہے ۔ اس لیے کراچی کی سیاست کا ایک مذہبی رنگ بھی ہے او ر ماضی میں یہاں جماعت اسلامی او رجمعیت العلمائے پاکستان اپنا ووٹ بینک رکھتے تھے ۔لیکن اب ان جماعتوں کے مقابلے میں تحریک لبیک نے اپنا کردار بڑھایا ہے ۔

اصل مسئلہ کراچی کا مقامی حکومتوں کا نظام بھی ہے ۔تحریک انصاف خود مضبوط مقامی حکومت کے نظام کی حامی ہے اور ایم کیو ایم بھی اس کا مطالبہ کرتی رہی ہے ۔ اب دیکھنا ہوگا کہ سندھ کی دیہی اور شہری سیاست میں جو تقسیم ہے اس کو ٹھیک کرنے میں خود تحریک انصاف کی حکومت کیا کچھ کرتی ہے ۔ سندھ میں عمران اسماعیل  کو گورنر لگایا گیا ہے اور ان کی خوبی یہ ہے کہ ان کے تمام سیاسی جماعتوں سے تعلقات اچھے ہیں ۔اس لیے سندھ کی مستقبل کی سیاست ایک طرف پیپلز پارٹی اور سندھ میں ان کے متبادل سیاسی قوتوں کے درمیا ن ہے تو دوسری طرف ایم کیو ایم ، تحریک انصاف کے درمیا ن کراچی میں سیاسی جنگ ہوگی ۔ اگر پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے درمیان سندھ کی سیاست کے تناظر میں کوئی ایسی اہم اہنگی پیدا ہوجائے جو سب کے لیے قابل قبول ہوتو یہ اچھی کوشش ہوسکتی ہے ۔ کیونکہ سندھ کی سیاست اور ترقی کا عمل محاز آرائی سے نہیں بلکہ وفاق سے بہتر تعلقات سے جڑا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*