تازہ ترین
outline

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا چیلنج۔سلمان عابد

وزیر اعظم عمران خان کی نئی حکومت کے سامنے داخلی مسائل کے ساتھ ساتھ ایک بڑا چیلنج ملکی خارجہ پالیسی کو مضبوط وٹھوس بنیادوں پر استوار کرنا ہے ۔ایک ایسے وقت میں جب پاکستان داخلی اور خارجی مسائل کا شکار ہے وہاں ایک مربوط خارجہ پالیسی کی تشکیل خود ایک بڑا چیلنج ہے ۔ عمومی طور پر دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جو ریاست داخلی محاذ پر بحران کا شکار ہو وہ اپنے لیے خارجی سطح پر مضبوط خارجہ پالیسی بنانے میں مشکلات کا شکار رہتی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ خارجی امور سے جڑے بہت سے ماہرین اس بنیادی نکتہ پر زور دیتے ہیں کہ ہماری خارجی مسائل سے نمٹنے کے لیے پہلی او ربنیادی ترجیح داخلی مسائل سے نمٹنا ہے ۔ یہ منطق اپنے اندر وزن رکھتی ہے کہ بالخصوص سیاسی اور معاشی استحکام سمیت عام آدمی کی زندگی میں بہتر تبدیلی پیدا کرکے داخلی بحران سے نمٹا جاسکتا ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی بیانیہ کیا ہوگا؟وزیر اعظم عمران خان نے انتخاب جیتنے کے فوری بعد جو پہلی تقریر کی تھی اس میں عملا خارجہ پالیسی کا بیانیہ پیش کردیا تھا۔اس بیانیہ میں انہو ں نے عالمی دنیا سمیت علاقائی ممالک بالخصوص بھارت، افغانستان ، ایران سمیت چین اور امریکہ کے ساتھ نئے تعلقات کو استوار کرنے پر زور دیا تھا ۔ وزیر اعظم نے بھارت کے معاملے میں ایک قدم آگے بڑھ کر بھارتی قیادت کو پیغام دیا کہ وہ تعلقات کی بہتری میں ایک قدم آگے بڑھیں ہم دو قدم آگے بڑھیں گے۔افغانستان کے معاملہ میں بھی حکومت نے افغان حکومت کو واضح پیغام دیا کہ ہمیں الزام تراشیوں پر مبنی سیاست سے آگے نکل کر دو طرفہ تعاون اور باہمی تعلقات کی بہتر ی کی طرف پیش قدمی کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

پاکستان کو خارجہ پالیسی کے محاذ پر امریکہ بھارت تعلقات او ربالخصوص بھارت افغان تعلقات کو سامنے رکھ کر اپنی پالیسی کو ازسر نو ترتیب دینا ہوگا ۔کیونکہ اس وقت خطہ کی سیاست میں جوپاکستان کے تناظر میں بداعتمادی ہے اس کا ایک براہ راست تعلق امریکہ ، بھارت او رافغان تعلقات سے جڑا ہوا ہے ۔پاکستان چین تعلقات او ربالخصوص سی پیک منصوبہ پر بھارت کے جو تحفظات ہیں ان کو دور کرنا او راس سلسلے میں اعتماد سازی پیدا کرنا خود پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے یوم دفاع کے موقع پر یہ کہہ کرکہ ہم مستقبل میں کسی دوسرے کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے بلکہ ہمارا کردار فریقین کے درمیان پیدا ہونے والی بداعتمادی کو ختم کرنے پر ہوگا ۔

وزیر اعظم عمران خان کا یہ نکتہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے کہ جنوبی ایشیا کی سیاست میں پاکستان او ربھارت کو مل کر باہمی تنازعات کو ختم کرکے عوام کے بنیادی مسائل جن میں غربت، پسماندگی ،جہالت اور بے روزگاری پر توجہ دے کر ایک بڑے معاشی اور سیاسی استحکام پر نئے ترقیاتی چارٹر کی بنیاد پر پیش قدمی کرنی چاہیے۔وزیر اعظم عمران خان او ربھارتی وزیر اعظم نریندرمودی کی ٹیلی فونگ گفتگو کا ایجنڈا بھی ان ہی نکات سے جڑ ہوا تھا ۔ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی نکتہ علاقائی سیاست کے استحکام کے ساتھ جڑا ہونا چاہیے ۔کیونکہ جب تک ہم علاقائی سیاست میں شامل ممالک کے درمیان موجود بداعتمادی کے سائے کمزور نہیں کریں گے ہم عالمی سطح پر بھی کوئی ٹھوس پالسی ترتیب نہیں دے سکیں گے جو آج کی دنیا میں ہماری ضرورت بنتی ہے ۔

افغانستان کا بحران کا حل ہماری پہلی اور بنیادی ترجیح ہونی چاہیے ۔کیونکہ افغان حل کا تعلق خود ہمارے بھارت سے بہتر تعلقات سے بھی جڑا ہوا ہے ۔ کیونکہ بھارت عملا افغان مسئلہ کو بطور ہتھیار استعمال کرکے ہمارے لیے مسائل پیدا کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے ، جس کا علاج ہمیں تلاش کرنا ہوگا ۔ اس کا ایک مسئلہ کا حل امریکہ ، افغان حکومت او رافغان طالبان کے درمیان بامقصد او ربامعنی مزاکرات ہے ۔کیونکہ اس مسئلہ پر امریکہ او رافغان حکومت کا بہت زیادہ انحصار پاکستان پر ہے ۔اس تناظر میں پاکستان کے کارڈ کافی اہمیت کے حامل ہیں اور دیکھنا ہوگا کہ ہم اس مسئلہ کے مستقل حل میں اپنے کارڈ کیسے کھیلتے ہیں ۔

حالیہ کچھ عرصہ میں پاک امریکہ تعلقات میں جو سردمہری نظر آتی ہے اس کا علاج بھی ہمیں تلاش کرنا ہے او راس میں بھی دومسئلے اہم ہیں اول دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان کا کردار او رامریکہ کی شرائط اور دوئم افغان مسئلہ کے حل میں پاکستان کی مدد اور چین سے تعلقات میں امریکی مفادات کی اہمیت شامل ہے ۔اصل میں پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کی اہمیت کے پیش نظر ایک بڑی جنگ سفارت کاری او رڈپلومیسی کے محاذ پر لڑنی ہے ۔ بدقسمتی سے سابقہ حکومت میں وزیر خارجہ کی عدم تقرری نے کافی مسائل پیدا کیے ۔ نئی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سفارت خانوں او ر سفارتی سطح پر نئی حکمت، منصوبہ بندی اور سوچ بچار کرکے عملی اقدامات کو ترتیب دے۔ سیاسی اور اقرا پروری کی بنیادوں پر موجود سفارت کاروں کو ہٹا کر پروفیشنل لوگوں کو سامنے لائے ۔

بنیادی طو رپر پاکستان کو سفارتی اور ڈپلومیسی کے محاذ پر دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے کلیدی کردار او راس میں موجود علاقائی سطح پر چیلنجز جن کا ایک براہ راست تعلق بھار ت او رافغانستان سے ہے کو اجاگر کرنا ہے ۔ تاکہ لوگوں کو یہ باور کروایا جاسکے کہ دہشت گردی کی یہ جنگ محض پاکستان کے مفاد سے ہی نہیں بلکہ خطہ اور عالمی مفادات سے بھی جڑی ہوئی ہے ۔ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ جو ممالک پاکستان کا مقدمہ منفی انداز میں دنیا کے سامنے پیش کررہے ہیں ہم اس کا متبادل بیانیہ پیش کریں کہ پاکستان کیا کچھ کررہا ہے اور کیا اس کو چیلنجز ہیں ۔اس کے آج کی دنیا میں سوچ بچار کرنے والے تھنک ٹینک اداروں کی بڑی اہمیت ہے ۔ ہمیں قومی سطح سرکاری اور غیر سرکاری تھنک ٹینک کو فروغ دینا چاہیے او ر جو عالمی سطح کے معتبر تھنک ٹینک ہیں ان سے بھی استفادہ حاصل کرنا چاہیے ۔میڈیا میں سفارت کاری کے محاذ پر بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو بھی معلوم ہوسکے کہ ہم کمزور نہیں ہیں بلکہ خطہ کی سیاست میں ہمارا کردار کلیدی ہے او راس کردار کے بغیر خطہ کا امن ممکن نہیں ۔

پاکستان کو لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم پالیسی پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور بہت سے امو رپر روائتی یا پرانے طریقوں سے ہٹ کر کچھ نیا پن دکھانے کی ضرورت ہے ۔اچھی بات یہ ہے کہ اس وقت بظاہر یہ نظر آرہا ہے کہ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان کافی اہم اہنگی ہے ۔ کیونکہ ہماری داخلی اور خارجہ پالیسی کے تناظر میں سول ملٹر ی تعلقات کا بگاڑ بنیادی مسئلہ رہا ہے ۔ جب سیاسی اور عسکری سطح سے دو مختلف بیانیہ دنیا میں پیش کیے جائیں گے یا ایک دوسرے پر بداعتمادی کی وجہ سے الزام تراشیوں کا سہارا لیا جائے گا تو اول ہمارا مقدمہ کمزور ہوگا اور دوئم اس کا فائدہ ہمارے مخالفین کو ہوگا جوباہمی ٹکراو کی بنیاد پرعالمی دنیا میں ہمارا مقدمہ کمزور کرتے ہیں ۔

سول ملٹری تعلقات کی بہتری کی بنیادی کنجی باہمی مشاورت سے جڑی ہے ۔ دونوں فریقین میں مقابلہ بازی کی بجائے ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنا اور تعاون کے امکانات کو بڑھاکر خارجی سطح پر جو ہمارے چیلنجز ہیں ان میں معاونت کا کردار ادا کرنا ہے ۔لیکن اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت داخلی چیلنجز سے نمٹنے میں بھی ایک دوسرے کا دست بازو بنیں ،کیونکہ جو مسائل ہمیں درپیش ہیں اس کو حکومت کی ناکامی یا کامیابی سے زیادہ ہمیں ریاست کے مضبوط اور کمزور ہونے سے جوڑ کر دیکھنا چاہیے ۔ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کو باہمی طور پر اپنے داخلی اور خارجی مسائل او ربالخصوص جو اہم رکاوٹیں ہیں اس پر مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ہماری سیاسی اور عسکری قیادت ایک دوسرے کی ضرورتوں او رمسائل کو سمجھ کر اپنی سیاسی دفاعی حکمت عملی کو ترتیب دیں ۔یہ پیغام ہمیں سفارتی اور ڈپلومیسی کے محاذ پر پھیلانا ہوگا کہ پاکستان مسائل کا بگاڑ نہیں بلکہ مسائل کا پرامن او ر دو طرفہ قابل قبول حل چاہتا ہے۔

ہمارے مخالفین کی جانب سے اس فکری مباحثہ کو کمزور کرنا ہوگا کہ خطہ کی سیاست میں پاکستان رکاوٹ ہے او راس کی پالیسی تضاد ات سے جڑی ہے ۔لیکن یہ کام سیاسی او رعسکری قیادت کے درمیان مشترکہ کوششوں سے جڑا ہے ۔ اس کے لیے داخلی بحران کے حل کے ساتھ ساتھ حکومت کو اپنے گھر میں بھی ایک بڑی صفائی کی طرف توجہ دینی ہوگی ۔کیونکہ یہ بھی ماننا ہوگا کہ داخلی اور خارجی سطح پر جو مسائل ہیں ان سے ہمیں خود نمٹا ہے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بڑا امتحان ہے کہ حالیہ علاقائی اور عالمی تعلقات کی بہتری میں وہ وزیراعظم اور عسکری قیادت کے ساتھ مل کر کیا کچھ ایسا کرتے ہیں جو ہمیں ایک بڑے بحران سے نکلنے میں مدد فراہم کرسکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*