outline
nawaz behind bar

کیا نواز شریف جیل جانے کے لیئے ذہنی طور پر تیار نہیں ؟

لاہور(نیوزڈیسک)سپریم کورٹ کے حکم پر ناہل ہونے والے سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف نے اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد گزشتہ روز اپنا پہلا انٹرویو دیا ۔برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے اس انٹرویو میں شفیع نقی جامی نے نوازشریف کا اکسانے کی بہت کوشش کی کہ وہ ان کی حکومت کے خلاف سازش کرنے والوں کا نام لے سکیں لیکن نوازشریف نے ایسی ویسی بات کرنے سے گریز کیا –
شفیع نقی نے ایک سے زائد مرتبہ کہا کہ آپ کھل کر بات کریں مگر نوازشریف تول کر ہی بولتے رہے۔انٹریو کے دوران نوازشریف سب سے زیادہ اس سوال پر پریشان ہوئے کہ پاکستان میں اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے ٹکرائو کے نتیجے میں کیا ترکی کی تاریخ دہرائی جائے گی جہاں عوام ٹینکوں کے آگےلیٹ گئے ۔ اس سوال پر نوازشریف نے کہا کہ وہ اداروں سے ٹکروائو کے حق میں نہیں-
انٹریو کے آخر میں نوازشریف سے پوچھا گیا کہ ان کے اور اہلخانہ کے خلاف نیب میں ریفرنس ہیں ،ابھی قصہ ختم نہیں ہوا،عین ممکن ہے انہیں یا ان کے اہلخانہ کو گرفتار کر لیا جائے کیا وہ اس کے لیئے ذہنی طور پر تیار ہیں؟اس سوال پر پہلے تو نوازشریف نے دُکھ بھرے لہجے میں کہا “دیکھ لیں“ پھر کوئی متعین جواب دینے کے بعد کہا کہ عوام نے تو اپنا فیصلہ دیدیا اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا لیکن جب آگے بڑھیں گے توپھر دیکھیں گے-
نواز شریف نے کہا کہ یہ تاثر ٹھیک نہیں ہے کہ ان کی فوج کے تمام سربراہوں کے ساتھ مخالفت رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘کچھ (جرنیلوں) کے ساتھ یقیناً بنی بھی ہے، اچھی بنی ہے۔ اور میں یہ نے کبھی آئین سے انحراف نہیں کیا، جو قانون کہتا ہے اس کے مطابق چلا ہوں۔’اگر کوئی قانون کی حکمرانی یا آئین پر یقین نہیں کرتا تو میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔‘
نواز شریف کا کہنا تھا کہ اس ملک کو چلانے والوں نے جو اس ملک کے ساتھ کیا ہے خاص طور پر آمریت نے، وہ پاکستان کی تباہی کا ایک نسخہ تھا۔
نواز شریف نے کہا کہ ‘جب پرویز مشرف نے مارشل لا لگایا تھا، مشرف میرے خلاف تھا، مشرف کے کچھ ساتھی میرے خلاف تھے لیکن باقی فوج میرے خلاف نہیں تھی۔ باقی فوج کو تو پتہ ہی نہیں تھا کہ مارشل لا لگ چکا ہے۔
اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اب ہم نے اس مرض کی تشخیص کر لی ہے کہ جس کی وجہ سے اس ملک میں تمام مشکلیں اور مصیبتیں جھیلنی پڑی ہیں۔ ’اس کے لیے ملک کی ایک سمت کا تعین کرنا ضروری ہے اور یہ تبھی ممکن ہوگا جب ہم ووٹ کے تقدس کا احترام کریں گے۔’
ان کا کہنا تھا کہ اب وہ ووٹ کے تقدس کی بحالی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج نہیں ہے بلکہ ایک مہم ہے، میں یہ اس لیے نہیں کر رہا کہ میں دوبارہ منتخب ہو کر وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھوں، وہ پھولوں کا بستر نہیں کانٹوں کی سیج ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھنا بذات خود ایک قربانی ہے۔’
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ‘عمران خان صاحب کے بارے میں کیا کہوں، ان کی باتوں کا جواب نہ دینا ہی اچھا ہے۔ آصف علی زرداری کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ‘میں نے ان سے کچھ نہیں مانگا اور نہ کوئی مانگنے کا ارادہ ہے۔’

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*