تازہ ترین
outline
muhamamd-hanif

جنرل ضیا اور ’پاگل‘ امریکی-محمد حنیف

مردِ مومن مردِ حق ضیاالحق کو کس نے شہید کیا یا ایک ظالم اور گھاگ فوجی ڈکٹیٹر کو کس نے کیفرِ کردار تک پہنچایا۔ تین دہائیاں ہونے کو ہیں لیکن اس سوال کا جواب نہیں مل سکا۔

اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ نہ کوئی اس سوال کو سنجیدگی سے پوچھتا ہے نہ کسی نے اس کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ شہید کی اپنی اولاد نے بھی نہیں۔ اس فوج نے بھی نہیں جس کے نصف درجن سینیئر جرنیل اسی حادثے میں ہلاک ہوئے، نہ امریکہ نے جس کا پاکستان میں سفیر مارا گیا اور نہ ہی اس قوم نے جس کے محبوب صدر کا طیارہ فضا میں پھٹ گیا۔

جب کسی معاشرے میں حقائق میسر نہ ہوں تو ایک خلا پیدا ہوتا ہے۔ اس خلا کو لطیفوں، کہانیوں اور سازشی تھیوریز کے ذریعے پر کیا جاتا ہے۔ ہماری قوم نے بھی مرحوم کی شہادت کے حالات کے بارے میں جگتیں اور قصے سنا کر مزے لیے۔ کسی نے بھی ہمارے محبوب صدر کے طیارے کے حادثے کے پیچھے موجود عوامل کا پتہ لگانے کی کوشش نہیں کی۔

پوری قوم کسی اور موڈ میں تھی۔ محترمہ بینظیر بھٹو بھی ‘اللہ کے کام’ کا جملہ بول کر آگے بڑھ گئیں۔

راقم نے بھی ان فرضی قصے کہانیوں، لطیفوں اور سازشی نظریات کو جوڑ توڑ کر اس وقوعے کے بارے میں ایک مبینہ ناول لکھ ڈالا۔ کئی پڑھنے والوں نے اے وطنِ عزیز کا سچا واقعہ سمجھ کر پڑھا۔ ہم بھی ویسے کیا قوم ہیں، تاریخ کو افسانہ بنا دیتے ہیں اور افسانے کو سچ سمجھتے ہیں۔

ناول کی اشاعت کے چند ہفتوں بعد میں دفتر میں بیٹھا تھا جب ایک فون آیا۔ جان گنٹر بول رہا ہوں۔ دوسری طرف کوئی امریکی بزرگ ٹائپ آواز تھی۔ میں نے کہا، حکم۔ کہنے لگے میں نے تمھاری کتاب پڑھی ہے، اچھی لکھی ہے لیکن تمھارے ضیا کو انھوں نے نہیں مارا جن کے بارے میں تم نے لکھا ہے۔

میں نے کہا جناب شکریہ لیکن ایک تو یہ ناول سو فیصد جھوٹ پر مبنی ہے اور دوسرا یہ کہ پوری کتاب لکھ گیا مجھے تو خود پتہ نہیں چلا کہ کس نے مارا۔

فرمانے لگے، مجھے معلوم ہے کس نے مارا۔ میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا، حضور آپ ہیں کون؟

جان گنٹر نے بتایا کہ 1988 میں جب جنرل ضیا کے طیارے کا حادثہ ہوا، وہ انڈیا میں امریکہ کے سفیر تھے۔

دل میں سوچا کہ یہ 20 سال بعد مجھے کیوں فون کر رہا ہے۔ پھر کہاں بتائیے تو کہنے لگے اسے یہودیوں نے مارا۔

میں نے سوچا یہ تو پاکستانی بھائی ہی لگتا ہے۔

انھوں نے کہا، موساد نے اور میں یہ پورے یقین سے کہہ رہا ہوں اور یہ بھی بتاتا چلوں کہ میں خود بھی یہودی ہوں۔ دوسری جنگِ عظیم میں ماں باپ کے ساتھ نازی جرمنی سے بھاگا تھا۔

میں یہ فلمی قسم کی کہانی دلچسپی سے سن رہا تھا اور ساتھ میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ یا اللہ یہ مجھے کیوں بتا رہا ہے؟

کہنے لگے کہانی تھوڑی لمبی ہے، تم یوں کرو کہ اگلے ویک اینڈ پر پیرس آ جاؤ۔ میں اس کے پاس ایک گاؤں میں رہتا ہوں، ایئرپورٹ پر گاڑی بھیج دوں گا۔ پھر تمھیں پوری کہانی سناؤں گا۔

میں نے عرض کیا میں ایک چھوٹا سا صحافی ہوں۔ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ فرانس کے دیہات سے ویسے بھی خوف آتا ہے، آپ فون پر ہی بتا دیں۔

انھوں نے مجھے فون پر جو کہانی سنائی وہ بعد میں اخباروں میں بھی چھپی اور دوسرے ذرائع سے تصدیق بھی ہوئی۔ کہانی اتنی ہی پراسرار ہے۔

اگست 1988 میں جب جنرل ضیا کے طیارے کو حادثہ پیش آیا تو جان گنٹر ڈین نے بھی دیگر سفارتکاروں کی طرح ٹوہ لینے کی کوشش کی کہ یہ کس کا کام ہے۔ انھیں جو معلومات ملیں وہ اتنی حساس تھیں کہ جان گنٹر نے فیصلہ کیا کہ وہ دلی سے واشنگٹن تک مواصلاتی رابطے سے نہیں بھیجی جا سکتیں۔
انھوں نے واشنگٹن میں وزارتِ خارجہ کے بڑوں سے اپائنٹمنٹ لی، ٹکٹ کٹوایا اور سیدھے اپنے ہیڈکوارٹر پہنچے۔ وہاں انھیں بھی وہی کہانی سنائی جو مجھے فون پر سنا رہے تھے۔
امریکی محکمۂ خارجہ نے اس ملاقات میں نہ صرف انھیں سفیر کے عہدے سے نااہل قرار دیا بلکہ یہ فتویٰ بھی دیا کہ گنٹر کے دماغ میں کچھ خلل ہے اور وہ فوراً ریٹائر کیے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی 20 سال تک ان پر زباں بندی کا حکم بھی جاری ہوا کہ نہ کوئی بیان دیں گے، نہ انٹرویو اور نہ ہی اس پورے معاملے پر کچھ لکھیں گے۔
جب انھوں نے مجھے فون کیا تو یہ پابندی نئی نئی ختم ہوئی تھی۔ تھوڑی تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ جان گنٹر 80 کے اوائل میں لبنان میں امریکی سفیر تھے اور فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے ساتھ تعلقات بڑھا رہے تھے تو ان پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا اور انھوں نے تب ہی کہا تھا کہ ان پر حملہ موساد نے کروایا ہے۔
میں نے جان سے پوچھا کہ ان کی کہانی میں دم لگتا ہے لیکن میں تو اپنی کتاب لکھ چکا ہوں، وہ اب مجھ سے کیا چاہتے ہیں۔ انھوں نے پھر وہی پیرس کے پاس گاؤں اور ایئرپورٹ پر گاڑی کی پیشکش دہرائی۔ یہ بھی فرمایا کہ ہم دونوں مل کر مسلم دنیا کے مسائل کے حل کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ میں نے عرض کی کہ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، انھیں ابھی سکول سے اٹھانا ہے، فی الحال مسلم دنیا کا بوجھ آپ ہی سنبھالیں۔
آج جان گنٹر ڈین کی یاد اس لیے آئی کہ 17 اگست کے شہدا کی برسی ہے لیکن شہیدوں کی اولادوں کو قاتلوں کی فکر ہے نہ ملک کے سب سے بڑے اداروں کو اور نہ ہی اس قوم کو اپنے محبوب صدر کے جانے کا غم ہے۔ ایسے ماحول میں سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے سند یافتہ دیوانے کی بات کوئی کیوں سنے گا۔
بشکریہ بی بی سی اردو

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*