تازہ ترین
outline

زینب کے قاتل عمران علی کی سزائوں پر عملدرآمد کب اور کیسے ہو گا ؟

لاہور (نمائندہ آئوٹ لائن ) انسداد دہشتگردی عدالت نے قصور کی معصوم بچی زینب انصاری کو جنسی ہوس کی بھینٹ چڑھانے والے درندہ صفت قاتل عمرا ن علی نقشبندی کو سزا سنا دی ہے

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سجاد احمد نے  مجرم عمران کو کُل 6 الزامات کے تحت سزائیں سنائی ہیں -مجرم عمران کو ننھی زینب کے اغوا، زیادتی اور قتل کے ساتھ ساتھ 7 اے ٹی اے کے تحت 4،4 مرتبہ سزائے موت سنائی گئی-مجرم عمران کو زینب کا ریپ کرنے پر عمرقید اور 10 لاکھ روپے جرمانے جبکہ لاش کو گندگی کے ڈھیر پر پھینکنے پر7سال قید اور 10 لاکھ جرمانےکی سزا بھی سنائی گئی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کس سزا پر پہلے عملدرآمد ہو گا ؟ عمران علی کو سزائے موت کب اور کیسے دی جا سکے گی ؟اگر وہ اپنی سزا کے خلاف اپیل نہیں کرتا تو کیا ہو گا؟ان سوالات کے جواب جاننے کے لیئے “آئوٹ لائن “ نے قانونی ماہرین سے رابطہ کیا

Haqnawaz advocate

لاہور ہائیکورٹ کے وکیل رائے حق نواز ایڈوکیٹ نے بتایا کہ اگر مجرم کو ایک سے زائد دفعات کے تحت مخلتف سزائیں سنائی گئی ہوں تو سب سے بڑی سزا پر عملدر آمد ہوتا ہے مثال کے طور پر اگر کسی شخص کو دو ،تین ،اور چھ سال سزا ہوئی ہے تو وہ 11 سال قید نہیں رہے گا بلکہ اس کی مجموعی سزا چھ سال ہی ہوگی -لہٰذا مجرم عمران علی کی عمر قید یا دیگر سزائوں کے مکمل ہونے کا انتظار نہیں  کیا جائے گا بلکہ سب سے بڑی سزا یعنی سزائے موت دیدی جائے گی

اس سوال پر کہ عمران علی کی سزا پر عملدرآمد کب اور کیسے ہو گا؟ رائے حق نواز ایڈوکیٹ نے بتایا کہ سزائے موت کی ہائیکورٹ سے توثیق ضروری ہے اگر ملزم اس سزا کے خلاف اپیل نہیں کرتا تو پندرہ دن بعد ٹرائل کورٹ کی جانب سے ایک ریفرنس بنا کر لاہور ہائیکورٹ میں فائل کیا جائے گا جس پر ہائیکورٹ کے ڈبل بنچ میں سماعت ہو گی

ہائیکورٹ سے سزا کی توثیق ہو جانے کے بعد مجرم کے پاس سپریم کورٹ اپیل کرنے کے لیئے پھر پندرہ دن ہونگے اگر اپیل دائر نہ کی گئی تو پھر اسے پھانسی دینے کی تاریخ مقرر کرکے سزا پر عملدرآمد ہو جائے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*