outline
syed-shafaat

قلم فروشی کا صیح طریقہ۔۔ سید شفاعت علی

ذرا سوچئیے کے اگر عامر لیاقت ، طارق عزیز یا فہد مصطفی اپنے گیم شو میں انعامات بانٹنا بند کر دیں ۔ ختم کر دیں ۔ کیا ریٹنگ رہ جائے گی انکی۔ تو اگر طارق ، عامر ، اور فہد کا کسی اورکے خزانے سے انعامات بانٹنا جائز ہے اور اس کی بنیاد پر مقبولیت سمیٹنا بھی جائز ہے ، تو پھر میاں برادران پر اتنی تنقید کیوں ۔آخر میاں برادران سے کیوں یہ تقاضہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ہر ثنا خوان کو اپنی جیب سے پیسا دیں ۔ کیا عامر لیاقت صاحب نے آج تک کسی کو اپنی جیب سے فردوس کی لان خرید کر دی؟ کیا طارق عزیز نے آج تک کسی کو اپنے پیسوں سے الیکٹرا کا ٹی وی خرید کر دیا؟ مگر کرشمہ ء قدرت دیکھئیے کہ ایک صاحب کو اتنی مقبولیت عطا ہوئی کہ وہ پارلیمان پہنچ گئے اور دوسرے مقبولیت کے نشے میں سپریم کورٹ پر چڑھ دوڑے۔ تو کیا ہوا کہ چند صحافی بھائی مریم بی بی کے میڈیا سیل کے با قائدہ ملازم ہیں ۔ کیا ہوا کہ صالح ظافر صاحب جس کاپی پر میاں صاحب کی خبرلکھتے ہیں بعد میں اسے چوم چوم کراپنے ساتھ سلاتے ہیں۔کیا ہوا کہ حزیفہ رحمان میاں صاحب کے خاص آدمی ہیں لہٰذا ان کے بارے میں میں تھوڑی احتیاط سے کہوں گا کہ انشاء اللہ بڑا ہو کریہ بھائی کبھی کبھی صحافت بھی کر لیا کرے گا۔ میاں صاحب کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ قومی خزانے سے جس صحافی کو جتنی بار چاہیں اتنی بار اپنے ساتھ گھمانے لے جائیں ۔ زرعی اراضیاں دے دیں ۔گاڑیاں ، مکانات ، معافی والے قرضے ، پیٹرول پمپ ، ٹھیکے ، ہر دوسرے مہینے میں غیر ملکی دورے وغیرہ وغیرہ جو چاہیں دیں ۔صحافی بالآخر عام آدمی ہے اور وزیر اعظم کو پورا حق ہے عام آدمی کو انعام دینے کا۔ ایسے افراد کو خوشامدی یا درباری وغیرہ کہنا غلط بات ہے ، یہ ہماری تاریخ کی توہین ہے ۔بھلا مغلوں کے دور میں جب کسی پروفیشنل مدح سرا کا منہ موتیوں سے بھر دیا جاتا تھا، کیا تب انھیں کوئی درباری درباری کہہ کر چھیڑتا تھا؟کیا تب کسی کو اعتراض ہوتا تھا؟
جس مسئلہ کی طرف نشاندہی کرنے کے لئے میں نے قلم اٹھایا ہے وہ فی الحال مسئلہ نہیں ہے مگر آگے چل کر بڑے مسائل کو جنم دے سکتا ہے ۔ سرکاری کالم نویسوں میں آج کل دو اقسام آ رہی ہیں۔ پہلی وہ جو جھوٹ بولتی ہے، دوسری وہ جن سے بولا نہیں جاتا۔پہلے والوں کی بات کرتے ہیں۔ بھائی آپ خوشامد کریں ، آپ وزیر اعظم کو مہان کہیں ، آپ انہیں باپ کہیں ، ماں کہیں، شیر کہیں ،  جو مرضی کہیں ۔ مگر خدارا یہ نہ کہیں کہ وزیراعظم نے فلانے جرنیل کو دفتر میں بلا کر جھاڑ پلا دی اور فلانہ جرنیل وزیراعظم کی ماتھے کی تیوریاں دیکھ کر تھر تھر کانپنے لگا۔یاوزیراعظم کا راحیل شریف کو ایکسٹینشن دینے کا کوئی موڈ نہیں ، چا ئنہ والے وزیراٰعظم کے پیر پڑ گئے ہیں کہ خدارا راحیل شریف پر رحم کریں وغیرہ وغیرہ۔ جھوٹ ایک حد میں اچھا لگتا ہے ۔ وزیراعظم اب بڑے ہو گئے ہیں ، اب وہ دو سال پہلے کی طرح مشرف کو پھانسیاں دینے کی بات نہیں کرتے ۔ آپ کی ان کی اچھی بھلی حکومت کو شہید کروانے کے درپے کیوں ہیں۔ فوج تہیہ کئے ہوئے ہے کہ انھوں نے آپ کو اس بار باؤلے کی بڑھ سے زیادہ اہمیت نہیں دینی۔ آپ پھر چاہتے ہیں کہ ایکسٹنشن ہو جائے تا کہ وہ سول ملٹری لڑائی والا منجن بکے۔ اس لئے تمام ایسے حکومتی افراد جو ننھے منے صحافیوں میں بیٹھ کر سول ملٹری لڑائی بیچتے ہیں ، انکو چاہئے کہ اپنے افکار بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں ۔ میاں صاحب کو بھی چاہئے ایسے لوگوں سے ہوشیار رہیں ۔ تفصیلات میں نہیں جاؤں گا کیونکہ معاملہ سنجیدہ ہوتا جا رہا ہے ۔
دوسری قسم کے کالم نویسوں کا بھی سن لیجئے۔بہت سارے لوگ میاں صاحب کی شان لکھنا چاہتے ہیں ۔ مگر صالح ظافر میاں صاحب کی شان اس درجے پر جا کر بیان کرتے ہیں جہاں فرشتے بھی اخبار پڑھ کر ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ بھائی جی چیک کرو بندہ اپنی برادری کا تو نہیں؟ مقابلہ اسقدر سخت ہے کہ اب میاں صاحب تو کیا انکے فارم کی گائے بھینسوں کی پرفارمنس پر بھی قصیدے لکھے جانے لگے ہیں۔ یہ قطعاً مذاق نہیں ہے ۔ معاملہ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ ایک صاحب نے ملک کے ایک بڑے اخبار میں چند دن پہلے میاں صاحب کی خوبصورتی پر ایک کالم لکھا ۔میاں صاحب کے گالوں کی سرخی پر رومانٹک الفاظ لکھے، پھر میاں صاحب کے گالوں کی سرخی کی وجہ میاں صاحب کے گھر کا خالص دودھ قرار پایا۔ پھر رائے ونڈ فارم ہاؤس میں موجودبھینسوں اور گائے کی شان بیان کی گئی جس سے مجھے محسوس ہوا کہ صحافت کے دفاع میں پہلا قدم اٹھانا نا گزیر ہے ۔ آخر کار بے زبان جانوروں کو اس بے ہودگی میں محض اس لئے شامل کرنا کہ انکو میاں صاحب سے نسبت ہے کسی طور مناسب نہیں۔
سچی با ت یہ ہے کہ بیشترنو مولود صحافیوں نے صالح ظافریت کو کامیابیء صحافت کافارمولہ مان لیا ہے اور لوگ اتباعِ صالح میں دھڑا دھڑ اخبار میلے کر رہے ہیں۔آپ اخبار اٹھا لیجئے ،شریف آدمی ایڈیٹوریل صفحہ پڑھ بھی نہیں سکتا۔ بلاشبہ ہمارے کلچر میں  کسی مرد کے بارے میں اس قسم کی لفاظی کو معیو ب سمجھا جاتا ہے  ۔ ایسے حضرات سے التماس ہے کہ حکومتی سرباراہان ، عسکری سربراہان اور دیگر افراد کی مدح لکھنےکے دوران  کسی رومانوی ناول یا زنانہ ڈائجسٹوں میں چھپنے والی کہانیوں سے مدد لینے سے گریز کریں۔اس سے صحافیوں کی آنے والی نسل  پر برا اثر پڑتا ہے ۔

حکومت کو چاہئے کہ صحافتی تنظیموں کی سوئی ہوئی غیرت کو بیدار کرنے کے لئے مناسب اقدامات کرے۔ نیز اگلے سرکاری دورے پر

مجھے ساتھ لیجانے کا بندو بست کرے۔والسلام

سید شفاعت علی نے الیکٹرانک میڈیا پر ظریفانہ شو کا ایک منفرد انداز متعارف کرایا-بی این این کے ذریعے مسکراہٹیں بانٹتے رہے اور ان دنوں چینل 24پر ان کے شو“میرے عزیز ہم وطنو“ کو مقبول ترین مزاحیہ شو کی حیثیت حاصل ہے-مدیراعلیٰ-

3 تبصرے

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*