outline

آصف زرداری نے بکتر بند گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کی خواہش کا اظہار کیوں کیا ؟

سابق صدر آصف علی زرداری کو قومی احتساب بیورو کی جانب سے احتساب عدالت میں پیش کرکے مزید جسمانی ریمانڈ دینے کی درخواست کی گئی جسے عدالت نے مسترد کر دیا تاہم اس موقع پر سابق صدر نے روسٹرم پر آکر ایک معصوم خواہش کا اظہار کیا جو مسترد کردی گئی

جمعہ کے روز نیب حکام نے سابق صدر آصف زرداری کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں پیش کیا تو مزید جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی گئی جس پر آصف زرداری کےوکیل لطیف کھوسہ نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہوتا کہ عدالت ان کے موکل کی بات پر عمل کرتے ہوئے ’ایک ہی مرتبہ 100 دن کا جسمانی ریمانڈ دے دیتی تاکہ ملزم کو عدالت میں لانے اور لے جانے میں ملکی خزانے پر کم سے کم بوجھ پڑے-

لطیف کھوسہ نے کہا کہ نیب حکام 4 روز کا ریمانڈ لے کر پھر اگلی بار آکر نیا ریمانڈ مانگ لیتے ہیں، 90 روز کا تو نہیں ہو سکتا لیکن 14 روز تو ہو سکتے۔

اس دوران آصف زرداری اپنی نشست سے اُٹھے اور روسٹم پر آگئے اور اُنھوں نے عدالت سے شکوے کے انداز میں کہا کہ ’جج صاحب یہ تو مجھے نماز بھی نہیں پڑھنے دیتے‘۔ اُنھوں نے کہا کہ نیب والوں نے تو اُنھیں ’عید کی نماز بھی نہیں پڑھنے دی۔‘

سابق صدر نے احتساب عدالت کے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہاں پر ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان منگی موجود ہوتے تو ان سے پوچھتے کہ ’یہ کونسی اسلامی ریاست ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ کیسا قانون ہے؟ بیٹی سے ملاقات کرنے کی اجازت دی جائے، جس پر عدالت نے آصف زرداری کو آصفہ بھٹو سے ملاقات کرنے کی اجازت دیدی۔

جب آصف زرداری کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کے لئئےے روبکار تیار کی جا رہی تھی تو انہوں نے عدالت سے ایک معصوم خواہش کا اظہار کیا کہ اڈیالہ جیل لے جاتے وقت اُنھیں بکتر بند گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھایا جائے جس پر احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ گاڑی کے آگے بیٹھنا ہے یا پیچھے اس بارے میں کیسے کوئی احکامات جاری کرسکتے ہیں۔ عدالت نے ملزم کی یہ استدعا مسترد کردی۔

صدر آصف زرداری کی طرف سے اس خواہش کا اظہار شاید اس لیئے کیا گیا کہ ٹوٹی پھوٹی سڑکی کے باعث عقبی نشست پر دھکے لگتے ہیں جبکہ فرنٹ سیٹ نسبتا آرام دہ ہوتی ہے-سابق صدر ضعیف العمر ہیں تاہم ان کی یہ خواہش بھی رد کر دی گئی

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*