تازہ ترین
outline

دل کا دورہ کن جینز کی وجہ سے پڑتا ہے ،امراض قلب کے ماہرین کی انقلابی تحقیق کامیاب

ہر سال کروڑوں انسان دل کا دورہ پڑنے سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور سائندان طویل عرصہ سے یہ جاننے کی کوشش کررہے تھے کہ آخر کس قسم کے جنیز کی وجہ سے دل کا دورہ پڑتا ہے مگر اس حوالے سے کامیابی نہیں مل رہی تھی

اب امراض قلب کے ماہرین محقیقین کے خیال میں اس دریافت سے اس بیماری کی جلد تشخیص کے ساتھ ساتھ علاج کے نئے طریقہ کار میں بھی مدد ملے گی۔

اس وقت برطانیہ میں پلمنری آرٹیریئل ہائپرٹینشن (پی اے ایچ) سے متاثرہ افراد کی تعداد 6500 ہے اور اس کی وجہ سے دل سے پھیپھڑوں تک خون کو منتقل کرنے والی شریانیں سخت اور موٹی ہو جاتی ہیں جو حرکت قلب بند ہونے کا باعث بنتی ہیں۔

زیادہ تر اس بیماری کی تشخیص ان افراد میں ہوتی ہے جو دل اور پھیپھڑوں کی کسی دوسری بیماری میں بھی مبتلا ہوں۔ لیکن یہ بیماری کسی بھی عمر کے فرد کو ہو سکتی ہے اور اس کی کوئی بھی وجہ ہو سکتی ہے۔

اس کا واحد ’علاج‘ دل اور خاص طور پر پھیپھڑوں کا ٹرانسپلانٹ ہے، لیکن اعضا کے ٹرانسپلانٹ کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے اور اکثر جسم انھیں مسترد کر دیتا ہے خاص طور پر پھیپھڑوں کے معاملے میں۔

نیچر کمیونیکیشن نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تازہ تحقیق کے لیے سائنسدانوں نے اس بیماری کے لیے جینوم کا جائزہ لے کر اب تک کی سب سے بڑی تحقیق کی ہے۔

کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسے جنیات کی شناخت کر لی ہے جو دل کی جان لیوا بیماری کا باعث بنتے ہیں اور جن کا علاج دل اور پھیپھڑوں کا ٹرانسپلانٹ ہی ہے۔

پلمنری آرٹیریئل ہائپرٹینشن سے متاثرہ افراد میں سے 50 فیصد پانچ سال کے اندر اندر ہی مر جاتے ہیں لیکن ان افراد میں اس بیماری کی وجہ کے بارے میں لوگوں کو بہت کم ہی معلوم تھا۔

تاہم اب ماہرین کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس بیماری کا باعث بننے والے پانچ جنیات کو دریافت کر لیا ہے۔

اس کے لیے سائنسدانوں نے ان ایک ہزار سے زائد پی اے ایچ کے مریضوں کے ڈی این اے کا جائزہ لیا جنھیں اس بیماری کی وجہ معلوم نہیں تھی۔

انھیں معلوم ہوا کہ ان افراد میں پانچ جینز میں تغیرات اس بیماری کی وجہ ہیں۔ ان میں وہ چار جینز بھی شامل ہیں جن کے بارے میں اس سے پہلے سمجھا جاتا تھا کہ وہ اس بیماری کی وجہ نہیں ہیں۔

محقیقین کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس بیماری سے متاثرہ افراد میں یہ جینز جسمانی خلیوں کی بناوٹ اور ان کے کام کرنے کے لیے ضرور پروٹینز بنانے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے پروفیسر نک موریل نے بی بی سی کو بتایا: ’ان نئے جینز کی ساخت اور تغیرات کی شناخت کرنے سے آپ کو اس بیماری کی وجہ معلوم ہوتی ہے۔‘

انھوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس سے آپ کو علاج کے نئے طریقوں میں مدد ملتی ہے کیونکہ آپ پہلے ہی اس بیماری کی وجہ کے بارے میں بہت کچھ جان چکے ہوتے ہیں۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*