تازہ ترین
outline

پلوامہ حملہ،خودکش بمبار عادل ڈار کی کہانی

پلوامہ میں بھارتی فوج کے قافلے پر خودکش حملے کے بعد جہادی تنظیم جیش محمد نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مبینہ خود کش حملہ آور عادل احمد ڈار کی دس منٹ پر محیط ویڈیو جاری کی جس میں عادل احمد کشمیریوں پر مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب یہ ویڈیو آپ تک پہنچے گی تو میں جنت میں پہنچ چکا ہوں گا

عادل احمد ڈار کا تعلق مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ کے گائوں گوندی باغ سے ہے -اس کے والد غلام حسن ڈار اور چچا عبدالرشید ڈار کے مطابق عادل ایک ذمہ دار لڑکا تھا مگر حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ عادل کا پورا خاندان مسلح جدوجہد میں شریک ہے۔

عادل احمد ڈار جس کا جہادی نام وقاص کمانڈو تھا ،اس کے چچا عبدالرشید ڈار کا ایک بیٹا منظور راشد ڈار لشکر طیبہ کے پلیٹ فارم سے لڑتے ہوئے شہید ہو چکا ہے جبکہ دوسرا بیٹا توصیف احمد مسلح جدوجہد سے واپس لوٹا تو اسے گرفتار کرلیا گیا اور وہ جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں قید ہے

عبدالرشید ڈار کے مطابق توصیف مسلح جدوجہد ترک کر چکا تھا اور ہم اسے دبئی بھیجنا چاہ رہے تھے مگر بھارتی فوج نے اسے گرفتار کرلیا ایک سوال کے جواب میں عادل کے والد غلام حسن ڈار کہتے ہیں کہ جب ایک کزن سرنڈر کرنے پر جیل میں سڑ رہا تھا تو ان حالات میں ہم عادل ڈار کو ہتھیار ڈالنے پر کیسے رضامند کر سکتے تھے

عادل احمد ڈار کے والد غلام حسن ڈار کے مطابق عادل نے بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور وہ ترکھان کے ساتھ معاون کے طور پر کام کرتا تھا،عادل بہت ذمہ دار لڑکا تھا اور اپنی ماں کے ساتھ ہاتھ بٹاتا-

عادل مسلح جدوجہد کی طرف کیسے مائل ہوا -عادل ڈار کے والد اس حوالے سے ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جس نے اسے ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیا –

غلام حسن ڈار کے مطابق ایک روز عادل اسکول سے واپس آرہا تھا کہ اسے بھارتی فوج کی اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) نے روک لیا اور زمین پر ناک رگڑنے کو کہا ۔عادل کو کہا گیا کہ وہ زمین پر ناک رگڑتے ہوئے ان کی جیپ کے گرد چکر لگائے -عادل اس واقعہ کو کبھی نہیں بھول پایا اور باربار ذکر کرتا رہتا –

والدین کے مطابق اسی واقعہ نے عادل کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیا ۔وہ گزشہ برس 19 مارچ کو بائیسکل لیکر گھر سے نکلا اور پھر واپس نہیں آیا

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*