تازہ ترین
outline

فواد چوہدری کے سینیٹ داخلے پر پابندی ،چیئرمین سینیٹ منتخب عوامی نمائندے نہیں ،وفاقی وزیر کا الزام

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کرنے اور پھر معافی نہ مانگنے پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کے سینیٹ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے

بدھ کے روز سینیٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان خان کاکڑ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس پر چیئرمین نے وفاقی وزیر کا مائیک بند کردیا اور غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کرنے پر انہیں تنبیہ بھی کی۔

جمعرات کے روز بھی سینیٹ میں وفاقی وزیر کے رویئے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور فواد چوہدری کی معافی کا مطالبہ کردیا۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئےکہا کہ کل کی بدمزگی کا ہمارے پاس علاج نہیں، سوائے اس کے کہ ہم باہر چلے جائیں، چیئرمین سینیٹ کے پاس اس کا علاج ہے، اگر آپ کی بھی بات نہ مانی جائے تو واک آؤٹ کرنا پڑے گا۔

سینیٹر حاصل بزنجو نے وفاقی وزیر کی جانب سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ جب تک یہ شخص ایوان سے معافی نہیں مانگے گا، اپوزیشن ایوان میں نہیں بیٹھے گی۔

چیئرمین سینیٹ نے وفاقی وزیر اطلاعات کو معافی مانگنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری ایوان میں آکر معافی مانگیں، اگر معافی نہیں مانگتے تو ان پر جاری اجلاس میں داخلے پر پابندی لگاتا ہوں۔

صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ ممبران پر لازم ہے کہ وہ چیئرمین، قائد ایوان اور حزب اختلاف کا احترام کریں، ممبران ایوان میں ایسے الفاظ اور اشارے نہ کریں جو غیر مناسب ہیں۔

ادھر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشاہد اللہ خان نے جس طرح سے وزیراعظم اور میرے حوالے سے بری زبان استعمال کی اس پر تو معافی نہیں ہونی چاہیے لیکن اگر ہم غریب عوام کے پیسے کے بارے میں بات کریں تو ہمیں معافی کا کہا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے بارے میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی رولنگ پر کابینہ مطمئن نہیں ہے، پوری کابینہ نے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ میں منتخب ہو کر آیا ہوں اور مجھے لاکھوں لوگوں نے ووٹ دیے ہیں جب کہ چیئرمین سینیٹ عوامی نمائندے نہیں بلکہ انہیں براہ راست منتخب کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*