تازہ ترین
outline

مردان یونیورسٹی،معامہ مذہبی نہیں سیاسی ہے۔عبداللہ فیضی

مسئلہ مذہبی سے زیادہ سیاسی ہے۔ خود سوچئیے کہ آپ روس سے انجینرگ مکمل کرنے اور یورپ بھر کے دیگر اداروں میں گھومنے کے بعد پاکستانی یونیورسٹی اور وہ بھی ولی خان جیسی چھوٹی یونیورسٹی سے اپنی فیلڈ چھوڑ کر”صحافت” کے چار سالہ کورس کی ڈگری کیوں لینا چاہیں گے؟
بادی النظر میں شائد آپ اپنے شوق سے یا “کسی” کے شوق دلانے پر جامعہ سے نظریاتی سوشلسٹ طلبہ کی نِئی تحریک/کھیپ تیار کرنا چاہتے ہوں جو پرانے سرخوں (جنکا قبلہ اب امریکہ ہو چکا) کو اصل نظریاتی کارکنوں سے تبدیل کردے۔
مقتول ایک پکا نظریاتی سوشلسٹ تھا جو اپنے آزاد افکاروخیالات اور طلبہ مسائل کے حوالے سے مسلسل انتظامیہ اور پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن دونوں کے لئِیے ہی مستقل درد سر بنا ہوا تھا اور اپنا ایک حلقہ بنانے میں کامیاب بھی ہوچکا تھا۔ لہازا اب فریقین کے مابین بات مقدمہ بازی تک پہنچی ہوئی تھی۔ خیالات تو جیسے کسی بھی اصلی سوشلسٹ کے مذہب کے بارے ہوتے ہیں ویسے ہی مقتول کے بھی رہے ہونگے سو انہیں گستاخی کا رنگ دینا چنداں مشکل نہ تھا خصوصا جب مذہبی رنگ دینے والے خود ہی سیکولز اور لبرلز ہوں گویا انہیں تو ایک تیر سے دو شکار مل گئے کہ سیاسی مخالف بھی مرا اور مذہب بھی بدنام ہوا۔ کرنے کا کام: ۱-اویں (یعنی بلاوجہ) جذباتی  ہو کر قاتلین کا دفعہ نہ کریں بلکہ انکے خلاف نام لے کر مہم چلائیں کہ “دیکھو پی ایس ایف کے غنڈوں” نے سیاسی اختلاف پہ لڑکا مار دیا اوراگر مذہبی لوگوں سے گملہ بھی ٹوٹے تو میڈیا میں سپیشل پیکج چلتے ہیں۔ ۲- قانون توہین کے معاملے میں بجائے ڈیفنسو ہونے یا ریکشن میں آنے کہ اعتدال کے ساتھ کھل کر یہ کہیں کہ قانون توہین کا سیاسی اور انتقامی استعمال  بند ہونا چاہیئے اور جرم کی عدالتی جانچ اور سماعت تیز۔ ۳- پنجاب اسمبلی، سینٹ، قومی اسمبلی اور پختون خواہ میں مذہبی جماعتیں خود آگے بڑھ کر مذمتی قرار داد پیش کریں تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ آپ جنونی نہی بلکہ جنونی تو سیکولرز اور لبرلز ہیں اور اسکے ساتھ ہی قانون توہین کے سیاسی اور انتقامی استمعال کے سد باب کے لیئے جھوٹے الزام پر سزا کا مطالبہ کردیں۔
وماعلینا الاالبلاغ

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*