outline

صوبائی سیکرٹری برائے ٹرانسفر ہائے نیم شب-خالد مسعود خان

پنجاب حکومت کی نالائقی اور نااہلی پر تقریباً تقریباً اجماعِ امت پایا جاتا ہے۔ کسی بھی شریف آدمی سے‘ بشمول عزیزانِ وزیراعلیٰ‘ جس سے بھی بات ہوئی‘ اسے وزیراعلیٰ کے بارے میں خصوصی اور پنجاب حکومت کے بارے میں عمومی طور پر مایوس اور افسردہ ہی پایا۔ آج نو ماہ ہونے کو آئے ہیں‘ کسی ایک معقول شخص کے منہ سے حرفِ سپاس سننے میں نہیں آیا۔ کل شاہ جی ملے تو کہنے لگے: پنجاب حکومت میں ایک خوبی تو ایسی ہے کہ دل میں اس نالائق حکومت کے متعلق بغض ہونے کے باوجود میں تعریف کرنے پر مجبور ہوں۔ ایسی شاندار کارکردگی کہ دیکھ کر دل خوش ہو جاتا ہے۔ شاہ جی کی بات اتنی حیران کن تھی کہ پہلے تو میرا منہ مارے حیرانی کے کھلے کا کھلا رہ گیا‘ تاہم میں نے یہ خوش نما بیان سنتے ہی سارے کام چھوڑ دیے اور پوری طرح شاہ جی کی طرف متوجہ ہو گیا‘ لیکن ٹھہریں! مجھے شاہ جی کے اس حیران کن بیان سے ایک بات یاد آ گئی۔

ایک صاحب کا انتقال ہو گیا‘ ہماری مشرقی اور مذہبی روایات کے مطابق ؛حالانکہ کسی مرنے والے کے بارے میں منفی بات نہیں کی جاتی اور مارے مروت کے اس کی تعریفیں ہی کی جاتی ہیں اور گھر کے صحن میں بچھی دری پر بیٹھ کر تین روز تک مرحوم کی ایسی خوبیوں کا ذکر کیا جاتا ہے‘ جن کا کبھی کوئی شائبہ بھی مرحوم کی زندگی میں دیکھنے میں نہ آیا ہوتا ہے‘ لیکن کیا کریں؟ یہ ہماری نیک دلی اور بامروت اخلاقی روایات کا حصہ ہے ‘جسے تقریباً ہر شخص اپنی اپنی استطاعت کے مطابق نبھاتا ہے ۔ کبھی کبھار تو بڑی ہی مشکل آن پڑتی ہے کہ خرابیاں بیان ہو نہیں سکتیں اور خوبی کوئی ملتی نہیں۔ ایسے میں ”ستھر‘‘ (سرائیکی میں فوتگی والے گھر بچھی ہوئی دری یا چادر جس پر تعزیت کرنے والے آ کر بیٹھتے ہیں‘ ستھر کہلاتی ہے) پر بیٹھے ہوئے اظہارِ افسوس کے لیے آئے لوگوں کو بڑی مشکل آن پڑتی ہے کہ و ہ کیا کریں؟ اس دوران کوئی نیا شخص تعزیت کے لیے آتا ہے۔ فاتحہ پڑھتا ہے اور کہتا ہے کہ مرحوم میں ایک بڑی خوبی تھی‘ تو لوگ بڑے اشتیاق سے یہ ”سٹوری‘‘ سنتے ہیں۔

خیر بات ہو رہی تھی کہ ایک صاحب کا انتقال ہو گیا۔ مرحوم ہر حوالے سے ایسا شخص تھا کہ خوبی تو ڈھونڈے سے نہ ملے۔ پڑوسی تنگ‘ رشتہ دار تنگ‘ عزیز و اقارب ہمہ وقت تنگ و پریشان۔ جس سے بھی کبھی واستہ پڑا ‘اسے ناکوں چنے چبوا کر دم لیا۔ اب مرحوم ہو گئے تو لوگ باگ تعزیت کے لیے آتے اور فاتحہ پڑھنے کے بعد خاموش بیٹھ جاتے۔ پورے تین دن یہ عالم رہا کہ مرحوم کے گھر والے اس جملے کے منتظر رہے کہ کوئی آئے اور کہے کہ ”مرحوم میں ایک بڑی خوبی تھی‘‘۔ لیکن ”اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘‘ کے مصداق کامل تین روز ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی۔ تیسرے دن شام کے وقت جب گھر والے دریاں سمیٹ رہے تھے مرحوم کا ایک پرانا دوست آیا۔ تب تک عالم یہ تھا کہ لوگ دریوں سے اٹھ چکے تھے اور تین چار دریاں بھی اٹھائی جا چکی تھیں۔ اب محض ایک دری باقی بچی تھی ‘جس پر دوچار لوگ بیٹھے تھے اور وہ بھی اٹھنے ہی والے تھے۔ مرحوم کا وہ پرانا دوست آ گیا اور فاتحہ پڑھنے کے بعد بولا کہ مرحوم میں ایک بڑی خوبی تھی۔ مرحوم کے بڑے بیٹے نے ہاتھ کے اشارے سے اپنے والد کے اس دوست کو آگے بات کرنے سے روکا اور چھوٹے بھائی کو کہنے لگا کہ دریاں دوبارہ بچھا دو۔ دو تین دریاں جلدی جلدی دوبارہ بچھائی گئیں۔ اٹھ کر جاتے ہوئے لوگ دوبارہ دریوں پر بیٹھ گئے۔ مرحوم کے بیٹے نے والد کے دوست سے کہا: ہاں چاچا جی! آپ بتا رہے تھے کہ ابا مرحوم میں ایک بڑی خوبی تھی۔ اس صاحب نے کھنگار کر گلا صاف کیا۔ اشتیاق بھرے چہروں پر نظر دوڑائی اور کہنے لگا: ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ مرحوم میں ایک بڑی خوبی تھی۔ وہ بعض اوقات لوگوں کو اس طرح تنگ و پریشان نہیں کرتا تھا‘ جیسا کہ وہ عموماً کیا کرتا تھا۔
میں نے کہا :شاہ جی! یہ بھی کوئی ایسے والی خوبی تو نہیں جو آپ پنجاب حکومت کے حوالے سے بیان چاہتے ہیں؟ شاہ جی کہنے لگے: نہیں خدانخواستہ ایسی کوئی بات نہیں۔ میں تو پنجاب حکومت کی محنت شاقہ‘ وقت بے وقت عوامی بہبود کے لیے کی جانے والی کاوشوں اور راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر حکمنامے جاری کرنے والی خوبی کا ذکر کر رہا ہوں۔ ڈی پی او پاکپتن کا ٹرانسفر رات دس بجے کر دیا گیا۔ بھلا اس سے پہلے اس طرح رات کو اُٹھ کر دفتر کھول کر اور عجلت‘ بلکہ افراتفری میں تبادلے کرنے کا کسے خیال ہوتا تھا؟ دفتری اوقات کے پانچ گھنٹے بعد آفس آرڈر ٹائپ کروا کر دستخط کرنے کی تکلیف پہلے کون اٹھاتا تھا؟دنیا کی بے ثباتی اور ناپائیداری کو اس سے پہلے اس طرح کون سمجھا تھا کہ ”انہیں دم کا بھروسہ نہیں‘‘ کے مطابق ؛اگر کام رات کو یاد آیا تو صبح ہونے کا انتظار نہیں کیا اور آج کا کام کل پر ڈالنے کی بجائے آج ہی کر کے دم لیا ہے۔

میں نے کہا: شاہ جی آپ کو ایک دم سے اتنی پرانی بات کیسے یاد آ گئی؟ یہ جو اچانک باسی کڑھی میں ابال آیا ہے اس کی وجہ تسمیہ دریافت کر سکتا ہوں؟ شاہ جی کہنے لگے :تین چار دن پہلے چوہدری پرویز الٰہی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ملتان کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کا تبادلہ بھی اسی طرح عجلت اور افراتفری میں رات دس بجے کیا گیا ہے۔ ایمرجنسی کا یہ عالم تھا کہ نا صرف رات دس بجے تبادلہ کیا گیا‘ بلکہ گیارہ بجے رات دفترکا تالہ توڑ کر نئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو چارج بھی دے دیا اور دفتر کا قبضہ بھی۔ پرانے ایم ایس کو تو صبح دفتر آنے پر پتا چلا کہ اس کے دفتر میںاس کا ایک جونیئر ڈاکٹر براجمان ہے۔ میں نے کہا: شاہ جی آخر کوئی وجہ تو اس عجلت اور ایمرجنسی کی ہوگی؟ بلاوجہ تو اس طرح رات گئے تبادلہ نہیں ہوتا اور آدھی رات کو تالے نہیں توڑے جاتے۔ شاہ جی کہنے لگے: خیروجہ تو خاصی معقول ہے۔ اٹھارہ گریڈ کے جس جونیئر ڈاکٹر کواس ادارے میں موجود سینئر ڈاکٹرز کی موجودگی میں بیس گریڈ کی پوسٹ کا چارج دیا گیا ہے‘ وہ ملتان سے پی ٹی آئی کے ایم پی اے سلیم لابر کا چھوٹا بھائی ہے اور اس ٹرانسفر کیلئے شنید ہے کہ ملتان کے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے چار ایم پی اے لاہور گئے تھے اور یہ ٹرانسفر کروا کر اسی طرح ملتان لوٹے‘ جس طرح اقبال گجر ڈی پی او پاکپتن کا تبادلہ کروا کر واپس آیا تھا۔

شاہ جی کہنے لگے: میاں! آپ تو ملتان میں کہیں آتے جاتے نہیں۔ آپ کبھی دو سال پہلے سول ہسپتال ملتان گئے تھے؟ میں نے کہا :شاہ جی! میں اپنی کوتاہی پر شرمندہ ہوں اور امید ہے آپ حسب ِعادت میری اس کوتاہی پر مجھے معاف فرما دیں گے۔ ویسے بھی میں ہسپتال‘ کچہری اور تھانے سے دور رہنے میں عافیت محسوس کرتا ہوں اور اللہ سے دعاگو رہتا ہوں کہ وہ مجھے ان جگہوں سے دور ہی رکھے ‘مگر آپ کے اس سوال کا مقصد کیا تھا؟ شاہ جی کہنے لگے :اگر تم ان دنوں کبھی سول ہسپتال ملتان گئے ہوتے تو تم دیکھتے کہ ہسپتال کیسا صاف ستھرا اور شفاف ہوتا تھا۔ یہ تبدیل ہونے والا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تب وہاں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تھا۔ اسے اس ادارے میں آئے ابھی سال بھی پورا نہیں ہوا تھا۔ نہ کوئی شکایت نہ کوئی بدانتظامی۔ قصور صرف یہ کہ کسی ایم پی اے کا بھائی نہیں تھا ‘ گویا کہ نئے پاکستان میں میرٹ کے نئے تقاضوں پرپورا نہیں اترتا تھا۔ بس یہی قصور تھا اور اوپر سے مزید پھرتیاں یہ کہ گھر خالی کروانے کی غرض سے دوسرے دن گھر کا بجلی کا میٹر بھی اتار لیا گیا‘ جس کا بل ادا شدہ تھا اور اس گھر کو استعمال کرنے کا قانونی حق دو ماہ تھا‘ مگر سب لسٹم پشٹم ہو رہا تھا کہ کہیں ایم پی اے کے بھائی جونیئر ڈاکٹر کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو اور چار ممبران صوبائی اسمبلی کا دورۂ لاہور کہیں بیکار نہ چلا جائے۔ میں نے کہا :اور شاہ جی وہ انیتا ایوب کیس کا فیصلہ کیا ہوا؟ وہ تو سب سرکاری ملازمین کے لیے عدالتی نظیر تھا۔ شاہ جی کہنے لگے: مجھے اس انیتا ایوب کیس بارے تو کوئی علم نہیں کہ وہ کیس کیا تھا اور کس لیے تھا ‘لیکن میری ایک حقیر سی تجویز ہے وہ تم اپنے کالم کے ذریعے اربابِ اختیار تک پہنچا دو۔ میں نے کہا :شاہ جی! حکم کریں۔ کہنے لگے: سرکار کو کہیں کہ وہ ایک عدد صوبائی سیکرٹری برائے ٹرانسفر ہائے نیم شب علیحدہ سے لگا دے۔ اس سے پنجاب گورنمنٹ کی کارکردگی میں بھی اضافہ ہو گا اور سیکرٹری سروسز و سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ وغیرہ کے روٹین کے کام بھی متاثر نہیں ہوں گے۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*