تازہ ترین
outline

ہمارا تعلیمی مستقبل-ڈاکٹر صفدر محمود

میں نے اُن سے عرض کیا کہ تعلیم عمران کی ترجیح ہے اور میری محبت ہے۔ ترجیحات بدلتی رہتی ہیں اور خاص طور پر حکمرانوں کی ترجیحات کا جو حشر ہوتا ہے اُس پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ محبت ایک دائمی رشتہ ہے جو وقت کے تقاضوں کے تحت گھٹ بڑھ سکتا ہے لیکن ختم کبھی نہیں ہوتا۔ یہ پروفیسروں اور استادوں کی محفل تھی، جس میں مجھے کچھ کہنے کا اذن ملا تھا ورنہ استادوں کی محفل میں بولنا نہایت کٹھن کام ہوتا ہے۔ استاد زندگی بھر بولنے کی کمائی کھاتا ہے لیکن سننے کا عادی نہیں ہوتا۔ میں اُن سے کہہ رہا تھا کہ میں 1997میں وفاقی سیکرٹری وزارت تعلیم اپنی مرضی سے بنا تھا۔ بڑی محنت سے قومی تعلیمی پالیسی تیار کی اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار یونیسکو کی عالمی کانفرنس اسلام آباد میں منعقد کروائی، جس کا مقصد شرح خواندگی میں اضافے کی راہیں تلاش کرنا تھا۔

سچ یہ ہے کہ حکمرانوں کو اِس حقیقت کا ہرگز شعور نہیں ہوتا کہ ملک میں فکری ترقی، انقلابی روح، قومی کردار اور ترقی کی آرزو معیار کی اعلیٰ تعلیم سے پیدا ہوتی ہے۔ ٹیکنالوجی سائنس اور سوشل سائنسز میں آگے بڑھنے کے لئے تحقیق (ریسرچ) کا ماحول اور مواقع پیدا کرنا پڑتے ہیں، طلبہ میں تبادلہ خیال، کھلی بحث اور غور و فکر کا ماحول تشکیل دینا پڑتا ہے۔ محض شرح خواندگی کی اہمیت اپنی جگہ لیکن محض شرح خواندگی ترقی کا انجن نہیں بن سکتی، ورنہ آج سری لنکا 92%شرح خواندگی کے ساتھ یورپ سے کندھا ملائے کھڑا ہوتا۔ انسانی وسائل (Human Resource) کو ترقی دینے اور قوم و ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لئے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ضرورت ہوتی ہے جہاں نصاب عالمی سطح کا ہم پلہ ہو، اساتذہ عالم و فاضل اور ریسرچ اسکالرز ہوں، طلبہ میں محنت کی عادت ہو اور اداروں میں ریسرچ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہو۔ میری محبت ’’تعلیم‘‘ کے ساتھ سانحہ یہ ہوا کہ جب قومی تعلیمی پالیسی بن چکی اور اس پر عملدرآمد کا مرحلہ آیا تو حکومتِ پاکستان نے قومی تقاضوں کی تکمیل کے لئے ایٹمی دھماکہ کر دیا۔ بلاشبہ ایٹمی دھماکہ ناگزیر تھا اور ہماری قومی سلامتی کا ضامن تھا لیکن اس کے نتیجے کے طور پر پاکستان دنیا اور دنیا کے سیاسی ناخدائوں کے زیر عتاب آ گیا۔ پابندیوں میں جکڑا پاکستان مالی بحران، وسائل کی قلت اور غیر ملکی کرنسی کے قحط اور بیرونی امداد کی بندش کا شکار ہو کر تعلیمی پالیسی پر عملدرآمد کو پس پشت ڈالنے پر مجبور ہو گیا۔ میرے نزدیک یہ ایک سانحہ تھا لیکن سرکاری ملازمت میں محبتیں اسی طرح سانحات کا شکار ہوتی رہتی ہیں کیونکہ محبتیں حکمرانوں کی خوشنودی یا ترجیحات کے تابع ہوتی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان میں تعلیم کسی حکومت کی بھی سچی ترجیح نہیں رہی اور نہ ہی حکمرانوں کو تعلیم کی اہمیت کا شعور تھا۔ ہماری تاریخ میں کسی بھی حکومت نے تعلیم کے لئے قومی آمدنی کا دو فیصد سے زیادہ مختص نہیں کیا جبکہ بنگلہ دیش اور ہندوستان چار فیصد تک پہنچ چکے ہیں اور تعلیم کے میدان میں معاشی میدان کی مانند ہمیں پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ ہمارے حکمران اس حقیقت سے ہرگز آگاہ نہیں کہ اعلیٰ تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کا اعلیٰ معیار معاشی ترقی کا ضامن ہوتا ہے۔ مثالیں دوں تو کتاب کا موضوع ہے کہ کس طرح بہت سی قومیں محض سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اربوں ڈالر کما کر خوشحالی کی منزلیں طے کر رہی ہیں۔ پڑھا لکھا طبقہ اور خاص طور پر مڈل کلاس نئے پاکستان کے سحر میں مبتلا ہو گئی۔ عمران خان کے شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی جیسے کارناموں سے حد درجہ متاثر ہو کر یہ سوچنے لگی کہ نئے پاکستان میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انقلاب لانے کی صلاحیت موجود ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ذاتی زندگی میں تاریخی کارنامے سرانجام دینے والے عام طور پر سیاسی زندگی میں عوامی توقعات پوری نہیں کر سکتے۔ یہاں ہیرو کا مائنڈ سیٹ اکثر رکاوٹ بنتا ہے۔ موجودہ تعلیمی منظر نامہ آپ کے سامنے بلکہ عبرت کا سامان ہے۔ پاکستان صدیوں کی تعلیمی تاریخ کا امین ہے، ہماری بعض یونیورسٹیاں اور کالجز صدیوں کو بدلتے دیکھ چکے ہیں لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہماری ایک بھی یونیورسٹی عالمی معیار کی یونیورسٹیوں میں شمار نہیں ہوتی۔ اس میدان میں بھی تعلیم سائنس ٹیکنالوجی ریسرچ وغیرہ کا تھوڑا سا بھرم فوج نے قائم رکھا ہوا ہے، جس کی یونیورسٹیوں کا معیار قدرے بہتر ہے ورنہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے اور نجی یونیورسٹیاں محض دکانیں ہیں اور سونے کی کانیں ہیں، جہاں مالکان کی واحد ترجیح دولت سازی ہوتی ہے نہ کہ معیاری تعلیم کی فراہمی۔ چند ایک پرائیویٹ یونیورسٹیوں کو چھوڑ کر باقی نالائقوں کی فوج مارکیٹ میں بھجوا رہی ہیں، جن کا تعلیمی معیار قابل رحم ہوتا ہے۔ رہی پبلک یعنی حکومتی یونیورسٹیاں تو وہ گروہ بندی، سازشوں اور جعل سازی کے گڑھ بن چکی ہیں۔ وہاں نہ ریسرچ نہ ریسرچ کا ماحول ہے۔ پڑھنے پڑھانے کا جذبہ مفقود اور وقت گزاری کا کلچر غالب آ چکا ہے۔ حکومت تماشائی بنی قوم کو عالمی سطح کے تعلیمی معیار کے حوالے سے قہر خدمت میں گرتے دیکھ رہی ہے۔ اسکولوں کا حال اتنا ابتر ہے کہ ایک علیحدہ کالم کا متقاضی ہے۔ چنانچہ دوستو میرے وژن کے مطابق پاکستان کا کوئی تعلیمی مستقبل نہیں جب تک انقلابی اقدامات نہیں کئے جاتے۔ حکومت روحانیت کی یونیورسٹی اور وزیراعظم ہائوس کو چین کی مدد سے یونیورسٹی بنانے میں مصروف ہے جبکہ موجودہ پبلک اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں کا معیار سب سے بڑا لمحہ فکریہ ہے، سب سے پہلی ترجیح ہونا چاہئے۔ فی الحال اتنا ہی کافی ہے۔

آخر میں مجھے وزیراعلیٰ، وزیر تعلیم، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کی توجہ ایک انسانی مسئلے کی جانب مبذول کروانا ہے۔ پنجاب حکومت نے خواتین لیکچرار اور پروفیسروں کی ترقی تربیتی پروگرام سے مشروط کر رکھی ہے، جس کے تحت صوبے بھر سے ان کو لاہور بلا کر دو ہفتے تربیت دی جاتی ہے۔ اس سے خواتین کے لئے سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں، خانگی زندگی اور بچے متاثر ہو رہے ہیں جبکہ یہ تربیتی پروگرام اس سطح پر غیر ضروری اور وسائل کا زیاں ہے۔ خواتین پروفیسر پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سلیکٹ ہوئی ہیں، ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی ہیں۔ اس کے علاوہ بی ایڈ، ایم اے ایجوکیشن بھی کر رکھا ہے اور علی انسٹیٹیوٹ جیسے ادارے سے تربیت یافتہ ہیں۔ اکثر ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں۔ ان خواتین کو دور دراز علاقوں سے اکھاڑ کر لاہور رکھنا اُن کے لئے گمبھیر مسائل کا باعث بنتا ہے۔ وزیراعلیٰ اور وزیر تعلیم، سیکرٹری تعلیم سے ہمدردانہ غور کی گزارش ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*