outline
Featured Video Play Icon

پاکستان کے پہلےآرمی چیف جنرل میسروی:اپنے بھی خفا بیگانے بھی ناخوش

افواجِ پاکستان کے پہلے سربراہ جنرل سرفرینک والٹر میسروی وزیراعظم لیاقت علی خان سے ملنے کے لیئے ان کی رہائش گاہ پہنچے تو ان کی خواب گاہ سے ایک ڈاڑھی والے شخص کو باہر نکلتے دیکھا ،یہ شخص رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گم ہوگیا ۔جنرل میسروی نے وزیراعظم سے پوچھا ،کیا یہ باریش شخص اکبر تھا ؟وزیراعظم نے مسکراتے ہوئے کہا ،ہاں یہ کرنل اکبر خان تھا؟یہ پراسرار شخص کرنل اکبر خان کون تھا اور وزیراعظم سے خفیہ ملاقات کے مقاصد کیا تھے ؟

قیام پاکستان کے وقت کرنل اکبر خان کا شمار پاکستان کے سینئر ترین فوجی افسروں میں ہوتا تھا ۔یہ وہی اکبرخان ہیں جنہیں مشہور زمانہ راولپنڈی سازش کیس کا مرکزی کردار قرار دیا گیا او رفیض احمد فیض کیساتھ ملکر حکومت کا تختہ الٹنے کے الزام میں فوج سے نکال دیا گیا۔بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں نیشنل سکیورٹی چیف مقرر کیا ۔کرنل اکبر خان جو بعدازاں بریگیڈیئر اور پھر میجر جنرل بنے ،انہیں پاکستان کی پراکسی وار کا بانی کہا جا سکتا ہے کیونکہ کشمیر آزاد کروانے کے لیئے جو قبائلی لشکر بھیجا گیا ،اسے اسٹیبلشمنٹ نے ’’آپریشن گلمرگ‘‘کا نام دیا اور کرنل اکبر خان کو اس آپریشن کا انچار ج مقرر کیا گیا۔

میجر جنرل اکبر خان بہت پراسرار اور متضاد شخصیت کے مالک تھے ،ایک طرف وہ کشمیر میں جہادکا علم اُٹھائے ہوئے تھے تو دوسری طرف ان کی رنگین مزاجی کے چرچے عام تھے ۔جہاد کشمیرکے دنوں میں جب وہ بریگیڈیئر تھے تو رنگ و نور کی محفلیں سجانے کی خبریں جی ایچ کیو تک پہنچنے لگیں۔جی ایچ کیو سے ایک فوجی افسر کو معاملات کی جانچ پڑتال کے لیئے روانہ کیا گیا۔

جب انکوائری افسر مری میں کشمیر پوائنٹ کے قریب بریگیڈ ہیڈکوارٹر پہنچا تو اس کا خیال تھا کنٹرول روم میں حالت جنگ کا سماں ہوگا لیکن وہاں تو چند خوبروں دوشیزاؤں میں گھرے بریگیڈئر اکبرخان رقص و سرود کی محفل سجائے ہوئے تھے ۔اسی طرح جب چیف آف اسٹاف نامزد ہونے کے بعد میجر جنرل کے رینک پر ترقی پانے کے لیئے بریگیڈئر اکبر خان اسٹاف کورس کے لیئے لندن گئے تو وہاں بھی ان کے اندازو اطوار یہی رہے ۔ان کے ساتھ ہی کورس کے لیئے جانے والے ایک فوجی افسر کی بیان کردہ روداد کے مطابق لندن میں ان کا پرتعیش اپارٹمنٹ مغل دربار کا منظر پیش کرتا ،ایرانی قالینوں پر انتہائی نفیس گاؤ تکیئے لگے ہوتے ،رقاصائیں اپنے فن کے جوہر دکھا رہی ہوتیں اور ایک روز تو بھارت کے مشہور ڈانسر رام گوپال کو ان کے دربار میں ناچتے دیکھا گیا۔

جو تاریخ ہمیں پڑھائی گئی ،اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جذبہ جہاد سے سرشار قبائلی لشکر نے اپنی مدد آپ کے تحت کشمیرآزاد کروانے کے لیئے سرینگر کی طرف مارچ کیا ،لیکن سچ یہ ہے کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملکی دفاع کی نجکاری کا آغازکرتے ہوئے ’’آپریشن گلمرگ‘‘لانچ کیا گیا ۔اس آپریشن کی ذمہ داری کرنل اکبر خان کو سونپی گئی اور طارق بن زیاد سے متاثر ہو کر کرنل اکبر خان کا جہادی نام ’’جنرل طارق ‘‘ رکھا گیا۔

کشمیر آزاد کروانے کے لیئے ’’ آپریشن گلمرگ‘‘ کے تحت ہر پشتون قبیلے کو 1000جنگجو بھرتی کرنے کا ٹاسک دیا گیا کشمیر پر یلغار کرنے کے لیئے 22اکتوبر1947ء کی تاریخ مقرر کی گئی ۔ ڈی جی ملٹری آپریشنز بریگیڈیئر شیر خان سمیت نہ صرف کئی سینئر فوجی افسر اس مہم جوئی کا حصہ بنے بلکہ ہر قبائلی ملک کے مشیر کے طور پر افواجِ پاکستان کے حاضر سروس میجر کو مسلح جتھے کی قیادت سونپی گئی۔

’’آپریشن گلمرگ‘‘ کے تحت قبائلی لشکر ماردھاڑ کرتا ہوا سرینگرکے قریب تو پہنچ گیا لیکن توقعات کے برعکس کشمیری عوام کو مسلح جدوجہد اور بغاوت پر آمادہ نہ کیا جا سکا ۔دلوں کو فتح کرنے کے لیئے بھیجے گئے قبائلی لشکر کی توجہ لوٹ مار کی طرف مبذول رہی اور خواتین کی عصمت دری جیسے واقعات نے نفرتوں کے ایسے بیج بوئے جنہوں نے بعد ازاں خاردارجھاڑیوں کا روپ دھارلیا ۔

قبائلی لشکر کی ان کارستانیوں کا پردہ غیر جانبدار مورخین نے تو چاک کیا ہی ،پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت بھی اس حقیقت کو نہ جھٹلا سکی ۔چوہدری محمد علی جو بعد ازاں پاکستان کے وزیراعظم بنے ،انہوں نے اپنی کتاب The Emergence Of Pakistanمیں اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ قبائلی لشکر لوٹ مار کے چکر میں نہ پڑتا تو 26اکتوبر کو ہی کشمیر پر قبضہ کرلیا گیا ہوتا۔(V/O)
سوال یہ ہے کہ کیا’’آپریشن گلمرگ‘‘سے قبل گورنرجنرل قائداعظم محمد علی جناح کو اعتماد میں لیا گیا ؟یا پھر خودساختہ ’’طارق بن زیاد‘‘ اپنے آپ کو قائداعظم سے زیادہ محب وطن سمجھ رہے تھے ؟

چوہدری محمد علی بیان کرتے ہیں کہ انہیں 21اکتوبر کو وزیراعظم لیاقت علی خان نے قبائلی لشکر کشی کے منصوبے سے آگاہ کیا تو چوہدری محمد علی نے پوچھا ’’کیا قائداعظم کو اس پیشرفت سے آگاہ کیا گیا ہے؟‘‘لیاقت علی خان نے کہا ،نہیں ابھی تک قائد اعظم کو نہیں بتایا گیا۔تقسیم ہند سے متعلق 1969ء میں شائع ہونے والی H.V Hodsonکی کتاب The Great Divide کے مطابق شمال مغربی سرحدی صوبے کے انگریز گورنر GeorgeCunningham نے افواج پاکستان کے کمانڈر انچیف جنرل میسروی اور گورنر جنرل کو آگاہ کیا کہ قبائلی لشکر کشمیر پردھاوا بولنے کے لیئے روانہ ہو رہا ہے۔جب اس صورتحال پر قائد اعظم کو بریفنگ دینے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’مجھے اس بارے میں کچھ مت بتاؤ ،میرے ضمیر کو پاک صاف رہنے دو ‘‘۔

پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف جنرل فرینک والٹرمیسروی ایک جہاندیدہ اور تجربہ کار سپہ سالار تھے۔انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران ’’ویسٹرن ڈیزرٹ آپریشن‘‘ کے دوران برطانوی فوج کی قیادت کی اور جب ایک محاذ پر ان کی فوج کو جنرل رومیل کے ہاتھوں شکست ہوئی تو جنرل میسروی نے اپنے رینک اتار کر حلیہ تبدیل کیا اور دشمن کو چکمہ دیکر وہاں سے بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہوگئے

بعد ازاں انہوں نے برما میں رنگون کے محاذ پر بھی برطانوی فوج کی قیادت کی ۔مگر کشمیر کی غیر پیشہ ورانہ مہم جوئی سے انہیں بیحد مایوسی ہوئی ۔تاثر تو یہ ہے کہ جنرل میسروی نے تاجِ برطانیہ سے وفاداری نباہی اور کشمیر آزاد کروانے کی کوشش نہیں کی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان سے بیگانے ہی نہیں اپنے بھی ناخوش رہے ۔لارڈ ماؤنٹ بیٹن اورسر روب لاک ہارٹ کو جنرل میسروی سے یہ گلہ رہا کہ وہ انہیں قبائلی لشکر کی پیشقدمی سے آگاہ کردیتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔اس حوالے سے جنرل میسروی کا موقف یہ رہا کہ افواج پاکستان کے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے ایسی حساس معلومات کسی دوسرے ملک سے شیئر کرنا پرلے درجے کی پیشہ ورانہ بددیانتی ہوتی اور وہ اس طرح کی خیانت کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔

بہر حال کشمیر کی مہم جوئی کے دوران ہی بددل ہو کر جنرل میسروی رخصت پر چلے گئے ،نہ انہوں نے توسیع مانگی نہ کسی نے یہ تاویل پیش کی کہ دوران جنگ سپہ سالار تبدیل کرنا درست نہیں۔جنرل ڈگلس گریسی کو پہلے قائم مقام اور پھر مستقل کمانڈر انچیف مقرر کر دیا گیا ۔جنرل گریسی نے اس معاملے سے کیسے نمٹنے کی کوشش کی اور کیا یہ سچ ہے کہ جنرل گریسی نے قائد اعظم کی حکم عدولی کرتے ہوئے کشمیر میں فوج بھیجنے سے انکار کر دیا تھا ؟اس حوالے سے تہلکہ خیز انکشافات پر مشتمل اگلی قسط ملاحظہ کیجئے چند روز بعد

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*