outline

مجھ کو بھی شرمسار کر-مجیب الرحمان شامی

بھارت میں 17ویں لوک سبھا چننے کے لئے انتخابی عمل چند روز پیشتر شروع ہو چکا ہے۔ یہ مئی کے تیسرے ہفتے میں مکمل ہو گا اور چوتھے ہفتے میں ووٹوں کی گنتی کی جائے گی۔ 23 مئی کو اعلان ہو جائے گا کہ آئندہ پانچ سال کے لئے بھارتی وزیر اعظم کس کو بننا ہے۔ نریندر مودی ایک بار پھر تخت پر بیٹھیں گے یا راہول گاندھی، اپنے والد اور دادی کی گدی پر براجمان ہونے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ کئی ریاستی اسمبلیوں کا انتخاب بھی ہو رہا ہے، لیکن ان کی حیثیت اس وقت ثانوی ہے، ساری توجہ تخت دہلی پر مرکوز ہے، وزیر اعظم مودی کا انداز حکومت ایسا ہے کہ سب کچھ ان کے ہاتھ میں نظر آتا ہے۔ وہ پارلیمانی نظام کے روایتی وزیر اعظم نہیں ہیں۔ اپنے وزرا کے اختیارات بھی استعمال کر گزرتے ہیں اور کابینہ سے مشاورت کے بغیر اہم فیصلے بھی کر ڈالتے ہیں۔ پارلیمانی نظام میں وزیر اعظم کابینہ کا سربراہ ہوتا ہے، لیکن وزرا کے محکموں میں براہ راست مداخلت نہیں کرتا۔ کسی اختلاف کی صورت میں کابینہ کا فیصلہ حتمی سمجھا جاتا ہے۔ وزیر اعظم کو ”مساوی مرتبہ افراد میں پہلا‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ پارٹی سربراہ کے طور پر اس کا کردار بڑا اہم ہوتا ہے، کسی وزیر کے لئے اس کی حکم عدولی آسان نہیں ہوتی کہ وزیروں کے محکمے بدلنے کا اختیار اس کے پاس ہوتا ہے، کابینہ بھی اسی کی چنی ہوتی ہے، اس لئے بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کابینہ کی اکثریت وزیر اعظم کے سامنے کھڑی ہو جائے۔ اس کی قائدانہ حیثیت کو تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن وہ کسی بھی وزیر کے محکمے میں، اسے نظر انداز کر کے مداخلت نہیں کرتا۔ نہ ہی سیکرٹری صاحبان سے براہِ راست رابطے قائم رکھتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے یہ سب احتیاطیں اور نفاستیں ختم کر ڈالی ہیں۔ ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ”ڈکٹیٹر‘‘ سمجھتے ہیں۔ اس الزام میں مبالغہ ہو تو بھی اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ وہ ایک طاقتور اور اپنی رائے پر اصرار کرنے والے شخص ہیں، راستے میں کسی رکاوٹ کو آنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اکثر مبصرین کا خیال یہی تھا کہ وزیر اعظم اٹل بہاری باجپائی کی نیابت ایل کے ایڈوانی کے ہاتھ آئے گی‘ اور جب باجپائی منظر سے ہٹیں گے تو پارٹی قیادت ایڈوانی جی کے قدموں میں ہو گی، لیکن ایک چائے والے کے طور پر عملی زندگی کا آغاز کرنے والے صوبائی وزیر اعلیٰ نے آگے بڑھ کر ان کا راستہ روک لیا، اور ایک مقبول شخص کے طور پر پارٹی اور حکومت دونوں پر ان کا اپنا سکہ چلنے لگا۔
بھارتی جمہوریت کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ہر پانچ سال کے بعد انتخابات متواتر ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ 16 بار لوک سبھا کو منتخب کیا جا چکا اور اب یہی عمل سترہویں بار دہرایا جا رہا ہے۔ تحریک آزادی کے رہنمائوں نے آزادی کے فوراً بعد جو دستور بنایا، مسلسل وہی نافذ ہے۔ اس میں ترمیم کا جو طریقہ درج ہے، اسی کے مطابق ترامیم ہوتی ہیں، کسی کو اس کا مذاق اڑانے کی جرأت نہیں۔ نہ تو اسے منسوخ کیا جا سکا ہے، نہ کبھی معطل کیا گیا ہے، اور نہ ہی کسی ایک ادارے نے دوسرے اداروں کی ذمہ داریاں سنبھالنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ مسز اندرا گاندھی کے خلاف ایک انتخابی عذر داری میں فیصلہ آیا اور انہیں اپنی نشست سے محروم ہونا پڑا، تو اپنے اعصاب پر قابو نہ رکھ سکیں۔ انہوں نے ایمرجنسی نافذ کر دی، عدالتوں اور میڈیا کے کردار کو محدود کرنے کی کوشش کی، لیکن ان حرکتوں کو دوام نہ مل سکا۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا گزرنے والی وزیر اعظم کو بالآخر میدان انتخاب میں شکست کھانا پڑی، اور ان کے مقابل ایک ایسا متحدہ محاذ قائم ہوا، جس نے بالآخر ایک بڑی پارٹی کی شکل اختیار کر لی۔ موجودہ بی جے پی اس جماعت ہی کا ایک بگڑا ہوا روپ ہے۔ اگر اندرا گاندھی اپنے مخالف عناصر کو مشتعل کر کے یک جا ہونے پر مجبور نہ کرتیں تو شاید کانگریس کی جڑیں کاٹنا آسان نہ ہوتا۔

بھارتی انتخابات کی بہت بڑی خصوصیت مضبوط الیکشن کمیشن ہے۔ نتیجتاً یہاں دھاندلی کے الزامات اس طرح سننے کو نہیں ملتے جو پاکستانی انتخابات کا خاصہ ہیں۔ نہ ہی یہاں کوئی نگران حکومت قائم ہوتی ہے۔ پہلے سے قائم شدہ حکومت اپنا کام جاری رکھتی ہے، الیکشن کمیشن اپنا کام آپ پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے۔ بھارتی سیاستدانوں نے انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لئے ایک دوسرے سے بھرپور تعاون جاری رکھا ہے اور الزامات کی وہ صورت نہیں بننے دی، جو پاکستانی سیاست کا خاصہ ہے۔ ہر انتخاب کے نتائج کو تسلیم کیا گیا ہے اور کسی کے خلاف بھی کوئی تحریک چلانے کی ضرورت کسی کو لاحق نہیں ہوئی۔ کہا جا رہا ہے کہ مردم شماری کے مطابق ووٹ ڈالنے کے اہل افراد کی تعداد انتخابی فہرستوں میں مُنعکس نہیں ہو پا رہی۔ 12 کروڑ کے قریب بھارتی ایسے ہیں جو ووٹ دینے کے اہل تو قرار پا چکے ہیں، لیکن ان کے ووٹ درج نہیں ہوئے۔ مختلف مبصرین کے مطابق ان میں زیادہ تعداد مسلمانوں، دَلتوں اور دوسری اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے۔ انتخابی فہرستوں کے حوالے سے انتہا پسند ہندوئوں کی کارستانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، انتخابی اہل کاروں کی ملی بھگت سے کئی مقامات پر ووٹ غائب ہونے کا الزام بھی لگایا جا رہا ہے، لیکن اس حوالے سے بھی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

پاکستان کی طرح بھارت میں بھی پارلیمانی نظامِ حکومت قائم ہے، لیکن وہاں اس کا تسلسل نہیں ٹوٹا۔ پاکستان میں آزادی کے سات سال بعد ہماری دستور ساز اسمبلی نے دستوری مسودہ منظور کر لیا، اسے حتمی منظوری کے لئے پیش کیا ہی جانے والا تھا کہ گورنر جنرل نے اسمبلی تحلیل کر دی۔ الزام یہ تھا کہ سات سال گزرنے کے باوجود یہ دستور نہیں بنا سکی، گویا اپنا فرض ادا کرنے میں نا کام ہو گئی ہے۔ دوسری دستور ساز اسمبلی قائم ہوئی تو اس نے 1956ء میں دستور بنا دیا۔ مغربی اور مشرقی پاکستان کے تمام منتخب نمائندوں نے اسے تسلیم کیا، لیکن 1958ء میں مارشل لاء نے اس کا خاتمہ کر ڈالا۔ 1960ء میں چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے ایک نیا دستور عطا کر دیا۔ اس میں بالغ رائے دہی کا حق چھین لیا گیا۔ مشرقی اور مغربی‘ دو حصوں میں بٹے ہوئے ملک سے دو اعلیٰ ترین مناصب (صدر اور وزیر اعظم) چھین کر صدارتی نظام نافذ کر دیا گیا۔ صدر اور اسمبلیوں کا انتخاب بنیادی جمہوریتوں کے اسی ہزار ارکان کرتے تھے۔ پارلیمانی نظام میں ایک اعلیٰ منصب مغربی پاکستان سے ہوتا تو دوسرا بڑا مغربی پاکستان سے ہو کر اقتدار میں شراکت کا پیغام دیتا تھا، صدر کو اختیارات کا منبع بنا کر ایک صوبے کو اقتدار اعلیٰ میں شرکت کے نفسیاتی تاثر سے محروم کر دیا گیا۔ 1962ء کے دستور کو پاکستانی قوم کی اجتماعی ذہانت قبول نہ کر سکی، اس کے خلاف احتجاج جاری رہا، یہاں تک کہ ایک بڑی تحریک نے فیلڈ مارشل ایوب خان کو ایوان صدارت سے نکال باہر کیا۔ وہ جاتے جاتے اپنا آئین بھی ساتھ لے گئے۔ ان کے جانشین جنرل یحییٰ خان نے 1956ء کا دستور بحال کرنے کے بجائے نئے دستور کی تشکیل کے لئے دستور ساز اسمبلی کا انتخاب کرا ڈالا، نتیجتاً مشرقی اور مغربی پاکستان کے منتخب سیاسی لیڈر ٹکرائے۔ فوجی کارروائی اور بھارتی مداخلت نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا ڈالا۔

اس کے بعد ‘نئے پاکستان‘ میں جو کچھ ہوا، اس میں سے بہت کچھ ہماری تاریخ کا افسوسناک حصہ ہے۔ دو مارشل لاء نافذ ہوئے، تین بار آئین معطل ہوا۔ صدر کے اختیارات کبھی گھٹائے گئے اور کبھی بڑھائے گئے، اب سوشل میڈیا پر پھر ایک نئے دستور کے لئے مہم چلائی جا رہی ہے۔ ‘اسلامی صدارتی نظام‘ کو مسائل کا حل قرار دیا جا رہا ہے۔ گویا ایک بار پھر پرائمری سکول میں داخلے کے لئے بڑے میاں کی طبیعت مچل رہی ہے ؎

روز حساب جب میرا پیش ہو دفتر عمل
آپ بھی شرمسار ہو، مجھ کو بھی شرمسار کر

محترمہ عفت اقبال کا سفر آخرت

لاہور ہائی کورٹ کے مقبول و معروف مرحوم چیف جسٹس اور پاکستان کے پہلے وفاقی محتسب سردار اقبال کی اہلیہ محترمہ عفت اقبال اپنے شوہر کی وفات کے گیارہ سال بعد ان سے جا ملیں۔ مرحومہ تحریک پاکستان کی کارکن تھیں اور فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہیں۔ اپنے مرحوم شوہر کی طرح غریبوں اور بے نوائوں کے کام کرتی رہیں۔ انہیں الوداع کہنے کے لئے ایک جم غفیر ان کی رہائش گاہ پر امڈ آیا۔ دور دور تک تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ یہ بڑا اجتماع اعلان کر رہا تھا کہ خدمت کرنے والوں اور دکھوں کا مداوا کرنے والوں کو کبھی بھلایا نہیں جاتا۔ یہ مرحومہ کے ذی وقار شوہر کو بھی خراج عقیدت تھا کہ جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے غضب ناک اقتدار کے دوران انصاف کا پرچم سرنگوں نہیں ہونے دیا۔ انہیں ان کے منصب سے الگ کرنے کے لئے خصوصی آئینی ترمیم ہوئی جس کے مطابق چیف جسٹس کی مدت ملازمت چار سال مقرر کر دی گئی۔ اس کے بعد اسے ریٹائر ہو جانا تھا یا ایک جج کے طور پر اپنے فرائض بجا لانا تھے۔ سردار اقبال مرحوم نے ریٹائرمنٹ قبول کر لی۔ اس کے بعد کم و بیش تین عشرے سماجی خدمات انجام دیتے رہے اور پاکستان کے پہلے وفاقی محتسب بھی مقرر ہوئے

بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*