تازہ ترین
outline

اگر آج حفیظ جالندھری زندہ ہوتے۔۔۔۔

قادر الکلام شاعر ابوالاثر حفیظ جالندھری آج ہی کے دن یعنی 14 جنوری 1900 کو جالندھر میں پیدا ہوئےاردو ادب کی تاریخ میں ایسی مثالیں بہت کم ملتی ہیں کہ کسی پرائمری فیل شخص نے محض اپنے علمی و ادبی ذوق کی بناید پر یہ مرتبہ حاصل کیا ہو-حفیظ جالندھری کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا ،محنت میں عظمت پر یقین رکھنے والے اس شخص نے نے گھر کا چولہا جلانے کے لیئے ریلوے اسٹیشن پر قلی کے طور پر کام کیا ،آٹے کی بوریاں اٹھائیں ،ٹیلر ماسٹر کے طور پر کام کیا اور گاڑیوں میں پرفیوم بیچے ۔زندگی کی تلخیوں سے تنگ آکر جالندھر سے کشمیر کا رُخ کیا تاکہ کسی پہاڑ سے کود کر خود کشی کرلی جائے مگر جنت نظیر وادی کو دیکھ کر پھر سے جینےکی آرزو نے انگڑائی لی اور وہاں بیٹھ کر انہوں نے اپنی شہرہ آفاق نظم لکھی “ابھی تو میں جوان ہوں “ جسے  ملکہ پکھراج نے گا کر امر کر دیا
حفیظ جالندھری پاکستان کے قومی ترانے کے خالق ہیں لیکن جب خواب بکھرنے لگے اور پاکستان میں ظلم و جبر کی یاہ رات طویل ہونے لگی تو پاک سرزمین شاد باد کے ترانے لکھنے والا حفیظ جالندھری ایک ایسی نظم لکھنے پر مجبور ہو گیا جو آج کے حالات پر صادق آتی ہے
شیروں کو آزادی ہے آزادی کے پابند رہیں‌
جس کو چاہیں چیریں پھاڑیں کھائیں‌ پییں آنند رہیں‌

شاہیں کو آزادی ہے آزادی سے پرواز کرے
ننھی منی چڑیوں پر جب چاہے مشق ناز کرے

سانپوں کو آزادی ہے ہر بستے گھر میں بسنے کی
ان کے سر میں زہر بھی ہے اور عادت بھی ہے ڈسنے کی

پانی میں آزادی ہے گھڑیالوں اور نہنگوں کو
جیسے چاہیں پالیں پوسیں اپنی تند امنگوں کو

انسان نے بھی شوخی سیکھی وحشت کت ان رنگوں سے
شیروں ،سانپوں، شاہینوں‌،گھڑیالوں اور نہنگوں سے

انسان بھی کچھ شیر ہیں باقی بھڑوں‌کی آبادی ہے
بھیڑیں سب پابند ہیں لیکن شیروں کو آزادی ہے

شیر کے آگے بھیڑیں کیا اک من بھاتا کھاجا
باقی ساری دنیا پرجا شیر اکیلا راجا ہے

بھیڑیں‌ لا تعداد ‌ہیں لیکن سب کو جان کے لالے ہیں
ان کو یہ تعلیم ملی ہے بھڑیے طاقت والے ہیں

ماس بھی کھائیں‌ کھال بھی نوچیں ہر دم لا گو جانوں کے
بھیڑیں کاٹیں دورِ غلامی بل پر گلّہ بانوں کے

بھیڑ یوں‌ سےگویا قائم امن ہے اس آبادی کا
بھیڑیں جب تک شیر نہ بن لیں نام نہ لیں‌آزادی کا

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*