تازہ ترین
outline
baire rooma

دور نبوی کے 7 کنوؤں میں سے کون سا کنواں 14صدیوں سے جاری ہے؟

مدینہ منورہ کو باغوں اور کنوؤں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔

سیرت مطہرہ کے مطالعے کے دوران مدینہ منورہ میں دور نبوت میں کئی کنوؤں کا تذکرہ ملتا ہے۔ ان میں ایک کنواں خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے خرید کر فی سبیل اللہ وقف کردیا تھا۔

کتب سیر میں اس کنویں کا نام ’بئر رومہ‘ ملتا ہے۔ حضرت عثمان کا یہ صدقہ جاری 1400 سو سال سے پیاسوں کی پیاس بجھاتا چلا آ رہا ہے۔

’بئر رومہ‘ مسجد نبوی سے کچھ فاصلے پر کھجوروں کے ایک باغ کے درمیان واقع ہے۔

اس باغ میں مختلف انواع کی کھجوروں کے درخت ہیں۔ ان میں سب سے اہم عجوہ کھجور ہے۔ اس کے علاوہ وہاں پر مختلف پھول دار پودے بھی گائے جاتے ہیں۔

مدینہ منورہ کی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سائنسی محقق عبداللہ محمد کابر نے خبر رساں ادارے’ایس پی اے‘ کو بتایا کہ صحابی رسول سید نا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا وقف کردہ کنواں عہد نبوت کے سات کنوؤں میں سے ایک ہے۔

دیگر چھ کنوؤں کو اریس، غرس، بضاعہ، بصہ، حاء اور العھن کہاجاتا ہے۔

بئر عثمان آج مدینہ منورہ کے محکمہ اوقاف کے زیرانتظام ہے۔ یہ کنواں ان کی بے پایاں سخاوت کا منہ بولتا ثبوت اور صدقہ جاریہ ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ حکومت بئر عثمان سے متصل کالونی کوحضرت عثمان ہی کے نام سے موسوم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*