outline
putin russia

جب روسی صدر نے 110 مسافروں کا طیارہ مار گرانے کا حکم دیا

روس کے صدر ولادیمر پوتین نے 2014ء میں ایک مسافر طیارے کو مار گرانے کا حکم جاری کیا تھا کیوں کہ اس کے بارے میں رپورٹیں موسول ہوئی تھیں کہ طیارے میں بم موجود تھا۔

طیارہ روس کے شہر سُوشی میں سرمائی اولمپک کھیلوں کے افتتاح کو نشانہ بنائے جانے کا خطرہ تھا۔

یہ انکشاف روسی سوشل میڈیا پر پیش کی جانے والی ایک دستاویزی فلم میں سامنے آیا ہے۔

دو گھنٹے کے دورانیے پر مشتمل فلم کا نام “پوٹین” ہے۔

فلم میں ولادی میر پیوٹن نے روسی صحافی آندرے کونڈراشوف کو بتایا کہ انہیں 7 فروری 2014ء کو سُوشی میں سرمائی اولمپکس کے افتتاح سے کچھ دیر قبل متعلقہ ایونٹ کے ذمّے دار سکیورٹی اہل کاروں کی جانب سے فون کال موصول ہوئی تھی۔

پوتین کے مطابق “مجھے بتایا گیا کہ یوکرین سے استنبول جانے والے طیارے کو اغوا کر لیا گیا ہے اور اغوا کار طیارے کو سُوشی میں اتارنے کا مطالبہ کر رہے ہیں”۔

Image result for pegasus airline

فلم میں صحافی کونڈراشوف نے بتایا کہ ترکی کی فضائی کمپنی “پیگاسس ایئرلائنز” کے بوئنگ 737-800 طیارے کے کپتانوں نے بتایا تھا کہ ایک مسافر کے پاس بم ہے اور طیارہ اپنا رُخ سُوشی شہر کی سمت تبدیل کرنے پر مجبور ہے۔

کونڈراشوف کے مطابق طیارے میں 110 مسافر سوار تھے جب کہ سرمائی اولمپک کی افتتاحی تقریب دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم میں 40 ہزار سے زیادہ تماشائی موجود تھے۔

Image result for sochi olympics

پیو ٹن نے بتایا کہ سکیورٹی عہدے داروں نے ان کا آگاہ کیا کہ اس صورت حال میں ہنگامی پلان طیارے کو مار گرانے کا متقاضی ہے۔

روسی صدر کے مطابق انہوں نے مذکورہ عہدے داروں کو منصوبے کے مطابق اقدامات کا حکم دیا اور خود تھوڑی دیر بعد بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے عہدے داران کے ساتھ سرمائی اولمپک کے مقام پر پہنچ گئے۔

پیوٹن نے بتایا کہ چند منٹوں کے بعد ان کو فون کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ سابقہ اطلاع جھوٹی نکلی اور مذکورہ مسافر نشے میں تھا۔ اب طیارہ ترکی کی جانب ہی رواں دواں ہے۔

کریملن ہاؤس کے ترجمان دمتری بسیکوف نے دستاویزی فلم میں سامنے آنے والے بیانات کی تصدیق کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*