تازہ ترین
outline
Daniyal-Aziz-Talk-New-Isb-05-07-1-640x398

سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف بولنا دانیال عزیز کو مہنگا پڑ گیا

سپریم کورٹ نے وفاقی وزیر برائے نجکاری اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما دانیال عزیز پر توہین عدالت ازخود نوٹس کیس میں فرد جرم عائد کردی۔

سپریم کورٹ میں دانیال عزیز کے خلاف خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی جس میں جسٹس مشیر عالم نے فرد جرم پڑھ کر سنائی۔

عدالت عظمیٰ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ دانیال عزیز عدالت اور ججز کو اسکینڈلائز کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔

فرد جرم کے مطابق دانیال عزیز نے عدالتی معاملات میں مداخلت کی، آئین کے آرٹیکل 204اور توہین عدالت آرڈیننس 2003 کے تحت دانیال عزیز پر فرد جرم عائد کی جاتی ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ دانیال عزیز نے انصاف کی راہ روکنے کی کوشش کی۔ انہوں نے 8 ستمبر کو پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ نیب ریفرنس سپریم کورٹ کے نگران جج نے نیب لاہور کو طلب کر کے ریفرنس کے لیے تیار کیا جبکہ 15 دسمبر کو دانیال عزیز نے کہا تھا کہ جہانگیر ترین کو سزا دے کر عمران خان کو بچانا مقصود تھا۔

فرد جرم میں مزید بتایا گیا کہ دانیال عزیز کی جانب سے کہا گیا کہ یہ سب سکرپٹ کے مطابق کیا گیا۔

اس کے علاوہ 31 دسمبر کو دانیال عزیز نے کہا تھا کہ جسٹس اعجاز الاحسن کو بتانا ہوگا کہ کیپیٹل ایف زید ای کی بات ان تک کہا سے پہنچی۔

عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی کو ایف زیڈ ای سے متعلق تحقیقات کا کہا گیا تھا۔

بعد ازاں دانیال عزیز کے وکیل نے صحت جرم سے انکار کردیا جس کے بعد عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت پر استغاثہ کے گواہ اور شہادتیں طلب کرلیں۔

سپریم کورٹ نے دانیال عزیز کیس کی سماعت 26 مارچ تک کے لیے ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ نے 6 مارچ 2018 کو توہین عدالت کیس میں دانیال عزیز کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا بادی النظر میں دانیال عزیز کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ بنتا ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے وفاقی وزیر دانیال عزیز کی جانب سے کی گئی عدلیہ مخالف تقریر پر 2 فروری کو از خود نوٹس لیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*