تازہ ترین
outline
bank manager in heals

خواتین کی طرح 6 انچ ہیل والے جوتے پہن کر دفتر جانےوالا بنک مینجر

اونچی ہیل والے جوتے خواتین پہنیں تو جچتی ہے لیکن اگر کوئی مرد پہنے تو کافی عجیب لگتا ہے۔ لیکن آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ ایک بڑے بنک کا مرد مینجر روزانہ 6 انچ اونچی ہیل والے سینڈل پہن کر بنک جاتا ہے۔

Image result for australian male bank manager who wears high heels at office
آسٹریلیا کے ایک بڑے بینک کے پروجیکٹ مینیجر روزانہ اونچی ہیل والی سینڈل پہن کر دفتر جاتے ہیں کیونکہ اس طرح وہ خود کو بہت پر اعتماد محسوس کرتے ہیں۔

ایشلے میکس ویل سڈنی کے ایک بینک میں کام کرتے ہیں اور روزانہ وہ 6 انچ اونچی ہیل پہن کر اپنے دفتر جاتے ہیں۔

سڈنی میں بینک کے پروجیکٹ مینیجر ایشلے میکس ویل خواتین کے جوتے پہن کر دفتر جاتے ہیں۔ فوٹو: آسٹریلیا نیوز

انہیں ایک عرصے سے اونچی ہیل پہننے والی خواتین بھی پسند ہیں کیونکہ اس طرح خواتین خود کو بااعتماد محسوس کرتی ہیں۔

ان کے پاس 6 انچ ہیل والی سینڈلوں کے 9 جوڑے ہیں۔

جب بھی وہ نئے کلائنٹس سے ملنے جاتے ہیں تو ٹائی سوٹ کے ساتھ ہیل والا بہترین جوڑا پہن کر جاتے ہیں اور کامیاب ٹھہرتے ہیں۔

انہیں اونچی ہیل پہنے کا آئیڈیا کہاں سے ملا؟ ایشلے ایک روز فرانسیسی مرد رقاص کی ویڈیو دیکھ رہے تھے جس میں تمام ڈانسروں نے اونچی ہیل پہن رکھی تھی اور وہ بہت اعتماد سے اپنے فن کا مظاہرہ کررہے تھے۔

اسی طرح ان کے بینک میں ایک بہترین پراعتماد خاتون افسر نے بھی ایشلے کو بتایا کہ اونچی ہیل ان کی خود اعتمادی ہے۔ اس کے بعد خاتون نے انہیں ہیل والے جوتے پہننے کا مشورہ دیا۔


اس کے بعد ایشلے نے بتایا کہ انہوں نے بینک میں موجود خاتون کے مشورے پر ہی ان کی بتائی ہوئی اونچی ہیل پہنی اور جیسے ہی وہ آفس کے برآمدے میں ان جوتوں کے ساتھ پہنچے وہ خود کو بہتر محسوس کرنے لگے۔

اب وہ خاص میٹنگوں میں اسے پہن کر جاتے ہیں اور کامیاب لوٹتے ہیں۔

ایشلے نے کہا کہ پہلے انہیں ہیل پہن کر چلنے میں دقت ہوئی لیکن مسلسل محنت اور مشق سے وہ اس قابل ہوگئے کہ ہیل کے ساتھ بااعتماد انداز میں چلنے اور دوڑنے لگے،

تاہم انہوں نے کہا کہ بعض لوگ اب بھی انہیں ہیل والے جوتوں پر مذاق کا نشانہ بناتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہم جنس پرست ہیں اور انہیں اپنی برادری کی جانب سے تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

البتہ خواتین ایشلے کے اس اقدام سے خوش ہیں اور وہ اسے سراہ رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*