تازہ ترین
outline

میں صدقے یا رسول اللہ-عبداللہ لیاقت

اللہ تعالیٰ نے جس عظیم ہستی کے صدقے پوری کائنات بنائی ہے اسکی توہین برداشت کرنے کا درس دیا جا رہا ہے۔ دنیا اس کو شدت پسند اور دیوانہ کہتی ہے۔ تمام غیر مسلم ممالک اس کے پیچھے ہاتھ دھو کے پڑے ہیں ۔ پاکستان، جو کہ اسلام کے نام پہ حاصل کیا گیا ،اسکے عوام دو حصوں میں بٹ چکے ہیں۔ ایک طبقہ وہ ہے جو اس مسئلے کو مسئلہ نہیں سمجھتا اور دوسرا اِس کی شدت میں بہت آگے تک جا پہنچا ہے ۔ ایک تیسرا طبقہ قادیانی بھی ہے جن کے نزدیک قرآن میں توہین رسالت کی سزا کا کہیں ذکر نہیں ہے ان کے مطابق جتنی توہین رسالت ہو جائے آپ کر سکتے ہیں آپ سے کوئی پوچھے بھی نہ (اللہ ان کو غرق کرے )۔ آسیہ بی بی (توہین رسالت کی مرتکب )کا مسئلہ کوئی عام مسئلہ نہیں ہے۔سات سال پہلے سابق گورنرپنجاب سلمان تاثیر کو ایک عاشقِ رسول نےاِس لئے گولیوں سے بھون دیاکہ اُس نے گستاخِ رسول کا ساتھ دیا تھا۔ اس امر کے بعد غازی ممتازقادری شہید کو پھانسی دے دی گئی، جسے انہوں نے خوش نصیبی سمجھ کر قبول کیا جس طرح غازی علم دین شہید نے قبول کیا تھا ۔ شہباز بھٹی(اقلیتی مخصوص نشست ایم این اے ) جن کا تعلق مسلم لیگ ن سے تھا ان کو بھی گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ۔ آسیہ بی بی کے کیس کو اگر میں عام آدمی کے طور پر دیکھوں تو اس میں کوئی شک نظر نہیں آتا کہ اُسے انٹر نیشنل پریشر پر چھوڑا گیا ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی ماننا پڑے گا کہ مسلمانوں کو غلط اور کمزورثابت کرنے کے لئے اس طرح کی حرکتیں پہلے بھی کی جاتی رہی ہیں اور اب بھی کی جا رہی ہیں ۔آسیہ بی بی کیس میں اگر میں تاریخوں کا ذکر کروں تو حیران کن طور پر اسلام کو بہت بری طرح برا بھلا کہا گیا ہے 29 فروری کو غازی ممتاز قادری کو پھانسی دینا اس بات کی دلیل ہے کہ چار سال تک برسی نہ منائی جا سکے مگر اللہ اور رسول سے محبت کرنے والے نہ تاریخ دیکھتے ہیں نہ وقت ۔آج بھی ممتاز قادری کےمزار پر لوگ جوک در جوک آتے ہیں ۔ محافل کا انعقاد کیا جاتا ہے، قران خوانی جاری رہتی ہے ۔آسیہ بی بی کے کیس کا فیصلہ 31 اکتوبر کو سنایاگیا جس دن غازی علم دین شہید کی برسی تھی اور با قائدہ طور پر ایسا دن منتخب کیا گیا جس سے مسلمانوں کو منتشر کیا جائے اور ہمارے وزیر اعظم نے کتنی آسانی سے کہہ دیا ایک گرو ہ نے نظام زندگی تباہ کر دیا اب رسول کی مدحت کی ذمہ داری ایک گروہ کو سپرد کر دی اور خود اس سے آزاد ہو گئے۔ آپ قوم کو بتاتے کہ میں نے اپنی حکومت کو بچانے اورپیسہ باہر سے منگوانے کے لئے یہ اقدام کیا ہے۔آئی ایم ایف کا قرضہ آسیہ کو چھوڑے بغیر نہیں ملنا تھا ۔اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ درست مان لیا جائے تو ہائی کورٹ کے ججوں کو سزا دینی چاہیے ۔ جس دن آسیہ بی بی کو رہا کیا گیا اس دن ہندو دیوالی منا رہے تھے ایک دن آگے نہ پیچھے چُن چُن کے ایسے دن رکھے گئے جس سے عاشق رسول ﷺ بغاوت کرے ہمارے آرمی چیف تو اتنا ڈر گئے تھے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کا نکاح بھی ثاقب رضا مصطفائی صاحب سے پڑھوایا تا کہ کوئی ابہام نہ رہ جائے ان کے سنی نہ ہونے کا ۔ میری گزارش ہے حکومتی عہدہ داروں سے اس مسئلے کو مت چھیڑیں اور بھی بہت سے مسئلے ہیں جن کا حل بہت ضروری ہے ان پر توجہ دیں اور عاشقان رسول کے صبر کا امتحان مت لیں ۔
حفیظ تائبؒ کا ایک شعر
شوق و نیاز و عجز کے سانچے میں ڈھل کے آ
یہ کوچہِ حبیب ہے، پلکوں سے چل کے آ

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*