تازہ ترین
outline

عورت مارچ، اپریل، مئی ،جون-یاسر پیرزادہ

چلیں پہلے یہ طے کر لیتے ہیں کہ عورتوں کے خلاف آخر چارج شیٹ کیا ہے۔ پہلا الزام یہ ہے کہ اُنہوں نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر عورت مارچ کیا، جس میں چند عورتوں نے قابل اعتراض پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور اُن پر نہایت بیہودہ نعرے درج تھے۔ دوسرا الزام یہ ہے کہ عورت کی آزادی کے نام پر یہ نام نہاد لبرل خواتین مغرب کے ایجنڈے کو آگے بڑھا کر ملک میں فحاشی و عریانی کو فروغ دینا چاہتی ہیں۔ تیسرا الزام یہ ہو سکتا ہے کہ جو عورتیں یہ مارچ وغیرہ کرتی ہیں اُن کا مقصد ملک کی مجبور اور پسی ہوئی عورتوں کے حقوق کی آواز بلند کرنا نہیں ہوتا بلکہ اپنی این جی او کے لیے پیسے بٹورنا ہوتا ہے۔ بہت کوشش کے باوجود میں مزید کوئی الزام تلاش نہیں کر سکا، سو جن حضرات کی تسلی نہیں ہوئی وہ اِنہی الزامات کو سو سے ضرب دے کر دل بہلا لیں۔ میں نے بھی عورت مارچ کے پوسٹرز دیکھے ہیں، جن نعروں پر سب سے زیادہ اعتراض ہو رہا ہے اُن میں سے کچھ جعلی ہیں اور فوٹو شاپ کر کے پھیلائے گئے ہیں، سو مغرب کے ایجنڈے پر تو بعد میں بات ہو گی پہلے اِن جعلی نعرے پھیلانے والوں کے ایجنڈے کو کیوں نہ بے نقاب کیا جائے؟ مگر نہیں، ہم مرد ہیں نا، تو ہم ہی طے کریں گے کہ کن نعروں کے پیچھے کسی کی سازش ہے اور کن نعروں کے پیچھے مغرب کا ایجنڈا! مسئلہ نعروں کا نہیں، مسئلہ مردوں کے معاشرے کے مائنڈ سیٹ کا ہے، ہم یہ بات سمجھ ہی نہیں پائے کہ ان نعروں کے ذریعے عورتیں کیا احتجاج کر رہی ہیں، ہم نے ایک پلے کارڈ پر دیکھا کہ اپنا موزہ خود تلاش کرو تو جواب میں لکھا کہ اپنا چارجر خود تلاش کرو، کسی عورت نے نعرہ لگایا کہ دوپٹہ اپنی آنکھوں پر باندھو تو ہم نے فقرہ کسا کہ میری نظر میری مرضی۔ ہم نے یہ جاننے کی زحمت ہی نہیں کی کہ اس معاشر ے میں عورتوں کے ساتھ ہم کیا برتاؤ کرتے ہیں، ان کے ساتھ کس قسم کا ظلم ہوتا ہے، کون کون سی رکاوٹیں ہم نے اُن کی راہ میں کھڑی کر رکھی ہیں جنہیں پار کرکے وہ بمشکل سوسائٹی میں اس قابل ہوتی ہیں کہ باوقار انداز میں زندگی گزار سکیں۔ مگر ہم نے یہ تمام باتیں بھلا کر دو چار قابل اعتراض نعروں کو پکڑ کر لتاڑنا شروع کر دیا جن کا دفاع نہیں کیا جا سکتا اور خود اِن خواتین نے ایسے نعروں سے اپنی تحریک کو نقصان پہنچایا۔ ان عورتوں کو یہ بات ذہن میں رکھنا چاہئے تھی کہ انہیں معاشرے کے متوسط اور قدامت پسند طبقات کو اپنا ہمنوا بنانا تھا، اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ اِس طبقے کی زبان میں ہی بات کرتیں، بس اتنا ہی قصور ہے ان عورتوں کا۔ اس کی مثال ایسے ہے کہ ایک شخص کا جوان بیٹا قتل ہو جائے اور وہ تھانے میں بکھرے بال اور کھلے گریبان کے ساتھ جا کر تھانیدار کی کرسی کو لات مار کر کہے کہ ’’پرچہ کٹ اوئے تھانیدارا‘‘ تو ہم اس شخص کے بیٹے کے قتل کی بات بھول کر اُس کی بدتمیزی پر اسے لتاڑنا شروع کر دیں۔ یہی سلوک ہم عورتوں کے ساتھ کر رہے ہیں، ہمیں اُن کا طرز تخاطب پسند نہیں آیا (اور اِس کے پیچھے بھی ہمارا مردانہ مائنڈ سیٹ ہے کہ ان کی جرأت کیسے ہوئی یوں بات کرنے کی) اور ہم عورتوں کے ظلم کی بات چھوڑ کر انہی کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ گئے۔ حالانکہ اسی عورت مارچ میں ایک پوسٹر یہ بھی تھا کہ ’’جو سلوک تم اپنی عورتوں کے ساتھ کرتے ہو، اس سے خدا کے رسول ﷺکبھی خوش نہیں ہوں گے‘‘ مگر ہماری آنکھوں پر چونکہ پٹی بندھی ہے اس لیے نہیں دیکھا۔ رہا الزام مغربی ایجنڈے، فحاشی اور این جی او کا تو یہ بات ہی سمجھ سے بالاتر ہے کہ جس ملک میں حج کے بعد مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہو، جہاں لاکھوں لوگ ہر سال حج اور عمرہ کرنے جاتے ہیں، جہاں چپے چپے پر مساجد آباد ہوں، جہاں جگہ جگہ تبلیغ کے مراکز کھلے ہوں، جہاں عورتیں لاکھوں کی تعداد میں درس قران سننے جاتی ہوں، جہاں حجاب اوڑھنے والی لڑکیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہو وہاں درجن بھر عورتیں ملک میں فحاشی کیسے پھیلا سکتی ہیں! لاہور کے عورت مارچ کی ایک ویڈیو میں نے دیکھی جس میں عورتیں گانے کی تھاپ پر جھوم رہی تھیں (ناچنا اسے نہیں کہا جا سکتا)، اس کلپ میں اٹھارہ سے اسّی سال کی عمر تک کی عورتیں تھیں اور کوئی ایسی نہیں تھی جس کا گلا پورا بند نہ ہو اور اس میں دوپٹہ نہ ہو۔ فحاشی پتا نہیں کیسے پھیلے گی!

ہم نے عورت مارچ پر غیظ و غضب کا اظہار تو کر لیا مگر ایک منٹ کے لیے یہ نہیں سوچا کہ ہم عورتوں کے ساتھ سلوک کیا کرتے ہیں۔ ایک دفعہ میں جی ٹی روڈ پر سفر کے دوران کہیں رکا تو دیکھا کہ دو مرد ایک کیری ڈبے میں سامان لاد رہے ہیں، ان کے ساتھ دو عورتیں شٹل کاک برقع میں کھڑی تھیں جو غالباً ان کی بیوی یا بیٹی تھی، سامان لادنے کے بعد جو جگہ پیچھے بچی وہاں اُن مردوں نے دونوں عورتوں کو بھی ٹھونس دیا جیسے وہ بھی سامان ہی ہوں اور پھر اطمینان سے سگریٹ پینے کے بعد مرد آگے کی آرام دہ سیٹ پر بیٹھے اور گاڑی سٹارٹ کر کے چل دیے۔ جس معاشرے میں عورتوں کی اوقات سامان کی ایک گٹھڑی سے زیادہ نہ ہو وہاں اگر کوئی پوسٹر پر لکھ کر کہے کہ میری مرضی تو آگ تو لگے گی۔ یہ تو پسی ہوئی عورتوں کا واقعہ تھا مگراُن خواتین کا حال بھی زیادہ مختلف نہیں جو دفاتر میں کام کرتی ہیں، کیا سلوک ہوتا ہے اُن کے ساتھ، مرد افسران آپس میں اُن کے بارے میں کیا گفتگو کرتے ہیں، سب جانتے ہیں۔ چپے چپے پر انہیں آگ کے دریا کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ہم ہیں کہ انہیں جگتیں لگا کر حظ اٹھا رہے ہیں۔ ایک ویڈیو کسی نے شیئر کی جس کا کیپشن تھا کہ اس شخص نے تین منٹ میں feminismکا مقدمہ الٹا دیا، یہ ایک شخص کا انٹرویو تھا جس میں وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ مرد عورت سے زیادہ مظلوم ہے مگر اس چکر میں وہ یہ متضاد بات بھی کر گیا کہ عورتیں کالج یونیورسٹی میں زیادہ نمبر لیتی ہیں، زیادہ قابل ہوتی ہیں مگر اچھی ملازمتیں مردوں کے حصے میں آتی ہیں، تو بندہ اس سے پوچھے کہ مرد مظلوم ہوا کہ عورت! یہی حال ہمارا ہے، سارا سال ہم اسکول کالجوں کے نتیجے دیکھتے ہیں کہ لڑکیاں لڑکوں سے بہتر نمبر لیتی ہیں مگر یہ نہیں دیکھتے کہ قابض ہر جگہ مرد ہیں، پھر لڑکیاں کوئی پوسٹر اٹھا لیں تو ہم جوتی اٹھا کر مارنے کو دوڑتے ہیں کیونکہ آخر ہم مرد ہیں! اِس سلوک کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ہماری معیشت ترقی نہیں کر رہی، بھارت بھی ہمارے جیسا ملک ہے، اگر ہم وہاں عورتوں کا Labour Participation Rateنکالیں اور وہی شرح اپنے ملک میں حاصل کر لیں تو ہماری معیشت میں دو کروڑ افراد کا اضافہ ہو جائے، مگر ہم یہ نہیں ہونے دیں گے کیونکہ ہمیں تین فحش نعروں پر اعتراض ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم نے گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ میں 149ممالک کا سروے کیا تو پاکستان کا نمبر 148آیا، تو چلیں عورتوں کو الزام دیں کہ وہ ’’بیہودہ‘‘ مارچ کیوں کرتی ہیں۔ 2018میں پاکستان کی 506کمپنیوں کا سروے کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ان میں سے صرف 41چیئر پرسن، 10سی ای او اور 11سی ایف او عورتیں ہیں جبکہ 3,942ڈائریکٹرز میں فقط 11فیصد عورتیں ہیں۔ آئیں پھر عورتوں کو ہی گالی دیں، انہی کا قصور ہو گا! سو، عورتیں اگر واقعی اپنے حقوق چاہتی ہیں تو سال کے بارہ مہینے انہیں مارچ کرنا ہو گا، عورت مارچ، اپریل، مئی، جون۔ ورنہ ہم مرد یونہی پنجے جھاڑ کر پیچھے پڑے رہیں گے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*