تازہ ترین
outline

کچھ ادارے ابھی بھی پولیٹیکل انجینئرنگ میں مصروف ہیں،بلاول بھٹو زرداری

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی احتساب بیورو پر شدید نوعیت کے الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض ادارے اب بھی پولیٹیکل انجینئرنگ میں ملوث ہیں

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی سے اظہار یکجہتی کے لیئے سندھ اسمبلی پینچے اور بعد ازاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی کی شمولیت غیر جمہوری عمل تھا اور یہ آئی ایس آئی اور عدلیہ کو سیاست زدہ کرنے کی کوشش ہے

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ نیب پولیٹکل انجنیئرنگ کا ادارہ ہے، فرشتے کو بھی وہاں چیئرمین بنا دیا جائے تو وہ بھی پولیٹکل انجنیئرنگ ہی کرے گا۔انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پولیٹیکل انجینئرنگ کے لیے مجھے بے نامی اکاؤنٹس کیس میں گھسیٹا جا رہا ہے

انہوں نے کہا کہ توازن لانا کوئی عدالت کا قانون نہیں ہے،آپ عدالت میں نہیں کہہ سکتے کہ میں نے توازن لانا ہے میں نے جے آئی ٹی بنانی ہے، اس سے بہت بُرا پیغام جاتا ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی کو بٹھانا ایک غیرجمہوری عمل ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ غلط فیصلہ تھا لیکن یہ ہوگیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ اور مجھے آرٹیکل 10 اے کے مطابق شفاف اور آزاد ٹرائل کا حق حاصل ہے، اس حق کو سلب کیا گیا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ 6 ماہ تک ہماری کردار کشی کی گئی، مختلف فورمز کے سامنے ہمارے بارے میں بات کی گئی لیکن ایک بار بھی کسی عدالت نے مجھے یا وزیراعلیٰ کو پیش ہونے کے لیے کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کیس سندھ کا، ملزم سندھ کا، اکاؤنٹس سندھ کے مگر کیس پنڈی میں چلے گا، جعلی اکاؤنٹس کیس کی منتقلی حدود کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*