تازہ ترین
outline

بحریہ ٹائون نے پیشکش بڑھا کر 450 ارب روپے کردی،سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت میں ہورہی ڈیل میں پیشرفت ہوئی ہے اور ریئل اسٹیٹ کے سب سے بڑے نجی ادارے بحریہ ٹائون نے تمام نیب مقدمات اور کارروائی ختم کرنے کے عوض عدالتی پیشکش کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 440 ارب کے بجائے 450 ارب روپے دینے کو تیار ہیں اور ادائیگی کے دورانیے میں بھی کمی کی گئی ہےجس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے

سپریم کورٹ کے جج جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں بحریہ ٹائون عملدرآمد کیس کی سماعت شروع ہوئی تو بحریہ ٹائون کے وکیل نے بتایا کہ ان کے کلائنٹ بحریہ ٹائون کراچی کے لیئے 440 ارب روپے کی پیشکش بڑھا کر 450ارب روپے کرنے کو تیار ہیں

سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی تحریری پیش کش میں بحریہ ٹاون نے کہا ہے کہ وہ تینوں شہروں کے منصوبوں کی اراضی کی مد میں 485 ارب روپے ادا کرنے کے لیے تیار ہے

تفصیل کے مطابق کراچی سپر ہائی وے منصوبہ کیلئے 440 ارب روپے ، راولپنڈی میں تخت پڑی اراضی کے عوض 22 ارب روپے جبکہ بحریہ ٹاؤن مری منصوبہ کیلئے 23 ارب روپے کی پیشکش کی گئی ہے

بحریہ ٹائون کی پیشکش میں کہا گیا ہے کہ پانچ سال تک 2.25ارب روہے ماہانہ ادا کیے جائیں گے جس کے بعد بقیہ رقم کی ادائیگی 3 سال میں کی جائے گی

بحریہ ٹائون کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اس رقم کی ادائیگی کے عوض نہ صرف نیب کے تمام مقدمات ختم کیئے جائیں بلکہ زمین منتقلی کی فیس اور ٹیکس استثنیٰ بھی دیا جائے

ایک موقع پر جب ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے وکیل نے کہا کہ سندھ کی حکومتی شخصیات اور افسران کے بھی بحریہ سے متعلق مقدمات ختم کیے جائیں جس پر جسٹس عظمت شعید شیخ نے کہا کہ ڈیل بحریہ سے ہو رہی ہے، سندھ حکومت سے نہیں

بحریہ ٹائون کی اس پیشکش کے بعد سپریم کورٹ کے بنچ نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے بتایا کہ فیصلہ 21 مارچ کو سنایا جائے گا

واضح رہے کہ سپریم کورٹ محولا بالا منصوبوں کا غیر قانونی قرار دے چکی ہے اور جب عملدرآمد بنچ اس فیصلے پر عملدرآمد کا جائزہ لے رہا تھا تو اس وقت کے چیف جسٹس ،جسٹس ثاقب نثار نے کھلی عدالت میں ملک ریاض کو پیشکش کی تھی کہ ایک ہزار ارب روپے دیدیں تو سب مقدمات ختم ہو جائیں گے بعدازاں عدالت نے رقم کم کرتے ہوئے پانچ سو ارب روپے دینے کا مطالبہ کیا جس پر ملک ریاض نے معذرت کرلی تھی

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*