outline
nawaz sharif

تمام چابی والے کھلونے ایک ہی مقام پر آ کر رُک گئے ،نوازشریف

سابق وزیر اعظم نوازشریف کا پیمانہ صبر بتدریج لبریز ہوتا جا رہا ہے اور ان کے لب و لہجے میں سختی آتی جا رہی ہے جس کا اظہار مسلم لیگ (ن) کے جنرل ورکرز کنونشن میں بھی ہوا جب انہوں نے سینیٹ انتخابات میں اپنے سیاسی مخالفین کو چابی والے کھلونے قرار دے ڈالا اور کہا کہ یہ سب ایک ہی جگہ آکر رُک گئے

مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کل ملک میں ایک تماشہ لگا، بڑے اصولوں کی بات کرتے ہیں، کل دیکھا کس طرح سے ایک ہی بارگاہ میں سب جاکر جھک گئے، بنی گالہ، بلاول ہاؤس والے اور کے پی کے سے چلنے والے قافلے بھی وہیں جاکر جھک گئے، ایک ہی جگہ پر جاکر سجدہ کردیا، کس کے آگے جاکر جھکے ہو، اس کی کیا خدمات ہیں پاکستان کے لیے، کتنا قد کاٹھ ہے، وہ کیا شخص ہے کسی کو کوئی پتا نہیں، یہ سب چابی والے کھلونے ہیں، کیا کہوگے اس جگہ پر کیوں جھکے، کیسے سجدہ ریز ہوگئے

اس موقع پر نوازشریف نے یہ شعر بھی کہا

جو میں سربسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

میاں نوازشریف نے کہا کہ ہم نے قلیل مدت میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا، آج دل چاہتا ہے کہ کہیں منصوبوں کا افتتاح کرنے جاؤ، اس میں میرا بھی خون پسینہ گرا ہوا ہے، یقین ہے شاہد خاقان عباسی اور شہبازشریف بھی مجھے اس وقت مجھے یاد کرتے ہوں گے

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جو میرے ساتھ ہوا اس کے بعد کسی چیز کا افتتاح کرنے کا دل نہیں چاہتا، انسان کا دل ٹوٹ جاتا ہے لیکن میرا دل اتنا بھی نہیں ٹوٹا کہ پیچھے ہٹ جاؤں، جو مشن چن لیا ہے اس کی تکمیل تک کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گا، یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح سے ہمارے ستر سال گزرے، اگلے ستر سال ویسے نہیں گزرنے چاہئیں، اگلے ستر سال بہتر بنانے کے لیے آپ کے قدم سے قدم ملا کر چلوں گا، آپ کو مجبور کروں گا کہ میرے ساتھ چلیں۔

میاں نوازشریف کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ کا منشور اب صرف ان چار الفاظ پر ہوگا کہ ’ووٹ کو عزت دو‘، کوئی نعرہ لگائے نہ لگائے لاکھوں کے مجمہ یہی نعرہ لگارہا ہے، اس کا مطلب ہے عوام کے حق حکمرانی کو اور انہیں عزت دو، یہ نعرہ اپنی ذات کے لیے نہیں لگاتا، میری ذات کی کوئی حیثیت نہیں، اگر اب کسی کی حیثیت ہے تو قوم ملک اور آنے والی نسلوں کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*