تازہ ترین
outline
mehdi

جوڈیشل اکاؤنٹیبلٹی بیورو۔ غلام مہدی

کرپشن کرپشن کرپشن ۔ احتساب احتساب احتساب۔پورے ملک میں شور مچا ہے۔کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ طاقت کے تمام مراکز عملی طور پر یا زبانی کلامی بلند آہنگ ہیں کہ سیاستدان ملک کو لوٹ کر کھا گئے،ملک تباہ ہو گیا۔ہر کوئی مقبول بیانئے کو آمنا و صدقنا کہہ رہا ہے۔کوئی بھی عقل کی بات سننے کو تیار نہیں۔بد قسمتی سے ہمارے ہاں شفاف اور بلا امتیاز ادارہ جاتی احتساب کی روایت پروان نہیں چڑھ سکی جس کی وجہ سے ہر قومی ادارہ اپنی آئینی حدود سے تجاوز کرتا نظر آ رہا ہے۔اس کے باوجود کہ حقیقی معنوں میں احتساب کا مضبوط نظام موجود نہیں مگر تمام اداروں میں سے مقننہ واحد ادارہ ہے جس کے وابستگان کو ہمیشہ ترنوالہ سمجھ کر احتساب کے شکنجے میں جکڑنے کی بھرپور کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔باقی تمام ادارے بشمول میڈیا کا احتساب خواب ہی رہا ہے۔عدلیہ اور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ نے تو کبھی کسی کو بھی اپنے بہی کھاتوں کی طرف دیکھنے کی اجازت نہیں دی۔ان اداروں کے احتساب کی جب بھی بات کی جائے تودونوں کی طرف سے لگا بندھا جواب ملتا ہے کہ ہمارے ہاں اپنا اندرونی احتسابی نظام موجود ہے۔حیرت کی بات ہے کہ ان اداروں کے احتساب سے متعلق ایسی تفصیلات کبھی بھی دستیاب نہیں ہو سکی ہیں جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ وابستگان پارلیمنٹ کی طرح ’عدل اور دفاع‘ والے بھی احتساب سے بالا تر نہیں ہیں۔دفاعی اداروں کے بہی کھاتوں کے گرد موجود حصار اتنا سخت ہے کہ وہاں دیکھنا خطرے سے خالی نہیں البتہ عدل سے متعلق شخصیات کے حوالے سے معروف زرائع سے جو تفصیلات دستیاب ہیں ان کے مطابق آئین کے آرٹیکل 209کے تحت قائم عدالتی احتسابی ادارے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارکردگی تقریبا صفر ہے۔پوری عدالتی تاریخ کھنگالنے کے بعد بمشکل ایک نظیر ملتی ہے جس کے تحت کسی جج کو بے قاعدگی یا بد عملی پر اس کے منصب سے ہٹایا گیا۔اعلیٰ عدلیہ سے وابستہ شخصیات سے متعلق بد عنوانی اور بد عملی کی رنگا رنگ داستانیں ہر دور میں سننے کو ملتی رہی ہیں مگر سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے کبھی بھی کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔شنید ہے کہ اس وقت بھی سپریم جوڈیشل کونسل میں متعدد شخصیات کے خلاف کئی ریفرنسز زیر التواء ہیں جن کی سماعت طویل عرصے سے نہیں ہوئی اور اسکی بنیادی وجہ جوڈیشل کونسل کی ہیئت ترکیبی ہے۔آرٹیکل 209 کے مطابق سپریم کورٹ کا چیف جسٹں، سپریم کورٹ کے دو سینئر ترین جج،ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صاحبان میں سے دو سینئر ترین چیف جسٹس پر مشتمل پانچ رکنی جوڈیشل کونسل موجود ہے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے یہ کونسل اپنے ساتھی ججز کے خلاف کیسے کارروائی کر سکتی ہے کیونکہ کچھ اداروں میں یہ روایت ہے کہ اپنے ساتھیوں کا ہر حوالے سے تحفظ کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے جوڈیشل کونسل نے اپنے قیام سے لیکر تادم تحریر کسی خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔اسی بنیاد پر یہ لکھنے میں کوئی عار نہیں کہ یہ کونسل اپنی افادیت کھو چکی ہے۔
یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے جب جوڈیشل کونسل اپنے قیام کے مقاصد پورے کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے تو پھر صاحبان عدل کا احتساب کس فورم پر کیا جائے؟ اس حوالے سے ایک نئے جوڈیشل احتسابی ادارے جوڈیشل اکاؤنٹیبلٹی بیورو(یا اسے کوئی اور نام بھی دیا جا سکتا ہے)کی تشکیل کی جا سکتی ہے۔مجوزہ جوڈیشل احتسابی ادارے کے بارہ ارکان ہوں گے۔(۱)چیف جسٹس پاکستان(۲)پانچوں ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز(۳)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر(۴)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا صدر(۵)چیئرمین پاکستان بار کونسل(۶)سپریم کورٹ کے دو نیک نام ریٹائر جج جن کی نامزدگی صدر پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل کی سنٹرل کمیٹی یا مرکزی کونسل یا مجلس عاملہ یا دونوں اداروں کی جو بھی ایگزیکٹو باڈی ہو، کی سفارشات کی روشنی میں کرے گا۔ریٹائر ججز کے بارے میں پہلے پاکستان بار کونسل اور بعد میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے رائے دی جائے گی جس کو حتمی تصور کرتے ہوئے صدر دونوں ججز کی نامزدگی کا پابند ہو گا۔(۷)قومی سطح کا ایک سینئر قانون دان جس کی اعلیٰ عدالتوں میں پریکٹس کی مدت کم از کم تیس سال ہواور وہ کسی بھی دور میں کسی آئین شکن فوجی یا سویلین آمر کا حکومتی اور نجی سطح پر معاون نہ رہا ہو،کی نامزدگی دونوں ریٹائر ججز کی صوابدید پر ہوگی۔ریٹائر ججز اور سینئر قانون دان کے معیار میں موزوں ردوبدل کیا جا سکتا ہے۔بفرض محال دو نیک نام ریٹائر ججز اور سینئر قانون دان دستیاب نہ ہوں تو ان کے بغیر ہی “جے اے بی “کا قیام عمل میں لایا جا سکے گا۔اگر کسی وقت ملک میں فوجی آمریت کی وجہ سے قومی اسمبلی موجود نہ ہو تو اپوزیشن لیڈر کے بغیر عدالتی احتسابی ادارہ تشکیل دیا جا سکے گا۔مجوزہ عدالتی احتسابی ادارے کے اراکین با اختیار ہوں گے۔کوئی بھی رکن جب محسوس کرے کہ اعلیٰ عدلیہ کے کسی جج کے خلاف کوئی شکایت ہے تو اس رکن کی ریکوزیشن پر صدر اجلاس بلانے کا پابند ہو گا۔اگر صدر مصلحت پسندی سے کام لیتے ہوئے اجلاس بلانے میں ٹال مٹول کرے تو نیشنل جوڈیشل بیورو کے چھ غیر سرکاری ارکان کی تحریک پر چھ چیف جسٹس صاحبان ریفرنس کی سماعت کے پابند ہوں گے۔
پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نیب کے بجائے جس نئے احتسابی ادارے کے لئے آجکل جدوجہد کر رہے ہیں وہ اگر عدلیہ کے احتساب کے لئے مذکورہ (جے اے بی )کے قیام کی جدوجہد کریں تو یہ زیادہ مناسب ہو گا کیونکہ فوج اور عدلیہ سمیت تمام اداروں کے احتساب کے لئے جس طرح کے ادارے کی تشکیل کے لئے یہ جماعتیں جدوجہد کر رہی ہیں وہ شاید دونوں اداروں کے لئے قابل قبول نہ ہو۔عین ممکن ہے مجوزہ جوڈیشل ادارے کی تشکیل میں کچھ آئینی رکاوٹیں حائل ہوں تو اس مقصد لئے ہم خیال جماعتوں کے تعاون سے آئینی ترمیم کی جا سکتی ہے۔وکلاء برادری کو بھی نئے عدالتی احتسابی ادارے کے قیام کے لئے جدوجہد کرنی چاہئے۔
Email: gmahdi01@yahoo.com

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*