outline

کراچی ،سپریم کورٹ نے ملٹری لینڈ پر ہو رہی کاروباری سرگرمیاں ختم کرنے کا حکم دیدیا

کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کا سلسلہ تو کئی ماہ سے چل ہی رہا ہے مگر اب سپریم کورٹ نے ایک نیا حکم جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں جہاں کہیں فوج کے زیر انتظام زمین پر کاروباری سرگرمیاں ہو رہی ہیں ،انہیں فوری طور پر ختم کروایا جائے

اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تجاوزات کے خاتمے سے متعلق اجلاس ہوا جس میں کمشنر کے ایم سی سمیت ایس بی سی اے اور دیگر حکام نے شرکت کی-

سپریم کورٹ کے جج جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کوئی کتنا بااثر کیوں نہ ہو، غیر قانونی تعمیرات کی اجازت نہیں ہوگی، یہ طے ہے کہ یہ زمینیں خالی ہوں گی۔

سپریم کورٹ نے نے فٹ پاتھوں، سروس روڈز سے ٹیبلز، کرسیاں فوری ہٹانے اور کورنگی روڈ پر قائم عمارتوں کے سامنے بھی پارکنگ ہٹانے کا حکم دیا ہے اس کے علاوہ راشد منہاس روڈ پر قائم ریسٹورنٹس کی پارکنگ فوری ختم کرنے کا بھی کہا گیا ہے

کلفٹن ڈولمین مال کے سامنے تعمیر کی گئی دیوار سے متعلق جسٹس گلزار نے استفسار کیا کہ کیا دیوار بنا کر خاص لوگوں کیلئے راستہ بنایا گیا ہے ؟ اور ساتھ ہی انہوں نے اس دیوار کو بھی منہدم کرنے کا حکم دیدیا

اجلاس کے دوران جسٹس گلزار نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے تاہم سندھ حکومت کے نمائندے نے شکایت کی کہ مختلف ادارے ہمارے ساتھ تعاون نہیں کررہے جس پر جسٹس گلزار احمد نے تمام اداروں کو تعاون کی ہدایت کر دی

سپریم کورٹ نے شہر بھر کے تمام پارکوں سے ایک ہفتے میں تجاوزات ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ عزیز بھٹی پارک، باغ ابن قاسم، ہل پارک اور دیگر پارکوں سے تجاوزات ختم کی جائیں۔

عدالت نے فٹ پاتھ پر قائم فلاحی اداروں کی سرگرمیاں بھی مکمل طور پر ختم کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ فٹ پاتھوں پر قائم دستر خوان اور صدقے کے بکروں کی فروخت کرنے والے پتھارے بھی ختم کیے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*