تازہ ترین
outline

چیف جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ سے پہلے سپریم کورٹ کے جج نے ان کے خلاف سخت فیصلہ لکھ دیا

چیف جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ سے پہلے ساتھی جج نے ان کے خلاف سخت فیصلہ لکھ دیا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ،جسٹس ثاقب نثار جو چند روز بعد مدت ملازمت ختم ہونے پر ریٹائر ہو رہے ہیں ،ان کے خلاف سپریم کورٹ کے ہی ایک جج نے سخت فیصلہ لکھ دیا ہے جو پاکستان کی عدالتی تاریخ کی انوکھی مثال ہے

واضح رہے کہ سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں 9 مئی 2018 کو انسانی حقوق سے متعلق معاملات پر تین رُکنی بنچ سماعت کر رہا تھا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اختلاف رائے کا اظہار کرتے ہوئے یہ قانونی نکتہ اٹھایا کہ کیا سپریم کورٹ کے انسانی حقوق سیل کا ڈائریکٹر سپریم کورٹ کے از خود نوٹس سے متعلق اختیارات استعمال کر سکتا ہے ؟ اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے کہ مقدمات کی سماعت کرنے والا بنچ ٹوٹ گیا ہے اب ان معاملات کی سماعت کچھ دیر بعد ہوگی ،جب کچھ دیر بعد دوبارہ سماعت کا آغاز ہوا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس بنچ کا حصہ نہیں تھے اور جسٹس ثاقب نثار نے جسٹس منصور علی شاہ کیساتھ مل کر سماعت جاری رکھی

اب جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے تحریری فیصلے میں قانونی حوالے دیتے ہوئے لکھا ہے کہ پشاور میں بنچ ازسر نو تشکیل دینے کا چیف جسٹس کا فیصلہ غلط تھا اور جسٹس قاضی فائز سے اتفاق کرتا ہوں

جسٹس منصور علی شاہ جو اس سے پہلے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے ہیں ،انہوں نے چھ صٖفحات پر مشتمل فیصلے میں لکھا ہے کہ میں آج تک انتظار کرتا رہا کہ 9 مئی کو سنے گئے مقدمات میں چیف جسٹس تحریری حکم جاری کریں گے اور جسٹس قاضی فائز کے نوٹ کا بھی جواب دے کر آئینی سوالات کا جواب دیں گے مگر تاحال ایسا نہ کرنے پر میں یہ فیصلہ لکھ رہا ہوں کیونکہ چیف جسٹس 17 جنوری کو ریٹائر ہو رہے ہیں

سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا ہے کہ میں اپنے ساتھی جج قاضی فائز سے متفق ہوں کہ چیف جسٹس کا ان مقدمات میں بنچ کا دوبارہ تشکیل دینا غیر ضروری تھا اور اس کی عدالتی مثال پہلے نہیں ملتی جس سے نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*