تازہ ترین
outline

کرپٹوں کی چیخیں تو نکلیں گی ناں ۔رضوان الرحمن رضی

چین کے اندر کمیونزم کا سورج سوا نیزے پر تھا، معاشی بدحالی عروج پر تھی، اس دوران جب بھی کوئی چینی، خود پر مسلط اس غیر فطری نظام کے خلاف کوئی بات منہ سے نکالتا، چینی فوج کے جرنیلوں کی بدعنوانی پر کوئی لفظ بولتاتو اسے یہ کہہ کر گولی سے اڑا دیا جاتا کہ اس نے زبانی دہشت گردی کرکے ملک کی نظریاتی سرحدوں کے خلاف بغاوت کے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ سزا سرعام دی جاتی تاکہ وہ دوسروں کے لئے عبرت کا باعث ہو۔ بدعنوان جج ایسے سزاؤں پر صادکرنے میں چند منٹ نہ لگاتے ۔اس سزا کے موقع پر ہجوم میں موجود کچھ دیگر چینی، کمیونزم سے اپنی لازوال محبت کے اظہار میں نہ صرف نعرہ زن ہوتے بلکہ ایسے بدقسمت شخص سے اسکے اپنے بیوی بچے بھی برات کا اظہار کرتے کیوں کہ انہوں نے بھی تو جبر و استبداد کے اس نظا م میں کچھ دیر اور زندہ رہنا ہوتا تھا۔ لیکن اس عمل کی وجہ سے چین پر انسانی آزادیوں کے حوالے سے شدید تنقید ہوتی اور انقلاب مخالفین چینی دنیا کے مختلف ممالک میں بیٹھ چینی حکومت کو خوب گندہ کرتے۔ جب نوے کی دہائی کے وسط میں چین نے کمیونزم سے کیپٹل ازم یعنی نظام زر کی طرف مراجعت کی تو چینی حکومت کے لئے ایک مسئلہ کھڑا ہوگیا کہ جس نظام کی آڑ لے کر وہ اپنے سیاسی مخالفین کو عدلیہ کی زیرسایہ موت کی گھاٹ اتار دیا کرتی تھی ، اب وہ نظام تو موجود نہیں رہا تھا، تو اب کیا کیا جائے۔ اس کے لئے چین کے زرخیز ذہنوں نے ایک لازوال طریقہ گھڑا کہ ایسے شخص کو بدعنوان یعنی کرپٹ قرار دے دیا جا ئے ۔ اور یوں اس کے بعد چین میں شخصی آزادیوں کے حوالے جو بھی آواز اٹھی اس پر یہی الزام لگا کہ یہ کرپٹ ہے اور اس کو امریکہ سے ڈالرز مل رہے تھے۔ اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔ دنیا کے تمام تحقیقاتی ادارے اس ایک بات پر متفق ہیں کہ چینی دنیا کی بدعنوان ترین قوم ہیں۔ کوئی مذہبی رحجان نہ ہونے کے باعث چوں کہ ان میں آخرت میں جوابدہی کا کوئی تصور ہی نہیں تو پھر گناہ کے گناہ ہونے کا احساس مٹ جانے اور کسی کے سامنے جوابدہی کے عدم تصور کے باعث اپنے ذاتی مالی مفادات کے حصول کے لئے گھٹیا پن اور ذلالت کی آخری حد تک گر جاتے ہیں۔ لیکن صدقے جائیے پاکستان کے میڈیا میں پائے جانے والے جاہل اجڈ اور گنوار قسم کے بندر نما حادثاتی اینکرز حضرات کے، جن کا تاریخ اور جغرافئے تو کیا کسی بھی قسم کے علم سے کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ دولے شاہ کے چوہے اس بات کو لے کر دوڑ پڑتے ہیں کی چین میں کرپشن کی سزا موت ہے اور یہ کہ پاکستان میں کرپشن کی سزا موت ہونی چاہیے۔ عمران خان صاحب کی حکومت نے چین سے کچھ اور سیکھا ہو نہ سیکھا ہو لیکن یہ ہنرضرور سیکھ لیا ہے کہ جو بھی ان کا سیاسی مخالف ہے وہ کرپٹ بھی ہے اور غدار بھی ، اس کے بعد اپنے تمام سیاسی مخالفین پر اپنے ذہنی بالشتئے اور بوزنے چھوڑ دو۔ تو اے میرے معصوم ہم وطنو! اس ملک میں اور کچھ ہو یا نہ ہو، اگرآپ موجودہ حکومت کی مالیاتی بدعنوانیوں اور نا اہلیوں پر بات کریں گے، اگر آپ یہ کہیں گے کہ پی ٹی آئی کے دور میں ابھی تک حکومتی تو کیانجی سرمایہ کاری کا بھی کوئی منصوبہ اس لئے سامنے نہیں آرہا کہ متعلقہ وزیر اپنے دفتر میں بیٹھ کر کہتا ہے کہ اس کا حصہ کیا ہے ، تو آپ کرپٹ ہیں ، اور آپ پر ریاست کا پورا جبر انڈیل دیا جائے گا اور جب آپ اس کے خلاف چیخیں گے تو کہا جائے گا کہ کرپٹوں کی چیخیں تو نکلیں گی ناں۔

تبصرے “ 1 ”

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*