تازہ ترین
outline

‘امریکا کے صدارتی انتخاب میں شاید یہودیوں نے مداخلت کی ‘

امریکا میں 2016 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے حوالے سے روس پر الزام لگتا رہتا ہے کہ اس کے خفیہ ایجنٹوں اور سفارتکاروں نے انتخابات میں مداخلت کی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے جیتنے میں کردار ادا کیا۔ اس حوالے سے امریکا میں اعلیٰ سطح پر تحقیقات جاری ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کے کئی عہدایداروں سے بھی پوچھ کچھ کی جا چکی ہے۔

امریکا کے ان الزامات کی روس کی طرف سے ہمیشہ تردید کی گئی ہے، لیکن اب ایک بار پھر روسی صدر ولادی میر پوٹن کو میدان مین کودنا پڑا ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکا کے صدارتی انتخاب میں روس نہیں شاید یہودیوں نے مداخلت کی ہے۔

Image result for Jews may intervene in US presidential election, says Putin

روسی صدر نے کہا کہ امریکی انتخابات میں ممکن ہے مداخلت کرنے والوں کے پاس گرین کارڈ ہو یا امریکا نے اس کام کے لیے انہیں رقم دی ہو۔

امریکی انتخابات میں فرد جرم کا سامنا کرنے والے 13 روسی شہریوں کے حوالے سے صدر پیوٹن نے کہا کہ انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں کیوں کہ وہ روسی حکومت کا حصہ نہیں تھے۔

ولادی میر پیوٹن نے کہا کہ جب تک کسی نے روسی قوانین کی خلاف ورزی نہ کی ہو روس کی حکومت اسے سزا نہیں دے سکتی۔

انٹرویو کے دوران سوال کیا گیا کہ جن ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی ان میں روسی ریسٹورنٹ کے مالک بھی ہیں جو صدر ‘پیوٹن کے شیف’ کے نام سے مشہور ہیں جس پر صدر پیوٹن نے کہا کہ روس میں کئی مشہور لوگ ہیں لیکن وہ ریاستی نمائندے نہیں اور گرفتار روسی بزنس مین حکومت کا حصہ نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ 2016 میں امریکا کے عام انتخابات میں حیران کن طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ڈیموکریٹک جماعت کی امیدوار ہیلری کلنٹن کو شکست دے کر ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے تاہم ان کی جیت پر تمام حلقے حیران تھے۔

Image result for trump elected as president

ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد امریکی انتخابات کو ہیک کیے جانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*