تازہ ترین
outline

ہائر ایجوکیشن، سیاسی جماعتوں کا منشور اور ترجیحات۔سلمان عابد

انتخابات اور سیاسی جماعتوں کے پیش کرہ منشور بنیادی طور پر ووٹروں اور اہل دانش میں سیاسی قیادت کی سمت ، سوچ اور ترجیحات کو پیش کرنے کا سبب بنتی ہے ۔مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے جیسے ملکوں میں انتخابی مہم بنیادی نوعیت کے مسائل کو بنیاد بنا کر نہیں چلائی جاتی ۔ سیاسی جماعتوں او ران کی قیادتیں عمومی طور پر الزام تراشیوں ، کردار کشی سمیت غیر اہم مسائل کی بنیاد پر انتخابی مہم چلا کر سنجیدہ نوعیت کے مسائل کو پیچھے چھوڑ دیتی ہیں ۔انتخابی نظام اور سیاسی جماعتوں کے پیش کردہ منشور کے درمیان اگر تعلق مضبوط ہوجائے تو نہ صرف سیاسی نظام مستحکم ہوتا ہے بلکہ بنیادی نوعیت کے مسائل پر حکومتی ترجیحات میں بھی نمایاں فرق دیکھنے کو ملتا ہے ۔

پاکستان کے اہم مسائل میں ایک مسئلہ تعلیم کا بھی ہے ۔ اگرچہ پرائمری تعلیم بنیادی نوعیت کا مسئلہ ہے اور اس میں ہماری کارکردگی وہ نہیں جو ہونی چاہیے تھی۔ اس مسئلہ پر بطور ریاست، حکمران اور طاقت ور طبقات ایک مجرمانہ غفلت کا شکار ہوئے ہیں جو ہماری تعلیمی ساکھ کو کمزور کرنے کا سبب بنتی ہے ۔ پچھلے دو دہائیوں سے ہماری ہائر ایجوکیشن کا مسئلہ بھی ایک سنگین مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے ۔ اگرچہ یہاں ہائر ایجوکشن کے نام پر سیاسی دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں مگر جو نتائج موجود ہیں وہ ظاہر کرتے ہیں کہ کارکردگی کے تناظر میں حقایق کم اور تماشہ زیادہ ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری ہائر ایجوکشن دنیا کی تعلیمی رینکنگ میں بہت پیچھے کھڑی ہے ۔ تحقیق اور نئے جدید علوم سمیت ایک متبادل بیانیہ یا علم ، فکر، سوچ اور دانش کے میدان میں ہم بہت پیچھے کھڑے ہیں ۔

اگرچہ جنرل مشرف کے دور میں وفاقی ہائر ایجوکیشن سمیت صوبائی ہائر ایجوکیشن اور 18ویں ترمیم کی بنیاد پر ہائر ایجوکیشن میں بہتر نتائج کے حصول کے لیے کوششیں کی گئیں ، مگر سیاسی مداخلتوں کے باعث نہ تو ہم مطلوبہ نتائج حاصل کرسکے اور نہ ہی ملکی اور خارجی دونوں سطح پر ہائر ایجوکیشن کی ساکھ کو قائم کرسکے ۔ ہماری جامعات کا معیار بی ایس کی تعلیم سے لے کر ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی جیسی اہم تعلیم میں ڈگری تو ہے ، مگر تعلیم بہت پیچھے ہے ۔جو قومی مسائل ہمیں درپیش ہیں ان کا حل بھی جامعات موثر اور مربوط انداز میں قوم کے منصوبہ سازوں کے سامنے پیش نہیں کرسکے ۔

انتخابات کے ماحول میں سیاسی جماعتیں عوام کے پاس جاکران کو اپنے مستقبل کے پروگرام کا خاکہ پیش کرتی ہیں او ر اس کی ایک شکل سیاسی جماعتوں کیطرف سے پیش کرد ہ انتخابی منشور ہوتا ہے ۔ اگرچہ یہاں بدقسمتی سے انتخابی منشور ایک بڑی سیاسی بحث کا موضوع نہیں بنتا او راس کی جگہ غیر ضرور بحثوں کو زیادہ شدت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے ۔مختلف تھنک ٹینک اور سوچ بچار کرنے والے مختلف ادارے مختلف موضوعات پر سیاسی جماعتوں کے منشور کے تناظر میں اپنی تجاویز سیاسی جماعتوں کو بھی پیش کرتے ہیں اور میڈیا میں اجاگر کرکے اسے انتخابی بحث کا موضوع بناتے ہیں ۔پچھلے ایک برس سے ہائر ایجوکیشن پر کام کرنے والا ایک معروف تھنک ٹینک’’ ورکنگ گروپ برائے ہائر ایجوکیشن اصلاحات اور انٹریونیورسٹی کنسورشیم برائے فروغ سوشل سائنسز‘‘ بڑے موثر انداز میں پالیسی سازی کے تناظر میں کام کررہا ہے ۔اس تھنک ٹینک میں ، فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن،امریکن انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان سٹڈیز، انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ ایڈوکیسی )آئیڈیا(، سنٹر فار سوک ایجوکیشن پاکستان، پی ایچ ڈی ڈاکٹر ایسوسی ایشن، سنٹر فار انکلوسیو گورننس، رورل ڈولیپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ،یوتھ کونسل پاکستان، سول سوسائٹی نیٹ ورک پاکستان اور سنٹر فار کلچر اینڈ ڈولیپمنٹ پاکستان شامل ہیں ۔

ورکنگ گروپ برائے ہائر ایجوکیشن اصلاحات نے انتخابات 2018اور سیاسی جماعتوں کے منشور کے تناظر میں ایک 18نکاتی ایجنڈا پیش کیا ہے جو ہائر ایجوکیشن میں بہتر نتائج کے لیے کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے ۔اس فورم کی توقعات یہ ہیں کہ ان تجاویز کی روشنی میں سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں ان نکات کو اپنی ترجیحات کا حصہ بھی بنائیں اور سب کے سامنے اس کمٹمنٹ کا بھی اظہا ر کیا جائے کہ وہ سیاسی ایجنڈے میں ہائر ایجوکیشن کو اپنی اہم ترجیحات کا حصہ بنا کر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ بھی کریں گی ۔یہ ترجیحات ایک بڑی مشاورت کے بعد تیار کی گئیں ہیں جس میں ماہرین تعلیم سمیت سابقہ وائس چانسلرز، یونیورسٹیوں کے منتخب نمائندگان ، میڈیا، کالم نگار، اور سول سوسائٹی کے ماہرین کی آرا کو شامل کیا گیا ہے ۔کوشش کی گئی ہے کہ جو تجاویز پیش کی جارہی ہیں وہ درست سمت کی نشاندہی بھی کرتی ہو۔

اس تھنک ٹینک نے جو 18تجاویز پیش کی ہیں وہ قابل غور ہیں۔ ان میں *جامعات میں منصفانہ اور شفاف انداز سمیت میرٹ پر وائس چانسلرز کی تقرری جو کہ آزادانہ اور خود مختار سرچ کمیٹی کی نگرانی میں ہو اور اس میں سیاسی مداخلت کم ہو۔ اسی طرح جامعہ کی سطح پر ہیڈہاک پالیسی اور توسیع کا خاتمہ شامل ہے ۔ *18ویں ترمیم پر مکمل عملدرآمدہو جس کا فیصلہ کونسل آف کامن انٹرسٹ یعنی سی سی آئی میں کیا گیا ہے ۔*جی ڈی پی کا چار فیصد حصہ مجموعی طور پر تعلیم پر اور مختص شدہ بجٹ کا 25فیصد حصہ ہائر ایجوکیشن پر خرچ کیا جائے ۔*تعلیم کے اعلی معیارات اور تحقیق کے کلچر کو فروغ دیا جائے ۔*یونیورسٹیوں کو آزادی اور خودمختاری دی جائے اور فکری آزادی کو یقینی بنا کر نئے علم کی تلاش میں مد ددی جائے ۔اعلی طرز حکمرانی کے طو رپر سینڈیکیٹ ، سینٹ اور بورڈ اف گورنرزمیں انٹرنل اینڈ ایکسٹرنل  ممبرز کو یقینی بنایا جائے ۔*طلبہ تنظیموں کی بحالی کو یقینی بنایاجائے اور طلبہ کے منتخب نمائندگان کو یونیورسٹی سنڈیکیٹ کا ممبر بنایا جائے ۔*جامعات کی درجہ بندی کو بہتر بنانے کے لیے ملکی اور عالمی سطح پر بہتر بنانے کے لیے خصوصی پروگرام بنایا جائے ۔*قومی اور صوبائی سطح پر کوالٹی انشورنس، فنڈنگ، ریگولیٹری فریم ورک اور رینکنگ کے معاملات علیحدہ علیحدہ طور پر دیکھے جائیں۔*فیکلٹی کی تربیت کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنا *سینٹ کی مشترکہ قرارداد کے مطابق ریٹائرمنٹ کی حد 60برس کی بجائے 65برس کی جائے اور یونیورسٹی فیکلٹی اور محققین کے لیے ٹیکس میں 75فیصد رعائت برتی جائے ۔*صوبائی اور وفاقی دونوں سطح پر ہائر ایجوکیشن کو خود مختاری او ربجٹ میں اضافہ کے زریعے مضبوط کیا جائے ۔*بے روزگار پی ایچ ڈی ہولڈرز کے لیے ملازمتوں کے لیے مربوط پالیسی بنائی جائے ۔*ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم کو فروع دیا جائے او رتناظر میں کمیونٹی کالجز اور ٹیکنالوجی یونیورسٹیز کا قیام عمل میں لایا جائے ۔*اعلی تعلیم تک رسائی کو ہر حد تک ممکن بنایاجائے او راس کے لیے عوامی وسائل کو بروے کار لایا جائے ۔

اصل میں جب ہم یہ دلیل دیتے ہیں کہ کوئی بھی معاشرہ تعلیم کو نظرانداز کرکے آگے نہیں بڑھ سکتا تو اس کی ایک عملی شکل ہمیں ریاستی اور حکومتی پالیسی میں تعلیم کی عملی اہمیت بھی نظر آنی چاہیے ۔سیاسی جماعتوں کو اس بنیادی نکتہ پر اتفاق کرنا ہوگا کہ وہ تعلیم کے میدان میں کسی بھی طرز کی سیاسی مداخلتوں سے گریز کریں گے ۔یہاں کئی کئی برسوں تک حکومتی بدنیتی اور مداخلت کی وجہ سے ایڈہاک پالیسی کے تحت مستقل وائس چانسلرز کی تقرری نہیں کی جاتی۔ جمامعات کی سطح پر استاد تعلیم دینے کی بجائے انتظامی اور سیاسی مسائل میں الجھے نظر آتے ہیں ۔ جونصاب جامعات میں پڑھایا جارہا ہے اس میں بھی بڑی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔

اس تھنک ٹینک نے جو 18نکاتی تجاویز پیش کی ہیں اول تو سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان نکات کو اپنے منشور کا حصہ بنائیں اور سیاسی بحث میں لے کر اپنی مضبوط سیاسی کمٹمنٹ پیش کریں ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اہل دانش اور تعلیم میں دلچسپی رکھنے والے افراد او راداروں کو بھی چاہیے کہ وہ اس بحث کو آگے بڑھائیں او رسیاسی جماعتوں او ران کی قیادتوں پر دباو ڈالیں کہ وہ ہائر ایجوکیشن کو نظر انداز کرنے کی پالیسی سے گریز کرکے بڑ ے اقدامات کی طرف توجہ دیں ۔خاص طو رپر جامعات کی سطح پر جو نئی نسل میں انتہا پسندانہ رجحانات کو طاقت مل رہی ہے اس کو کیسے ختم کیا جائے اس پر عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔

ان نکات کو آگے بڑھانے میں میڈیا ایک بڑا کردار ادا کرسکتا ہے ۔ انتخابی مہم میں میڈیا کا موثر کردار براہ راست انتخابی سیاست پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ یہ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے پروگراموں میں آنے والے سیاسی افراد او رقیادت سے پوچھیں کہ ان کی تعلیم اور بالخصوص ہائر ایجوکیشن کی ترقی میں کیا سوچ، فکر اورایجنڈا ہے ۔خاص طور پر سوشل میڈیا کو اس اعلی تعلیم کے فروغ کی مہم میں استعمال کیا جانا ضروری ہے ۔اسی طرح اس تھنک ٹینک اور اس میں شامل دیگر موثر تنظیموں کو چاہیے کہ وہ وفاقی اور صوبائی سطح پر انتخابی مہم میں سیاسی قیادتوں اور جماعتوں کے ساتھ مکالمہ کو آگے بڑھاکر اعلی تعلیم کے مقدمہ کو مضبوط کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*