outline

اللہ کا مخلوق سے اور مخلوق کا اللہ سے تعلق-حافظ سلمان مرزا

اللہ رب العالمین ھے وہ سب کو پالنے والا ھے اور وہ ھم سب کا خالق ھے اور خالق کائنات ھے ھم اسکی مخلوق ھیں اور اللہ نے ھمیں اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز فرمایا اور سب سے بہترین امت بنایا یہ بھی رب زوالجلال کی ہم پر خصوصی کرم نوازی ھے اللہ اگر چاہتا تو ہمیں کسی بھی مخلوق کے روپ میں تخلیق فرما دیتا یہ چوائس کسی بھی مخلوق کو حاصل نہیں تھی تو یہ اللہ کا ھم پر کتنا بڑا احسان ھے -ھمیں اپنی روز مرہ کی زندگی کا مشاہدہ کم از کم رات کو سونے سے قبل زیادہ نہیں تو کم از کم 5 منٹ تو ضرور سارے دن جو کچھ ھم نے کیا ھم نے اللہ کی رضا کیلیئے کیا کیا اور کونسے کام ایسے کیئے جن سے شیطان راضی اور اللہ ناراض ھوا اور پھر ہمیں اللہ سے صدق دل سے ان غلطیوں اور خطائوں پر جو اللہ کی ناراضی کا سبب بنیں اور جن سے شیطان خوش ھواتوبہ کرنی چاہیئے اور معافی مانگنی چاہیئے اور جو کام بہتر ھوئے انکی کوشش جاری رکھنی چاہیئے

الله رب العالمین ہے وہ سب کو پالنے والا ہے اور وہ ہم سب کا خالق ہے اور خالق کائنات ہے ہم اسکی مخلوق ہیں اور الله نے ہمیں اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز فرمایا اور سب سے بہترین امت بنایا ہے یہ بھی رب زوالجلال کی ہم پر خصوصی کرم نوازی ہے الله اگر چاہتا تو ہمیں کسی بھی مخلوق کے روپ میں تخلیق فرما دیتا یہ چوائس کسی بھی مخلوق کو حاصل نہیں تھی تو یہ الله کا ہم پر کتنا بڑا احسان ہے -ہمیں اپنی روز مرہ کی زندگی کا مشاہدہ رات کو سونے سے قبل زیادہ نہیں تو کم از کم 5 منٹ تو ضرور سارے دن جو کچھ ہم نے کیا ہم نے الله کی رضا کیلیئے کیا کیا اور کونسے کام ایسے کیئے جن سے شیطان راضی اور الله ناراض ہوا اور پھر ہمیں الله سے صدق دل سے ان غلطیوں اور خطائوں پر جو الله کی ناراضی کا سبب بنیں اور جن سے شیطان خوش ہوا توبہ کرنی چاہیئے اور معافی مانگنی چاہیئے اور جو کام بہتر ہوئے انکی کوشش جاری رکھنی چاہیئے

الله اپنی مخلوق سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور الله کا فرمان ہے کہ میں 70 مائووں سے زیادہ پیار کرتا ہوں اور یہ مثال تو دنیا کے لیئے ہے ورنہ تو نا معلوم الله کے 70 گنا کتنے ہونگے-

الله اپنی مخلوق پر کتنا مہربان ہے ہم کتنی روگردانی کرتے ہیں
ہم الله کو تو ضرور مانتے ہیں لیکن ہم الله کی ایک نہیں مانتے نہ ہم اسکی عبادت گزاری کرتے ہیں نہ شکر گزاری کرتے ہیں نہ ہم صبر سے کام لیتے ہیں ہم شکوے بہت کرتے ہیں دوسروں پر زیادہ نظر رکھتے ہیں اسکے پاس یہ ہے میرے پاس یہ نہیں ہے ہم ایک چیز ہمارے پاس نہ ہو ہم اسکو نہیں بھولتے اور جو لاتعداد اسکی نعمتیں ہمارے پاس موجود ہیں جنکا ہم شمار کرتے رہیں ختم ہی نہیں ہونگی اسکا شکر ادا نہیں کرتے اور الله کی رضا پر راضی نہیں ہوتے لالچ طمع بہت کرتے ہیں قناعت نہیی کرتے حالانکہ حال ہمارا یہ ہے نماز فرض ہے آزان ہوتی ہےتو نماز کیلیئے بلایا جاتا ہے ہم کھلے بندوں اعلان حکم عدولی کرتے ہوئے اپنے کاموں میں مشغول رہتے ہیں یہ تو الله کی شان ہے کہ وہ ہم پر کتنا مہر بان ہے کہ وہ اپنی دی ہوئ انگنت نعمتوں کو ہم سے واپس نہیں لیتا دیئے رکھتا ہے الله تب بھی ہمیں ڈھیل دیئے رکھتا ہے ورنہ اگر ہماری نافر مانیوں اور رو گردانیوں پر وہ جو مفت نعمت ہوا اور پانی ہی عطا کر رہا ہےبند کر دے تو ہم جینے کا تصور بھی نہ کر سکیں یا یہ قیمت پر دستیاب ہونے لگے تو عام لوگ کہاں جائیں دنیا کے امیر لوگ زخیرہ کر لیں اور غریب ختم ہو جائیں یہ بھی تو الله کا خاص کرم ہے پھر رزق بھی اسنے اپنے اختیار میں رکھا ہے ورنہ صاحب اختیار غریب کو بھوکا مار دیتے –

انسان کا سب سے زیادہ مضبوط رشتہ الله سے ہے یہ وہ رشتہ ہے جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا اور یہ اسلیئے اتنا مضبوط ہے کہ الله رب العزت نے اس رشتے کو لازوال بنایا اور دوام بخشا کیونکہ الله اپنی مخلوق کو بھلاتا ہے نہ اسے کسی کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہے مخلوق چاہے الله کی یاد میں جتنی مرضی کوتاہی برت لے لیکن الله اپنی مخلوق سے ایک پل کیلئے بھی غافل نہیں- کیا الله کی شان ہے ماں باپ ناراض ہوں روٹی بند کر دیتے ہیں گھر سے نکل جانے تک کو کہ دیتے ہیں جائداد سے عاق کردیتے ہیں اور دنیاوی بےحساب ایسی مثالیں دی جا سکتی ہیں جو ہمارے روز مرہ کے مشاہدے میں آتی ہیں-
الله کی اپنی مخلوق پر رحم کرم اور فضل کیلیئے الفاظ کم پڑ جائیں گے نہ وہ ہماری آب و ہوا کو بند کرتا ہے نہ وہ ہمارا رزق دانہ پانی بند کرتا نہ وہ کسی اور طرح سے اپنے سے دور کرتا ہے
کیا شان رحیمی ہے شان کریمی ہے جتنی بار بھی خطا ہو جائے لغزش بھول چوک ہوجائے ندامت سے سر جھکا کر خطائوں پر معافی کے طلبگار بن کر اسکے در پر جائیں کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا ضرور معاف فرماتا ہے اور کبھی یہ نہیں کہتا کہ کتنی مرتبہ معافی مانگ چکا ہے اور پھر بار بار آجاتا ہے –

اور لطف تو یہ ہے کہ مانگنے والے سے خوش نہ مانگنے والے سے ناراض ہوتا ہے اور حد تو یہ ہے اپنی مخلوق کو رات کے پچھلے پہر میں سب سے نچلے آسمان پر پکار پکار کر کہتا ہے کوئ ہے بیمار جو شفا چاہتا ہے کوئ ہے پریشان میں اسکی پریشانی دور کروں اور کوئ ہے مقروض میں اسے قرض سے نجات دوں کوئ ہے تنگدست میں اسے فراخی رزق عطا کروں کیا الله کی شان ہے مخلوق محو خواب ہے اور خالق اپنی مخلوق کے فکر میں مخلوق کو آسانیاں بانٹنے کیلیئے موجود ہے دینے والا لینے والوں کو منادی کر کے بلا رہا ہے-اور یہ ہمارا ایمان ہے کہ جس کا کوئ سہارا اور ہم درد نہیں جو دنیا میں بالکل اکیلا ہے جس کا کوئ نہیں اس کا الله ہے اور جس کا الله ہے اس کا سارا جہان ہے اور بیشک الله ہر چیز پر قادر ہے- اسی لئے الله کا فرمان ہے کہ الله سے کبھی مایوس اور نا امید نہیں ہونا وہ تمہاری سنتا بھی ہے اور قبول بھی کرتا ہے کیونکہ وه تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے-

کیا ہم نے اپنے محبوب خالق سے کبھی شکر گزاری کے لییئے بھی کوئ وقت نکالا اسکے سامنے سجدہ ریز ہونے کے بارے میں سوچا وہ بہت چاہتا ہے کہ اسکی مخلوق اس سے باتیں کرے دل کی باتیں کریں وہ باتیں جو وہ کسی اور سے نہیں کر سکتا نہیں بتا سکتا آپ یہ سوچیں آپ اپنی والدہ سے دل کی باتیں نہیں کر لیتے تو یہ بتائیں جو خود ہمیں بتا رہا ہے کہ میں ایک ماں سے 70 گنا زیادہ پیار کرتا ہوں اس گارنٹی کے بعد ہم اس کا بھرپور فائدہ نہ اٹھائیں تو یہ ہماری بد نصیبی نہیں تو اور کیا ہے –

آپ کوشش کرکے تو دیکھیں وہ آپ سے دور نہیں ہے یہ بھی اسی کا فرمان ہے کہ میں تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں ہم نے کبھی کوشش ہی نہیں کی آپ ایک وقت الله سے ملاقات کا ضرور رکھیں اور سب سے بہتر وہ رات کا وقت ہے جب آپ کی اور الله کی باتوں میں نہ تو کوئ اور مخل ہو اور نہ ہی آپکی رازو نیاز کی باتیں کوئ دوسرا سنے کسی کو اپنا حال دل سنانے کیلیئے خود بیان کرنا سب سے افضل ہے جیسے کوئ مریض ڈاکٹر کو اپنی تکلیف اپنی زبانی بتائے اس سے بہتر کوئ اور نہیں بیان کر سکتا دوسری بات الله تو ہر زبان جانتا ہے وہ تو یہ بھی جانتا ہے ہمارے دل میں کیا ہے- آپ یقیں کریں الله اپنی مخلوق سے بہت محبت کرتا ہے یہاں تک کہ جو اسکی مخلوق سے محبت کرتا ہے الله اس سے محبت کرتا ہے جو اسکی مخلوق کے لیئے آسانیاں پیدا کرتا ہے الله اسکے لیئےآسانیاں پیدا کرتا ہے جو اسکی مشکلات میں آسانیاں پیدا کروانے میں مدد کرتا ہے الله اسکی مشکلات دور کرتا ہے -اسی پر کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کرو مہربانی تم اہل زمیں پر خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر الله ہم پر بے پناہ کرم فرمانے والا انتہائ رحمان رحیم کریم علیم حلیم سمیع بصیر مجیب ستار العیوب وغفار الزنوب زوالجلال ولاکرام ارحم الراحمین بھی ہے لیکں آپ یقین کریں

آپ دل کی تمام باتیں الله سے کر کے جو سکون پائیں گے آپنے زندگی میں کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا کیونکہ کسی اور سے اپنی مشکل بیان کرنا جو خود اپنی مشکل کیلیئے کسی کا محتاج ہو تو اگر ہم خود اپنی عرضداشت اسکے رو برو پیش کریں تو الله کو یہ زیادہ پسند بھی آئیگا اور اپنے اس بندے پر پیار بھی آئیگا اور انشالله آپکی الله سے مزید قربت ہو جائیگی اور تعلق اور مضبوط ہو جائیگا اور آپ با آسانی الله سے اپنے دل کا حال بیان کر پائیں گے اور انشا الله یہ چند منٹ آپکو ضرور فیضیاب کرینگے الله ہمیں دین پر چلنے قرآن و حدیث کو پڑهنے سمجهنے اور عمل کرنے کی استطاعت اور توفیق نصیب فرمائے آمین اور ہمارا تعلق الله اور الله کے رسول صل الله علیہ وآلہ وسلم سے اور زیادہ مضبوط ہو جائے آمین یا رب العالمین


اللہ اپنی مخلوق سے بے پناہ محبت کرتا ھے اور اللہ کا فرمان ھے کہ میں 70 مائووں سے زیادہ پیار کرتا ھوں اور یہ مثال تو دنیا کے لیئے ھے ورنہ تو نا معلوم اللہ کے 70 گنا کتنے ھونگے-

اللہ اپنی مخلوق پر کتنا مھر بان ھے ھم کتنی روگردانی کرتے ہیں
ھم اللہ کو ضرور مانتے ھیں لیکن ھم اللہ کی نہیں مانتے نہ ھم اسکی عبادت گزاری کرتے ھیں نہ شکر گزاری کرتے ھیں نہ ھم صبر سے کام لیتے ہیں ھم شکوے بھت کرتے ھیں دوسروں پر زیادہ نظر رکھتے ھیں اسکے پاس یہ ھے میرے پاس یہ نہیں ھےھم ایک چیز ھمارے پاس نہ ھو ھم اسکو نہیں بھولتے اور جو لاتعداد اسکی نعمتیں ھیں جنکا ھم شمار کرتے رھیں ختم نھیں ھونگی اسکا شکر ادا نہیں کرتے اور اللہ کی رضا پر راضی نہیں ہوتے لالچ طمع بھت کرتے ہیں قناعت نہیی کرتے حالانکہ حال ھمارا یہ ھے نماز فرض ھے آزان ہوتی ھےتو نماز کیلیئے بلایا جاتا ھے ھم کھلے بندوں اعلان حکم عدولی کرتے ھوئے اپنے کاموں میں مشغول رہتے ھیں یہ تو اللہ کی شان ھے کہ وہ ھم پر کتنا مھر بان ھے کہ وہ اپنی دی ھوئ انگنت نعمتوں کو ھم سے واپس نہیں لیتا دیئے رکھتا ھے اللہ تب بھی ھمیں ڈھیل دیئے رکھتا ھے ورنہ اگر ھماری نافر مانیوں اور رو گردانیوں پر وہ جو مفت نعمت ھوا اور پانی عطا کر رھا ھے تو ھم جینے کا تصور بھی نہ کر سکیں یا یہ قیمت پر دستیاب ھونے لگے تو عام لوگ کہاں جائیں دنیا کے امیر لوگ زخیرہ کر لیں اور غریب ختم ھو جائیں یہ بھی تو اللہ کا خاص کرم ھے پھر رزق بھی اسنے اپنے اختیار میں رکھا ھے ورنہ صاحب اختیار غریب کو بھوکا مار دیتے –

اور یہ مثال تو دنیا کے لیئے ھے ورنہ تو نا معلوم اللہ کے 70 گنا کتنے ھونگے-
اللہ اپنی مخلوق پر کتنا مھر بان ھے ھم کتنی روگردانی کرتے ہیں
ھم اللہ کو ضرور مانتے ھیں لیکن ھم اللہ کی نہیں مانتے نہ ھم اسکی عبادت گزاری کرتے ھیں نہ شکر گزاری کرتے ھیں نہ ھم صبر سے کام لیتے ہیں ھم شکوے بھت کرتے ھیں دوسروں پر زیادہ نظر رکھتے ھیں اسکے پاس یہ ھے میرے پاس یہ نہیں ھےھم ایک چیز ھمارے پاس نہ ھو ھم اسکو نہیں بھولتے اور جو لاتعداد اسکی نعمتیں ھیں جنکا ھم شمار کرتے رھیں ختم نھیں ھونگی اسکا شکر ادا نہیں کرتے اور اللہ کی رضا پر راضی نہیں ہوتے لالچ طمع بھت کرتے ہیں قناعت نہیی کرتے حالانکہ حال ھمارا یہ ھے نماز فرض ھے آزان ہوتی ھےتو نماز کیلیئے بلایا جاتا ھے ھم کھلے بندوں اعلان حکم عدولی کرتے ھوئے اپنے کاموں میں مشغول رہتے ھیں یہ تو اللہ کی شان ھے کہ وہ ھم پر کتنا مھر بان ھے کہ وہ اپنی دی ھوئ انگنت نعمتوں کو ھم سے واپس نہیں لیتا دیئے رکھتا ھے اللہ تب بھی ھمیں ڈھیل دیئے رکھتا ھے ورنہ اگر ھماری نافر مانیوں اور رو گردانیوں پر وہ جو مفت نعمت ھوا اور پانی عطا کر رھا ھے تو ھم جینے کا تصور بھی نہ کر سکیں یا یہ قیمت پر دستیاب ھونے لگے تو عام لوگ کہاں جائیں دنیا کے امیر لوگ زخیرہ کر لیں اور غریب ختم ھو جائیں یہ بھی تو اللہ کا خاص کرم ھے پھر رزق بھی اسنے اپنے اختیار میں رکھا ھے ورنہ صاحب اختیار غریب کو بھوکا مار دیتے –

کوشش جاری رکھنی چاہیئے
اللہ اپنی مخلوق سے بے پناہ محبت کرتا ھے اور اللہ کا فرمان ھے کہ میں 70 مائووں سے زیادہ پیار کرتا ھوں اور یہ مثال تو دنیا کے لیئے ھے ورنہ تو نا معلوم اللہ کے 70 گنا کتنے ھونگے-
اللہ اپنی مخلوق پر کتنا مھر بان ھے ھم کتنی روگردانی کرتے ہیں
ھم اللہ کو ضرور مانتے ھیں لیکن ھم اللہ کی نہیں مانتے نہ ھم اسکی عبادت گزاری کرتے ھیں نہ شکر گزاری کرتے ھیں نہ ھم صبر سے کام لیتے ہیں ھم شکوے بھت کرتے ھیں دوسروں پر زیادہ نظر رکھتے ھیں اسکے پاس یہ ھے میرے پاس یہ نہیں ھےھم ایک چیز ھمارے پاس نہ ھو ھم اسکو نہیں بھولتے اور جو لاتعداد اسکی نعمتیں ھیں جنکا ھم شمار کرتے رھیں ختم نھیں ھونگی اسکا شکر ادا نہیں کرتے اور اللہ کی رضا پر راضی نہیں ہوتے لالچ طمع بھت کرتے ہیں قناعت نہیی کرتے حالانکہ حال ھمارا یہ ھے نماز فرض ھے آزان ہوتی ھےتو نماز کیلیئے بلایا جاتا ھے ھم کھلے بندوں اعلان حکم عدولی کرتے ھوئے اپنے کاموں میں مشغول رہتے ھیں یہ تو اللہ کی شان ھے کہ وہ ھم پر کتنا مھر بان ھے کہ وہ اپنی دی ھوئ انگنت نعمتوں کو ھم سے واپس نہیں لیتا دیئے رکھتا ھے اللہ تب بھی ھمیں ڈھیل دیئے رکھتا ھے ورنہ اگر ھماری نافر مانیوں اور رو گردانیوں پر وہ جو مفت نعمت ھوا اور پانی عطا کر رھا ھے تو ھم جینے کا تصور بھی نہ کر سکیں یا یہ قیمت پر دستیاب ھونے لگے تو عام لوگ کہاں جائیں دنیا کے امیر لوگ زخیرہ کر لیں اور غریب ختم ھو جائیں یہ بھی تو اللہ کا خاص کرم ھے پھر رزق بھی اسنے اپنے اختیار میں رکھا ھے ورنہ صاحب اختیار غریب کو بھوکا مار دیتے –

انسان کا سب سے زیادہ مضبوط رشتہ اللہ سے ھے یہ وہ رشتہ ھے جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا اور یہ اسلیئے اتنا مضبوط ھے کہ اللہ رب العزت نے اس رشتے کو لازوال بنایا اور دوام بخشا کیونکہ اللہ اپنی مخلوق کو بھلاتا ھے نہ اسے کسی کہ رحم و کرم پر چھوڑتا ھے مخلوق چاھے اللہ کی یاد میں جتنی مر ضی کوتاہی برت لے لیکن اللہ اپنی مخلوق سے ایک پل کیلئے بھی غافل نہیں کیا اللہ کی شان ھے ماں باپ ناراض ھوں روٹی بند کر دیتے ھیں گھر سے نکل جانے تک کو کہ دیتے ھیں جائداد سے عاق کردیتے ھیں اور دنیاوی بے حساب ایسی مثالیں دی جا سکتی ھیں جو ھماری روز مرہ کے مشاہدے میں آتی ھیں-
اللہ کی اپنی مخلوق پر رحم کرم اور فضل کیلیئے الفاظ کم پڑ جائیں گے نہ وہ ھماری آب و ھوا کو بند کرتا ھے نہ وہ ھمارا رزق دانہ پانی بند کرتا نہ وہ کسی اور طرح سے اپنے سے دور کرتا ھے
کیا شان رحیمی ھے شان کریمی ھے جتنی بار بھی خطا ھو جائے لغزش بھول چوک ھوجائے ندامت سے سر جھکا کر خطائوں پر معافی کے طلبگار بن کر اسکے در پر جائیں کبھی خالی ھاتھ نہیں لوٹاتا ضرور معافی ھوتی ھے اور کبھی یہ نہیں کہتا کہ کتنی مرتبہ معافی مانگ چکا ھے اور پھر بار بار آجاتا ھے –
اور لطف تو یہ ھے کہ مانگنے والے سے خوش نہ مانگنے والے سے ناراض ھوتا ھے اور حد تو یہ ھے اپنی مخلوق کو رات کے پچھلے پہر میں سب سے نچلے آسمان پر پکار پکار کر کہتا ھے کوئ ھے بیمار جو شفا چاہتا ھے کوئ ھے پریشان میں اسکی پریشانی دور کروں اور کوئ ھے مقروض میں اسے قرض سے نجات دوں کوئ ھے تنگدست میں اسے فراخی رزق عطا کروں کیا اللہ کی شان ھے مخلوق محو خواب ھے اور خالق اپنی مخلوق کے فکر میں مخلوق کو آسانیاں بانٹنے کیلیئے موجود ھے دینے والا لینے والوں کو منادی کر کے بلا رھا ھے -اور بار بار یاد دلاتا ھے کہ اللہ سے کبھی نا امید نہیں ھونا وہ تمہاری سنتا اور قبول بھی کرتا ھے-
کیا ھم نے اپنے اس محبوب خالق سے کبھی شکر گزاری کے لییئے بھی سجدہ ریز ھونے کے بارے میں کچھ وقت نکالنے کیلیئے سوچا
وہ بھت چاھتا ھے کہ اسکی مخلوق اس سے باتیں کرے دلکی باتیں کریں وہ باتیں جو وہ کسی اور سے نہیں کر سکتا نہیں بتا سکتا آپ یہ سوچیں آپ اپنی والدہ سے دلکی باتیں نہیں کر لیتے تو یہ بتائیں جو خود ہمیں بتا رھا ھے کہ میں ایک ماں سے 70 گنا زیادہ پیار کرتا ھوں اس گارنٹی کے بعد ھم اس کا بھرپور فائدہ نہ اٹھائیں تو یہ ھمادی بد نصیبی نہیں تو اور کیا ھے –
آپ کوشش کرکے تو دیکھیں وہ آپ سے دور نہیں ھے یہ بھی اسی کا فرمان ھے کہ میں تمھاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ھوں
ھم نے کبھی کوشش ہی نہیں کی آپ ایک وقت اللہ سے ملاقات کا ضرور رکھیں اور سب سے بہتر وہ رات کا وقت ھے جب آپ کی اور اللہ کی باتوں میں نہ تو کوئ اور مخل ھو اور نہ ھی آپکی رازو نیاز کی باتیں کوئ دوسرا سنے کسی کو اپنا حال دل سنانے کیلیئے خود بیان کرنا سب سے افضل ھے جیسے کوئ مریض ڈاکٹر کو اپنی تکلیف اپنی زبانی بتائے اس سے بہتر کوئ اور نہیں بیان کر سکتا دوسری بات اللہ تو ھر زبان جانتا ھے وہ تو یہ بھی جانتا ھے ھمارے دل میں کیا ھے- آپ یقیں کریں اللہ اپنی مخلوق سے بہت محبت کرتا ھے یہاں تک کہ جو اسکی مخلوق سے محبت کرتا ھے اللہ اس سے محبت کرتا ھے جو اسکی مخلوق کے لیئے آسانیاں پیدا کرتا ھے اللہ اسکے لیئےآسانیاں پیدا کرتا ھے جو اسکی مشکلات میں آسانیاں پیدا کروانے میں مدد کرتا ھے اللہ اسکی مشکلات دور کرتا ھے -اسی پر کسی شاعر نے کیا خوب کہا ھے کرو مہربانی تم اہل زمیں پر خدا مہرباں ھوگا عرش بریں پر اللہ ھم پر بے پناہ کرم فرمانے والا
انتہائ رحمان رحیم کریم علیم حلیم سمیع بصیر مجیب ستار العیوب وغفار الزنوب
یا زوالجلال ولاکرام یا ارحم الراحمین بھی ھے لیکں آپ یقین کریں
آپ اپنے دلکی تمام باتیں اللہ سے کر کے جو سکون پائیں گے آپنے زندگی میں کبھی تصور بھی نہیں کیا ھوگا کیونکہ کسی اور سے اپنی مشکل بیان کرنا جو خود اپنی مشکل کیلیئے کسی کا محتاج ھو تو اگر ھم خود اپنی عرضداشت اسکے رو برو پیش کریں تو اللہ کو یہ زیادہ پسند بھی آئیگا اور اپنے اس بندے پر پیار بھی آئیگا اور انشاللہ آپکی اللہ سے مزید قربت ھو جائیگی اور تعلق اور مضبوط ھو جائیگا اور آپ با آسانی اللہ سے اپنے دلکا حال بیان کر پائیں گے اور انشا اللہ یہ چند منٹ آپکو ضرور فیضیاب کرینگے للہ ھمیں دین پر چلنے قرآن و حدیث پر عمل کرنے کی توفیق اور استطاعت نصیب فرمائے آمین اور ھمارا تعلق اللہ اور اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اور زیادہ مضبوط ھو جائے آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*