outline
awais-hafeez2

گندا ہے پر دھندہ ہے!۔اویس حفیظ

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کتنی بار ایکپسوز ہوئے ہیں، کتنی بار آپ پر دھوکہ دہی کا مقدمہ چلا ہے، کتنی بار آپ کی بات، تجزیہ اور خبر غلط ثابت ہوئی ہے، ایک بار آپ میڈیا انڈسٹری میں داخل ہو گئے تو سمجھ لیں کہ آپ کو وہ لانڈری مل گئی ہے جہاں سب پاپ دھل جاتے ہیں۔
آپ نے لوگوں کی زمینوں پر قبضے کئے ہوں، ناجائز پلازے تعمیر کئے ہوں، بھتہ لیتے رہے ہوں، غیر قانونی رہائشی اسکیمیں بنائی ہوں یا عمر بھر کسی اور بڑے جرم کا ارتکاب کرتے رہے ہوں، ایک بار آپ ایڈیٹ باکس کی سکرین پر جلوہ افروز ہو گئے تو آپ ایسے ہی ہیں جیسے ابھی آپ کی ماں نے آپ کو جنم دیا۔
تاہم اگر اب بھی آپ کے لئے کوئی خطرہ باقی ہے تو وہ آپ کے پیٹی بھائی ہیں کیونکہ ’’پریس‘‘ کا لیبل لگنے کے بعد آپ خوفِ دنیا و ما فیھا سے بے نیاز ہو جائیں گے، کسی صحافتی تنظیم کی ممبر شپ آپ کے لئے ہر طرح کے تحفظ کے احساس کی مانند ہو گی اور ایکریڈیٹیشن کارڈ ہاتھ میں آتے ہی آپ پولیس، تھانہ، کچہری کو جوتے کی نوک پر لکھیں گے۔ پھر آپ کو یقین ہو گا کہ کوئی آپ کا بال بھی بیکا نہ کر سکے گا۔۔۔ ہاں اب بھی اگر کوئی آپ کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے تو محض آپ کے پیٹی بھائی۔
ظاہری سی بات ہے کہ ایک نیام میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں اسی طرح صحافت کی انڈسٹری کا بادشاہ و ڈان بھی ایک ہی شخص بن سکتا ہے۔ اسی لئے بسا اوقات چینلز کی لڑائی میں ایک کی چونچ اور ایک کی دم غائب ہونا معمول بن چکا ہے۔ ملکی عدالتوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی عدالتوں میں بھی میں ایسے بے شمار کیسز سامنے آئے ہیں جہاں دو میڈیا گروپ آپس میں گتھم گتھا ہوئے۔ ابھی تو دو ماہ کا ہی قصہ ہے کہ برطانوی عدالت نے جیو نیوز کے مالک کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اے آر وائی کو جرمانہ کی سزا سنائی اور برطانیہ میں اس گروپ کے چھ چینلز کی نشریات بند کر دی جس کے باعث دونوں گروپوں میں پیشہ ورانہ چپقلش بامِ عروج کو چھونے لگی تھی۔ اس دوران بہت سے سینئر صحافیوں کی یہ رائے تھی کہ میڈیا کی آپس کی لڑائی عام عوام کے لئے باعث رحمت ثابت ہو گی کیونکہ پہلے جو ایک ادھ میڈیا گروپ کو خرید کر، اس پر دباؤ ڈال کر خبر رکوا لی جاتی تھی، اب یہ ممکن نہ ہو سکے گا مگر اچھا ہوا کہ یہ امیدوں کا یہ محل 28اپریل کو ہی مہندم ہو گیا جب اے آر وائی، بحریہ ٹاؤن اسلام آباد میں ایک گیم شو کا انعقاد کیا جاتا ہے مگر پروگرام کے دوران سیٹ گر جاتا ہے، سینکڑوں (بعض اطلاعات کے مطابق ہزاروں) افراد زخمی ہوتے ہیں، کچھ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں مگر کوئی اخبار، کوئی چینل خبر نہیں دیتا۔
سڑک پر کھڈے کی خبر کو بریکنگ نیوز بنا کر پیش کرنا والا میڈیا جائنٹ ایک انٖڈسٹریلسٹ کے سامنے بھیگی بلی بن جاتا ہے کیونکہ دیو مالائی کہانیوں کی طرح اس میڈیا کے جن کی جان بھی ایک ’’توتے‘‘ میں بند ہے اور اس توتے کا نام ’’ریٹنگ‘‘ یا دوسرے معنوں میں اشتہارات ہیں۔ جس نے اس توتے کو اپنے قبضہ میں کر لیا، اسی نے میڈیا کے اس بے لگام گھوڑے پر سواری کی۔
پھر اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے مخالف کا عمل کتنوں کی جان لینے کا سبب بنا، اس نے کسے کتنا نقصان پہنچایا، پھر آپ کا مطمح نظر محض کاروبار (اشتہارات) ہوتا ہے۔ پھر آپ اس کے لئے ہر حد تک جانے پر تیار ہوتے ہیں، اشتہارات کے لئے کسی کے تلوے چاٹنے پڑیں تو آپ اس سے بھی گریز نہیں کرتے۔ پھر میڈیا کی پالیسی آپ بناتے ہیں اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون کتنا بڑا صحافی ہے، کس کا تحقیقاتی صحافت میں کتنا بڑا نام ہے۔ کس کو سچ سامنے لانے پر کتنے عالمی ایوارڈز مل چکے ہیں، اُس کی جرأت نہیں ہو گی کہ وہ آپ کے سامنے آپ کے دوستوں اور آپ کی اشتہاری پارٹیوں کے خلاف زبان بھی کھول سکے۔ 28اپریل کو جو کچھ اسلام آباد بحریہ ٹاؤن میں ہوا، وہ اس کی واضح مثال ہے کہ کیا مذہبی اور کیا رائٹ، کیا لیفٹ اور کیا پروگریسیو، سبھی افکار کے حامل صحافی صمُٗ بکمُٗ عمُٗ کردار ادا کر رہے ہیں، سب کی زبانیں گنگ رہیں، کسی نے لب کھولنا تو درکنار، لبوں پر جنبش لانے کی بھی جسارت نہیں کی کیونکہ سب کو پتا ہے کہ ملک ریاض ایک بڑی اشتہاری پارٹی ہے، ملک ریاض کے خلاف خبر لگانے کا سیدھا اور صاف مطلب بحریہ ٹاؤن گروپ کے اشتہاروں کی بندش ہے۔ پھر چاہے آپ جیو جیسے چینل سے ہی کیوں نہ وابستہ ہوں کہ جس سے امید کی جا رہی تھی کہ وہ اے آر وائی کی لاگت بازی میں اس چینل کی چھوٹی سے چھوٹی خبر دینے سے بھی گریز نہیں کرے گا مگر یہاں پر اُس کے بھی پر جلنے لگتے ہیں۔ میڈیا اخلاقی اصولوں سے نہیں، ریٹنگ سے چلتا ہے اور ریٹنگ کا معاملہ بھلا گندا ہو مگر حقیقت یہی ہے کہ یہی دھندہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*