تازہ ترین
outline
Featured Video Play Icon

پاکستان کے سپہ سالار ! جنرل میسروی سے باجوہ تک

افواجِ پاکستان میں 95فیصد جوانوں کا تعلق پنجاب اور خیبرپختونخوا کے 7اضلاع سے ہے۔جبکہ بلوچستان اور سندھ کا مجموعی تناسب صرف 5فیصد ہے۔پنجاب میں سالٹ رینج کے تین اضلاع کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں مائیں لفٹین پیدا کرتی ہیں مگر آئیے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ افواجِ پاکستان کے سپہ سالاروں کا تعلق کس علاقے اور برادری سے رہا ہے

اگر قومیت کی بات کی جائے توپاکستان کی بری افواج کو قیادت فراہم کرنے کے اعتبار سے پٹھانوں اور راجپوتوں کو سبقت حاصل ہے ۔پاکستان آرمی کے پہلے دو چیف جنرل میسروی اور جنرل گریسی سفید فام برطانوی شہری تھے جبکہ مجموعی طور پر تیسرے مگر پہلے مقامی سپہ سالار جنرل ایوب خان ترین پٹھان تھے اور ان کا تعلق ضلع ہزارہ سے ہے ۔چوتھے آرمی چیف جنرل موسیٰ خان کا تعلق کوئٹہ کی ہزارہ برادری سے تھا۔پانچویں سپہ سالار آغا یحیٰ خان کا آبائی تعلق تو پنجاب کے ضلع چکوال سے ہے مگر وہ قزالباش پٹھان تھے ۔افواجِ پاکستان کے چھٹے سربراہ جنرل گل حسن پشتون تھے اور کوئٹہ میں پیدا ہوئے مگر ان کی تدفین ضلع نوشہرہ کے علاقے پبی میں ہوئی ۔ ساتویں آرمی چیف جنرل ٹکا خان راجپوت تھے اور ان کا تعلق ضلع راولپنڈی سے ہے۔بری فوج کے آٹھویں سربراہ جنرل ضیاء الحق کا آبائی تعلق ضلع جالندھر سے تھا اور وہ ارائیں تھے ۔ افواجِ پاکستان کے نویں سپہ سالار جنرل مرزا اسلم بیگ اردو سپیکنگ ہیں ،ان کا آبائی تعلق تو اترپردیش کے ضلع اعظم گڑھ سے ہے مگر ہجرت کے بعد ان کا خاندان کراچی میں آباد ہوا۔دسویں آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کا تعلق ضلع جہلم سے ہے اور وہ راجپوت تھے ۔پاک فوج کے گیارہویں سربراہ جنرل عبدالوحید کاکٹر پشتون ہیں اور ان کا تعلق پشاور سے ہے ۔بارویں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت ککے زئی پٹھان ہیں اور ان کاتعلق لاہور سے ہے ۔13ویں سپہ سالار جنرل پرویز مشرف بھی جنرل اسلم بیگ کی طرح اردو سپیکنگ ہیں اور ان کی فیملی قیام پاکستان کے وقت دہلی سے ہجرت کرکے کراچی منتقل ہوئی۔بری فوج کے 14ویں سربراہ جنرل ضیاء الدین جو فوجی بغاوت کے باعث آرمی چیف کا عہدہ صرف پانچ گھنٹے ہی سنبھال سکے ،ان کا تعلق بٹ برادری سے ہے ،یہ کشمیری ہیں اورلاہور میں قیام پذیر ہیں۔15ویں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کا تعلق ضلع راولپنڈی کی تحصیل گوجر خان سے ہے اور جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کیانی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔پاکستان کے16ویں سپہ سالار جنرل راحیل شریف راجپوت ہیں اور ان کا تعلق ضلع گجرات سے ہے۔موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا تعلق ضلع گوجرانوالہ کے علاقے گکھڑ منڈی سے ہے اور ذات کے اعتبار سے جٹ ہیں۔

افواجِ پاکستان کے صرف 5سربراہ ہی ایسے ہیں جو سنیارٹی کی بنیاد پر آرمی چیف بنے جبکہ باقی سب آرمی چیف سینئر جرنیلوں کو سپر سیڈ کرکے آگے آئے۔جنرل ٹکا خان ،جنرل اسلم بیگ ،جنرل جہانگیر کرامت ،جنرل ضیاالدین بٹ اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کی تقرری سنیارٹی کی بنیاد پر ہوئی

جنرل ایوب خان پاک فوج کے سربراہ بنے تو میجر جنرل اکبر خان اور میجر جنرل NAMرضا سپر سیڈ ہوئے۔ایوب خان نے میجر جنرل شیر علی خان پٹودی ،میجر جنرل لطیف خان اور میجر جنرل آدم خان کو نظر انداز کرکے جنرل موسیٰ خان کو آرمی چیف بنایا ۔جنرل یحیٰ خان کی باری آئی تو لیفٹیننٹ جنرل الطاف قادر اور لیفٹیننٹ جنرل بختیار رانا سپر سیڈ ہوئے ۔جنرل گل حسن کے آرمی چیف بننے پر جنرل ٹکا خان سپر سیڈ ہوئے ۔بھٹو نے 7جرنیلوں کو سپر سیڈ کرکے جنرل ضیا الحق کو آرمی چیف لگایا ۔آصف نواز جنجوعہ کی تعیناتی کے وقت جنرل شمیم عالم خان سپر سیڈ ہوئے ۔عبدالوحید کاکٹر کو 4سینئر جرنیلوں پر ترجیح دیکر سپہ سالار بنایا گیا۔نوازشریف نے جنرل علی قلی خان اور جنرل خالد نواز کو سپر سیڈ کرکے جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف بنایا ۔جب راحیل شریف سپہ سالار بنے تو جنرل ہارون اور راشد محمود سپر سیڈ ہوئے ۔موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سنیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر تھے ،سینئر موسٹ جنرل زبیر محمود حیات کو چیئر مین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی بنادیا گیا مگر جنرل اشفاق ندیم اور جنرل جاوید اقبال رمدے سپر سیڈ ہوئے


افواجِ پاکستان کے 17سپہ سالاروں میں سے 5آرمی چیف اپنی مدت ملازمت سے زائد عرصہ اس عہدے پر موجود رہے۔جنرل ایوب خان16جنوری1951ء کو 4سال کے لیئے آرمی چیف مقرر ہوئے مگر بار بار توسیع کے باعث انہوں نے26اکتوبر1958ء تک آرمی چیف کا عہدہ سنبھالے رکھا۔چوتھے آرمی چیف جنرل موسیٰ خان کی مدت ملازمت میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے 4سال کی توسیع کی۔جنرل یحیٰ خان کی بطور آرمی چیف مدت ملازمت ختم ہونے لگی تو انہوں نے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے طور پر اپنی مدت ملازمت میں توسیع کی فائل پر دستخط کر دیئے۔1973ء کے آئین میں آرمی چیف کی مدت ملازمت چار سال سے گھٹا کر تین سال کر دی گئی ۔جنرل ضیا الحق 02مارچ1976ء کو تین سال کے لیئے آرمی چیف تعینات ہوئے مگر منتخب حکومت کا تختہ اُلٹنے کے بعد وہ بطور صدر خود ہی اپنی مدت ملازمت میں اضافہ کرتے رہے۔جنرل پرویز مشرف نے بھی اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے عنان اقتدا رسنبھالی تو اپنی مدت ملازمت ازخود بڑھاتے چلے گئے۔جنرل اشفاق پرویز کیانی وہ واحد آرمی چیف ہیں جنہیں کسی سول حکومت نے ایکسٹینشن دی ۔

افواجِ پاکستان کے6 سپہ سالار حادثاتی طور پر اپنے عہدوں سے الگ ہوئےجنرل یحییٰ خان ازخود توسیع تو لے چکے تھے مگر مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کے بعد انہیں یہ عہدہ چھوڑٖنا پڑا۔بھٹو دور میں جنرل گل حسن خان سے گن پوائنٹ پر استعفیٰ لے لیا گیا۔جنرل ضیا الحق طیارہ تباہ ہونے کے باعث چل بسے،جنرل آصف نواز دل کا دورہ پڑنے سے دوران سروس فوت ہوگئے،جنرل جہانگیر کرامت کو متنازعہ سیاسی بیان پر گھر جانا پڑا جبکہ جنرل ضیا الدین بٹ فوجی بغاو ت کے باعث معزول ہو گئے

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*