outline

ٹھگی آجکل-بلال غوری

مبارک ہو آپ کو ۔آپ کا یہ نمبر بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ ہے اور ادارے کی طرف سے آپ کے لیئے 25000روپے بھجوائے گئے ہیں ۔رقم وصول کرنے کے لیئے اس نمبر پر رابطہ کریں ۔اس سے ملتے جلتے ایس ایم ایس آپ سب کو آتے ہوں گے مگریہ سلسلہ محض پاکستان تک محدود نہیں، معصوم اور سادہ لوح لوگوں کے جذبات سے کھیلنے والے ٹھگ پوری دنیا میں موجود ہیں۔چند روز قبل ہی مجھے بنک آف گھانا کے آپریشنز منیجر کی طرف سے ایک رازدارانہ ای میل موصول ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ ان کے بنک کے ایک کھرب پتی کھاتہ دار ایک حادثے میں مارے گئے ہیں ۔ان کے اکاؤنٹ میں 6.4ملین ڈالر کی رقم موجود ہے ۔چونکہ ان کا کوئی حقیقی وارث نہیں مل رہا ،اس لیئے بنک نے یہ ذمہ داری مجھے تفویض کی ہے کہ میں ان کے کسی رشتہ دار کو ڈھونڈ کر یہ رقم اس کے سپرد کروں ۔اگر چھ ماہ میں یہ رقم وصول نہ کی گئی تو بنک کے قوانین کے مطابق یہ رقم ضبط کرلی جائے گی۔مجھے آپ انتہائی معقول اور قابل بھروسہ انسان لگے ہیں اس لیئے میں نے آپ سے رابطہ کیا ہے اگر آپ حامی بھریں تو میں تمام کاغذات مکمل کرکے یہ رقم آپ کے کاؤنٹ میں منتقل کر سکتا ہوں ۔جب رقم منتقل ہو جائے تو آپ اس میں سے صرف 20فیصد مجھے دیدیں ۔میں نے اس ای امیل کو فضول سمجھ کر نظر انداز کر دیا اور شاید ہر معقول انسان ایسا ہی کرتا ہے۔

یہ اس نوعیت کی کوئی پہلی یا آخری پیشکش نہیں بلکہ آئے روز اس طرح کی آفرز ہوتی رہتی ہیں۔کبھی کوئی خوبرو دوشیزہ ان دل موہ لینے والے الفاظ کے ساتھ رابطہ کرتی ہے کہ میں نے آپ کی پروفائل دیکھی تو لگا شاید آپ ہی ہیں جن کی مجھے تلاش تھی۔میرے والد امریکی فوج میں افسر تھے اور عراق جنگ کے دوران لڑائی میں مارے گئے ۔اب اس بھری دنیا میں میرا کوئی نہیں۔میرے باپ نے نائیجریا کے ایک بنک میں 4.5ملین ڈالر کی رقم جمع کروائی تھی ۔ان کی وصیت کے مطابق یہ رقم میں اکیلے وصول نہیں کر سکتی ۔مجھے کوئی گارڈین درکار ہے ۔اگر آپ میرا ساتھ دیں تو میں متعلقہ بنک کو آپ کا نام تجویز کر دوں۔ایک مرتبہ یہ رقم آپ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو جائے تو میں آپ کے ملک میں آجاؤں گی اور جہاں آپ کہیں گے وہیں رہوں گی۔ایسی چکنی چپڑی باتیں سن کر بھلا چنگا آدمی لٹو ہو جاتا ہے اور سوچتا ہے اوپر والے نے کیسی قسمت کھولی ہے ۔اربوں روپے بھی مل رہے ہیں اور ساتھ میں ایسی حسین و جمیل خاتون بھی۔

کچھ دن ہوتے ہیں جنوبی افریقہ سے ایک بیرسٹر صاحب نے بذریعہ ای میل رابطہ کیا۔پہلے تو مدعا بیان کیا کہ وہ ایک بہت بڑی فرم کے قانونی مشیر ہیں ۔کچھ دن پہلے ملائیشیا کا جو طیارہ لاپتہ ہوا تھا اس میں ان کی کمپنی کے مالک بھی اپنی بیوی بچوں سمیت موجود تھے۔اب چونکہ وہ اپنے اہل و عیال سمیت فضائی حادثے میں مارے گئے ہیں تو نہ صرف انشورنس کی مد میں 3.2ملین ڈالر مل سکتے ہیں بلکہ ان کے ذاتی بنک اکاؤنٹس میں جو 6.8ملین ڈالر کی خطیر رقم پڑی ہے اس کا بھی کوئی وارث موجود نہیں ۔اگر آپ چاہیں تو میں تمام قانونی تقاضے پورے کرکے یہ رقم آپ کے اکاؤنٹ میں منتقل کر سکتا ہوں۔آپ نے کچھ نہیں کرنا بس فیس کی مد میں اس رقم کا 25فیصد حصہ مجھے دینا ہے اور وہ بھی رقم آپ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہونے کے بعد۔اور آخر میں بیرسٹر صاحب اس عنایت خسروانہ کے لیئے اس بندہ ناچیز کے انتخاب کی وجوہات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں لوگوں کی آنکھوں میں جھانک کر ان کے کردار کو بھانپ لیتا ہوں ۔کئی دنوں سے مختلف ممالک کے لوگوں کی پروفائلز دیکھ رہا تھا جب آپ کی تصویر نظروں سے گزری تو لگا کہ یہی وہ سچا اور کھرا انسان ہے جس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ایک مرتبہ تو اپنے بارے میں ایک اجنبی کے تاثرات سن کر فرط جذبات سے میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور سوچا کہ کیوں نہ یہ ای امیل اپنی بیوی کو بطور سند پیش کروں جو ہمیشہ مجھ پر شک کرتی ہے اور ہر وقت موبائل چیک کرتی رہتی ہے۔لیکن پھرمجھے امریکی گلوکار اور موسیقار،سٹیو ونڈرکا قول یاد آیا کہ آنکھیں بھی جھوٹ بولتی ہیں تب جب کسی کا کردار جانچنے کے لیئے اس کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کی جائے۔تب میں نے یہ سوچ کر اس پیشکش کو مسترد کر دیا کہ یا تو میری آنکھیں جھوٹ بولتی ہیں یا پھر یہ شخص بکواس کر رہا ہے۔

اسی طرح ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرف سے بھی جعلی ای میلز آتی ہیں جن میں خوشخبری دی جاتی ہے کہ آپ کا یہ اکاؤنٹ قرعہ اندازی کے ذریعے دس ارب روپے کے بمپر پرائز کے لیئے منتخب کر لیا گیا ہے اور آپ انعامی رقم حاصل کرنے کے لیئے رابطہ کریں۔کبھی کسی غیرملکی ادارے کی طرف سے بتایا جاتا ہے کہ آپ کی لاٹری لگ گئی ہے اور آپ دس ارب روپے جیت چکے ہیں۔بندہ معقولیت سے کام لے اور یہ سوچے کہ جب میں نے کبھی لاٹری کا ٹکٹ ہی نہیں لیا تو انعام کیسے نکل آیا ۔لیکن بہت سے سادہ لوح اور معصوم لوگ جو کسی خاص ذہنی کیفیت میں مبتلا ہوتے ہیں، ان ٹھگوں کے جھانسے میں آجاتے ہیں اور ان کی چکنی چپڑی باتوں کو سچ سمجھ بیٹھتے ہیں۔میں نے ایسی فضول پیشکشوں کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا ۔

لیکن اب ٹھگ بازی کے اس رجحان نے ادارہ جاتی شکل اختیار کرلی ہے اوروفاقی وزرا نہایت بھونڈے طریقے سے عوام کو بے وقوف بنانے لگے ہیں ۔اگر آپ اپنے چودہ طبق روشن کرنا چاہتے ہیں،ہنس ہنس کر پاگل ہونے کی خواہش رکھتے ہیں تو آبی وسائل کے وفاقی وزیر فیصل واڈا کے تازہ ترین بیان کی ویڈیو ملاحظہ فرمالیں۔ان کا فرمان عالیشان ہے کہ ہفتے دس دن میں کایا کلپ ہونے والی ہے ،ملازمتوں کی برسات بلکہ بوچھاڑ ہونے کو ہے ،اتنی نوکریوں ہوں گی کہ ملازمت کرنے والے نہیں ملیں گے ،کیلے کی چھابڑی والا بھی کہے گا مجھ سے ٹیکس لے لیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو میری تکہ بوٹی کر دیں ۔تکہ بوٹی کرنے کی تو کسی قانون میں گنجائش موجود نہیں لیکن اس وزیر بے تدبیر کے خلاف جان لیوا مذاق کے ذریعے عوام کے جذبات سے کھیلنے کا مقدمہ ضرور درج ہونا چاہئے۔امریکی مصنف اور فلاسفر البرٹ ہوبرڈنے کہا تھا کہ ہر شخص روزانہ کم از کم پانچ منٹ کے لیئے بے وقوف بنتا ہے مگر عقلمندی یہ ہے کہ بیوقوفی کا دورانیہ بڑھنے نہ پائے ۔کیا خیال ہے اس بار ہمارے بے وقوفی کا دورانیہ کچھ زیادہ نہیں بڑھ گیا ؟غریب عوام تو ہمیشہ سے بیوقوف بنتے آئے ہیں مگر پی ٹی آئی کا کمال یہ ہے کہ اس بار بھلے چنگے پڑھے لکھے لوگ بھی ماموں بن گئے

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

بشکریہ روزنامہ جنگ

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*