تازہ ترین
outline

شی جن پنگ تاحیات صدر ہونگے ،چینی کانگرس نے منطوری دیدی

چین کے صدر شی جن پنگ اب چین کے تاحیات صدر ہونگے کیونکہ چین کی اکلوتی جماعت کانگرس پارٹی نے اس پابندی کو ختم کر دیا ہے جس کی رو سے شی جن پنگ اپنی موجودہ مدت ختم ہونے کے بعد چین کے صدر نہیں بن سکتے تھے

چین کی حکمران جماعت نیشنل پیپلز کانگریس کا اجلاس شروع ہوا تو کل 2964 ارکان پر مشتمل اس ادارے کے دو ارکان نے اس تبدیلی کے خلاف ووٹ دیا، جب کہ تین نے رائے شماری سے اجتناب کیا۔

چین میں سنہ 1990 کے بعد سے صدر کے عہدے کی میعاد مقرر ہے، تاہم صدر شی نے روایت کے برخلاف اکتوبر میں ہونے والے کمیونسٹ پارٹی کانگریس میں اپنے جانشین کا اعلان نہیں کیا۔

اس کی بجائے انھوں نے اپنی سیاسی قوت کو تقویت دینے پر توجہ مرکوز رکھی اور پارٹی نے ان کے نام اور سیاسی آئیڈیالوجی کو آئین کا حصہ بنانے کے لیے ووٹ دیا۔ اس طرح شی جن پنگ کا مرتبہ پارٹی کے بانی ماؤ زے تنگ کے برابر ہو گیا ہے۔

فروری کے اواخر میں پارٹی نے چین کے آئین سے یہ حد ختم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ صدر شی کے عہدے کی مدت سنہ 2023 میں ختم ہو رہی ہے۔

کانگریس بظاہر چین کا سب سے طاقتور قانون ساز ادارہ ہے اور اس کی حیثیت دوسرے ملکوں کے پارلیمان کی طرح ہے لیکن عملی طور پر اسے ‘ربر سٹامپ’ ادارے کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اسے جو کہا جائے، وہ منظور کر دیتی ہے۔

اگرچہ چین میں اظہار رائے کی آزادی نہ ہونے کے سبب لوگ کھل کر رائے کا اظہار کرنے سے ڈرتے ہیں اور یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کون مقبول ہے اور کون غیر مقبول مگر اس فیصلے پر بعض افراد کی جانب سے تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے

ایک سرکاری اخبار کے سابق مدیر لی داتونگ نے کہا کہ صدر اور نائب صدر کے عہدے کی حد ختم کرنے سے انتشار جنم لے گا۔ انھوں نے یہ خط نیشنل کانگریس کے بعض ارکان کو بھیجا ہے۔

انھوں نے بی بی سی چائنا کو بتایا: ‘میں اسے مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ میں اپنے دوستوں سے بات کر رہا تھا اور ہمیں اس پر سخت غصہ ہے۔ ہمیں اپنی مخالفت کی آواز اٹھانا ہو گی۔’

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*