outline

این آر او-خورشید ندیم

کیا دلچسپ سیاست ہے! سارا نظام ہی این آر او پر کھڑا ہے اور سب سے زیادہ مذمت بھی این آر او کی ہو رہی ہے۔

محبت بری ہے، بری ہے محبت
کہے جا رہے ہیں، کیے جا رہے ہیں

این آر او سیاست کی مجبوری ہے۔ اگر آج بھی معاملات طاقت ہی سے حل ہونے ہیں تو پھر بادشاہت سے جمہوریت اور قبائلی معاشرت سے جدید ریاست کا سفر، عمرِ رائگاں کا ماتم ہے، اس کے سوا کچھ نہیں۔

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب مشرقی پاکستان بحران کی زد میں تھا۔ فوجی آپریشن کی باتیں ہو رہی تھیں۔ جنرل ٹکا خان کا مشہور تبصرہ ہے کہ اگر بیس پچیس ہزار افراد مار دینے سے ‘امن‘ آ سکتا ہے تو یہ بُرا سودا نہیں۔ اس پس منظر میں جنرل یحییٰ خان ڈھاکہ پہنچے اور گفتگو کے لیے سیاسی جماعتوں کی قیادت کو مدعو کیا۔ ان میں جماعت اسلامی ڈھاکہ کے امیر خرم مراد مرحوم بھی شامل تھے۔ انہوں نے اس مجلس کی روداد اپنی کتاب ‘لمحات‘ میں بیان کی ہے۔ خرم صاحب نے جنرل صاحب سے کہا: ”اگر طاقت سے معاملات طے ہوتے تو اللہ تعالیٰ پیغمبروں کے بجائے، آسمان سے فیلڈ مارشل نازل کرتا۔‘‘ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ جنرل صاحب کو یہ بات اچھی نہ لگی۔

شکایت کہاں نہیں ہوتی اور اختلاف کس سماج میں نہیں ہوتا؟ کیا مہذب معاشروں میں مذاکرات اور مکالمے کا باب بند کر دیا جاتا ہے؟ عمران خان صاحب نے صرف چھ ماہ میں ہاتھ اٹھا دیے۔ کاش انہوں نے ریاست مدینہ کو سمجھا ہوتا۔ کاش اُن کے قریبی حلقے میں کوئی ایک تو ایسا ہوتا جسے مذہب، تاریخ اور سماجی علوم سے دلچسپی ہوتی۔ یثرب کو صرف ایک قوت نے مدینہ بنایا۔ یہ رسالت مآبﷺ کا صبر ہے۔ ایسا داخلی انتشار اور ایسے خارجی چیلنج کہ عام آدمی کا زہرہ آب ہو جائے۔ اللہ کے پیغمبر نے غیر معمولی صبر اور حکمت کے ساتھ مسائل پر قابو پایا۔ عبداللہ ابن ابی جیسے مخالفین کو اپنی بصیرت سے غیر موثر بنایا۔ معیشت کو تدریجاً اپنے پاؤں پر کھڑا کیا۔ خارجی محاذ پر بھی برسرِ پیکار رہے۔ محض چھ ماہ میں بے بسی کا اظہار، ریاست مدینہ کے ماڈل سے عدم واقفیت کی دلیل ہے۔

بہادری مسائل کو جنم دینے کا نہیں، انہیں حل کرنے کا نام ہے۔ معاشرے انہی لوگوں نے تبدیل کیے ہیں‘ جنہیں صبر اور حکمت سے نوازا گیا۔ آج 11 فروری ہے۔ انقلابِ ایران کی سالگرہ۔ ایران کا انقلاب، نتائج سے قطع نظر، ایک غیر معمولی تبدیلی تھی۔ چالیس سال پہلے، آج ہی کے دن دنیا ایک آدمی کو با وقار انداز میں جہاز سے اترتا دیکھتی ہے، جس کی ایک جھلک دیکھنے کو مخلوقِ خدا امڈ آئی ہے۔ یہ لمحہ اچانک نہیں آیا۔ یہ اُس آدمی کی طویل جدوجہد اور جلا وطنی کا حاصل تھا۔ ہیجان سے انتشار تو پیدا کیا جا سکتا ہے، تعمیر نہیں ہو سکتی۔ تعمیر اہلِ صبر کا کام ہے۔

آج ملک میں سیاسی پراگندگی ہے اور سماجی بھی۔ حکومت کو معاشی صورت حال کا ادراک ہے، سماجی و سیاسی حالات کا نہیں۔ معاشی حالات کا ادراک بھی بس اس حد تک ہے کہ سنگین ہیں۔ رہا علاج تو ابھی تک یہ واضح نہیں کہ طریقہ علاج کیا ہو گا۔ حکومتی حلقوں میں دور دور تک اس کی کوئی تفہیم نہیں کہ معیشت سماج سے جڑی ہوتی ہے۔ سیاسی و سماجی استحکام کے بغیر معیشت کا پہیہ نہیں چل سکتا۔

این آر او کو آج جس طرح ایک گالی بنا دیا گیا ہے، یہ سیاسی حرکیات سے نا واقفیت کا اظہار ہے۔ حکومت، غیر سیاسی رویے کے باعث، خود پر وہ تمام دروازے بند کرتی جا رہی ہے‘ جہاں سے اسے آگے بڑھنے کا کوئی راستہ مل سکتا تھا۔ کرپشن پر غیر حکیمانہ اصرار پہلی غلطی تھی۔ دوسری غلطی این آر او کو گالی بنانا ہے۔ اب اگر وہ اپوزیشن کی طرف مفاہمت کا کوئی قدم اٹھائے گی تو خود اس کا موقف اس کے راستے کی دیوار بن جائے گا۔ مفاہمت ہر سیاسی نظام کی پہلی ضرورت ہے۔ اس سے صرفِ نظر ہر دن اسے ایک نئے بحران کے سامنے لا کھڑا کرے گا۔ یہاں بحران پیدا کرنے کو بہادری سمجھا جا رہا ہے۔
بے نظیر بھٹو مشرف کے ساتھ این آر او نہ کرتیں تو سیاسی عمل آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔ معاملات جب غیر معمولی الجھاؤ کا شکار ہو جائیں تو اصلاح کے لیے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس پر بات ہو سکتی ہے کہ این آر او کی شرائط کیا ہوں‘ لیکن اس کی اہمیت سے کوئی سیاسی قوت انکار کیسے کر سکتی ہے؟ این آر او کا مطلب ایک ایسے باہمی معاہدے تک پہنچنا ہے‘ جو سیاسی سفر کو ہموار بنا دے۔ این آر او اِس وقت اپوزیشن سے زیادہ حکومت کی ضرورت ہے۔ حکومت کو کارکردگی دکھانی ہے اور یہ سیاسی و سماجی استحکام کے بغیر ممکن نہیں۔

مہنگائی کے باعث عوام کا اضطراب بڑھ رہا ہے۔ ملک میں معاشی سرگرمی نہیں ہو گی تو خارجی قوتوں پر انحصار بڑھے گا۔ یہ انحصار پاکستان کو نئے مسائل سے دوچار کر دے گا۔ ذمہ دار صرف حکومت کو ٹھہرایا جائے گا۔ پارلیمنٹ غیر موثر ہو گی تو بھی حکومت ہی ذمہ دار قرار پائے گی۔ اس وقت اپوزیشن کو کچھ نہیں کھونا۔ اگر کچھ کھونا ہے تو بھی حکومت نے اور اگر پانا ہے تو بھی حکومت نے۔

سماج کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر حکومت کا کوئی واضح موقف نہیں۔ اسے کچھ خبر نہیں کہ چیلنجوں سے کیسے نمٹنا ہے۔ وہ تو یہ بھی نہیں جانتی کہ سکیورٹی کے مسائل کو کیسے حل کرنا ہے۔ سانحہ ساہیوال کے حوالے سے بھی دکھائی یہ دیتا ہے کہ حکومت اپنا معاملہ نہیں سمجھ رہی۔ بظاہر ان معاملات کو کسی اور کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ‘کوئی اور‘ ظاہر ہے کہ اپنے مفادات کے تناظر میں معاملات کو دیکھے گا۔ نتیجہ لیکن حکومت ہی کو بھگتنا ہو گا۔ اس پس منظر میں سیاسی قوتوں سے مفاہمت حکومت کی اپنی ضرورت ہے۔

نواز شریف کا مقابلہ عمران خان سے نہیں ہے۔ اس لیے این آر او نواز شریف کیلئے تو زہرِ قاتل ہے۔ یہ ان کی ضرورت ہے جو اقتدار کی سیاست کر رہے ہیں۔ یہ عمران خان، شہباز شریف، آصف زرداری کی ضرورت ہے۔ یہ سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے ضروری ہے۔ عمران خان صاحب اقتدار کی سیاست کر رہے ہیں۔ 2014ء سے وہ مختلف دیدہ اور نادیدہ قوتوں سے این آر او کرتے آئے ہیں۔ ان کے حامی بھی اب اعلانیہ مان رہے ہیں کہ وہ محکمہ زراعت کی تائید کے بغیر وزیر اعظم نہیں بن سکتے تھے۔ پھر لندن پلان، کیا این آر او نہیں تھا؟

پہلے تمام این آر او اقتدار تک پہنچنے کے لیے کیے گئے تھے۔ اگر اب اقتدار بچانے کے لیے این آر او کیا جائے گا تو اس میں نئی بات کیا ہو گی؟ اس این آر او کا لیکن یہ اضافی فائدہ ہو سکتا ہے کہ ملک کی سیاست میں استحکام آ جائے گا جو آج عمران خان صاحب ہی کی نہیں، ملک کی بھی ضرورت ہے۔ اگر حکومت سیاسی و سماجی استحکام کے لیے دیگر سیاسی قوتوں سے اعلانیہ این آر او کرتی ہے‘ جس میں احتساب اور سیاسی عمل کو ایک ساتھ آگے بڑھایا جائے تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ حکومت کو پہنچے گا۔

تاثر یہ ہے کہ حکومت کا دائرہ کار سمٹ رہا ہے۔ وہ بیساکھیوں کے سہارے چل رہی ہے۔ یہ تاثر حکومت کے لیے خطرناک ہے۔ سیاسی قوت کا اصل مرکز پارلیمان ہے۔ حکومت کو یہاں اپنی حمایت میں اضافہ کرنا چاہیے۔ سیاسی کے بجائے غیر سیاسی قوتوں پر حکومتی انحصار اس کی ساکھ کے لیے نیک شگون نہیں۔ اگر وہ کسی احتجاج کا مسئلہ حل نہیں کر سکتی، اگر سانحہ ساہیوال اس کے ہاتھ میں نہیں تو پھر حکومت کس کام کی؟

اس پر مستزاد خان صاحب کا لب و لہجہ۔ ان کا صبر چھ ماہ میں جواب دے گیا۔ اب وہ طاقت سے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ جمہوریت میں طاقت بے مہار نہیں ہوتی۔ یوں بھی مذہب میں طاقت سے مسائل حل ہوتے تو تبکیغ کا راستہ اختیار نہ کیا جاتا۔ انسان بادشاہت سے جمہوریت کی طرف نہ آتا۔ حکومت غیر سیاسی رویے کے باعث اپنے لیے سب دروازے بند کرتی جا رہی ہے۔ این آر او کرتی ہے لیکن یہ نہیں جانتی کہ کس سے کرنا چاہیے

بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*